Wed, September 16, 2026

 حمیرا اصغر.... سوشل میڈیا لاشوں کو فروخت نہ کرے

 حمیرا اصغر.... سوشل میڈیا لاشوں کو فروخت نہ کرے

شہرت کی بھوک.... پیسے کی روانی.... فوٹو شوٹس.... اداکاری.... ماڈلنگ.... جو نہیں دیوانہ وہ بھی دیوانہ.... سب کی محبتوں کاشکار یہ خوبصورت اداکارائیں.... کہتے ہیں کہ یہ بولیں تو پھول برسیں.... دن رات روشنیوں میں زندگی بسر کرنے والے یہ جوان چہرے ٹی وی سکرین سے سوشل میڈیا تک پھیلتی ان کی ادائیں بکھیرنے والوں کااس قدربرا انجام.... ایک دفعہ تو روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں لاہور کی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش اس کے کمرے سے ملی.... پولیس ذرائع کے مطابق یہ چھ یا نو ماہ پرانی لاش ہے۔ اب اس اداکارہ کے کیا مالی مسائل تھے کیا گھریلو پریشانیاں تھیں، کیا اس کو زندہ قتل کیا گیا، کیا اس نے خودکشی کی۔ کہاں وہ پیسہ کمانے کی مشین، کہاں وہ اپنے فلیٹ کا کرایہ نہیں دے پا رہی تھی۔ مالک مکان نے اس کے فلیٹ کی بجلی کاٹ دی۔ عدالت میں کیس کر دیا۔ یہی نہیں اس سے بڑھ کر کیا المیہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کس طرح موت آئی یا موت دی گئی پہلے اس کی لاش کو اس کے والد اور بھائی نے لینے سے انکار کر دیا،پھرجب سوشل میڈیا پر شور اٹھا تو گھر والے آئے اور اس کو لحد میں اتاراکیا نفرتوں میں ہم اس قدر بے حس ہو گئے کہ اپنی ہی جنی اولاد کو چاہے اس نے کتنی ہی گستاخیاں کی ہوں.... معافی بھی تو ایک حق ہے اس ناتے معاف کرکے اس کے مردہ جسم کو کفن پہنا کر سپردخاک تو کردواور پھرآپ نے ایسا ہی کیا جب وہ پیدا ہوئی تو کتنے نازوں سے اس بات نے اس کو پالنہار بن کر اس کی خدمت کی ہوگی.... اس کے کتنے ارمانوں کے ساتھ خواہشات کو پورا کیا ہوگا....
جب وہ ننھی سی پری تھی.... جب وہ سب کی آنکھوں کا تارا تھی۔ 
جب وہ سکول جایا کرتی تھی.... جب ہر کوئی اپنی بانہوں کو جھولا بنا کر اس میں جھولتی تھی....
جب وہ بڑی ہوئی ہوگی....
تو اسی باپ نے دن رات کرکے اس کو پڑھایا لکھایا ہوگا.... اس کی خواہشات کی تکمیل کی ہوگی اور پھر اس کی خواہش پر لاکھ دل میں ناراضگیاں لے کر اس کو شوبز کی دنیا میں بھیجا ہوگا.... اور ڈراموں میں اس کی اداکاری دیکھ کر دوسروں کو بتایا ہوگا کہ یہ میری بیٹی ہے اور آج اسی لاڈلی بیٹی کو دفن کرنے کا وقت آیا تو سنگ دل باپ اور بھائی نے اپنے ہی لہو کو لحد کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ مانتے ہوئے بھی کہ اولاد سے غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں.... قتل تک کو معاف کر دیا جاتا ہے مگر بے حس معاشرے کے بے حس باسیوں سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔ 
یہ کراچی شہر میں دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اداکارہ عائشہ کی بھی موت فلیٹ میں ہوئی جہاں وہ کئی سال سے اکیلی رہ رہی تھیں پھر کئی دنوں کے بعد جب ان کے فلیٹ کا دروزہ توڑا گیا تو وہ زندگی کی بجائے موت سامنے کھڑی تھی۔ اب ان کے ساتھ کیا ہوا بعد میں کئی بیانات کے بعد تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی کہ عائشہ کو قتل کیا گیا، انہوں نے خودکشی کی ۔ یہ معمہ ہے جو کبھی حل نہ ہو پائے گا۔ اس سے قبل کئی اداکاراﺅں کے نصیب میں قتل، خودکشی یا دوسرے گھریلو معاملات تھے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں ایک ایک ٹک ٹاکر کو قتل کر دیا گیا.... اور اب حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش سامنے آ گئی.... حمیرا اصغر کے بارے بدقسمت اداکارہ کی لاش کا اس وقت پتہ چلا جب عدالتی حکام پر پولیس اداکارہ سے فلیٹ خالی کرانے پہنچی۔ اس کا مطلب ہے کہ کئی ماہ تک پڑی لاش کے بارے کسی کو علم نہ ہو سکا۔ کیا ہمسائے بھی اتنے غافل تھے کہ دن رات صبح سویرے فلیٹ کے اندر باہر آنے جانے والی حمیرا کئی دنوں سے غائب ہے پھر یہ کئی دن مہینوں میں بدل جاتے ہیں۔ مالک مکان بار بار عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہا تھا وہ بھی یہ نہ جان سکا کہ اس کی کرایہ دار کئی ماہ سے نظر نہیں آ رہی یا محلے والوں نے اس کو اطلاع نہیں دی.... اب یہ میرے سولات ہیں جن کے بارے میں کوئی بھی نہیں بول رہا.... اب قانون کیا راستہ اختیار کرتا ہے یہ آپ سب کے علم میں ہے کہ یہاں لاکھوں کیس کچھ عرصہ میڈیا اور پولیس کی نظروں میں رہتے ہیں اور پھر ان کو دفتر داخل کر دیا جاتا ہے اور یہ کیس بھی دفتر داخل کر دیا جائے گا۔ 
کہتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ گزرے لمحات بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ حمیرا کی ہم عصر اداکاراﺅں نے بھی اس کی کمی محسوس کرتے ہوئے اس کے فلیٹ کا چکر نہیں لگایا.... جہاں تک اس کے والدین کالاش لینے سے انکارتھا اب یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اختلافات کے تناظر میں حمیرا کے والدین نے اس کی زندگی ہی میں لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔ یہاں حمیرا کا ایک انٹرویونظروں سے گزرا جس میں اس نے کہا تھا کہ میرے والد نہیں چاہتے کہ میں شوبز کی چکاچوند دنیا میں قدم رکھوں۔ ظاہر ہے جب کوئی یہ ٹھان لیتا ہے کہ میں نے یہ کام کرنا ہے تو پھر وہ تمام خاندانی رشتے ناتے توڑ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک نہیں کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ جو والدین نہیں چاہتے ان کی بیٹیوں نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا۔ شہرت، دولت، عزت سب کچھ تو پا لیا مگر نایاب والدین ہمیشہ کے لئے کھو دیئے.... اب اتنی بھی کیا سنگدلی کے بیٹی کے گناہوں کو معاف تک نہ کیا جائے.... کیا والدین اتنے پتھر دل ہو سکتے ہیں۔ چلیں اپنا انا کی خاطر نہ سہی خدا کے واسطے اس کو معاف کر دیں.... یہ کیسی موت ہے جس سے نہ ماں نہ باپ نہ بھائی کا دل پگھلا.... والدین نے بھی تو خدا کے حضور جواب دینا ہے۔ دنیا تو آپ نے جو کمانی تھی کما لی اب آخرت بھی سنوار لیں....
یہ شہرت بھی کیا بری بلا کا نام ہے.... فالوورز، ویوز.... لایکس.... پیغامات.... یہ سب چیزیں پالنے والی ہر خاتون کی خواہش بن گئی بلکہ یہ تو روز اول سے ہمارے معاشرتی زوال اور اخلاقی پستی کی خوفناک تصویر ہے جسے ہم آئے روز اخبارات، چینلز اور سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا میڈیا خاص کر سوشل میڈیا اس لاش کو چند دن تک بری طرح فروخت کرتا ہے اور بعض تو اخلاقی حدیں توڑتے ہوئے خاندانی معاملات کو بھی اچھال کر مزید پریشانیاں پیدا کرتے ہیں۔ کم از کم سوشل میڈیا لاشوں کو فروخت نہ کرے۔ 
اور آخری بات....ان ماں باپ کے نام جو اپنی بیٹیوں کو آزاد چھوڑ کر بدل جاتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ 
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ وہ اٹھ کر نہ آ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارہ کرتے ہیں 

ٹیگز: