نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان سرزمین پر سرگرم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو جدید ترین ہتھیاروں اور ڈرونز تک رسائی حاصل ہو چکی ہے، جو غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ ہے۔
پاکستان میں گزشتہ سال 5300 سے زائد حملے ہوئے جن میں 1200 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں 15 اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی کڑیاں بھی افغانستان سے ملتی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقتدار کے نصف دہائی بعد بھی طالبان امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور دہشت گردوں کی کھلی مذمت نہ کرنا ان کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔