فنانس ایکٹ 2025 میں ایف بی آر کو دیئے گئے اختیارات سے ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں ٹیکس لگاؤ اور کاروبار بھگاؤ مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں کی جانے والی نئی ترامیم، خاص طور پر سیکشن 37 میں ''ٹیکس فراڈ'' کی تعریف کو وسیع کرنا، بظاہر تو ایک مثبت قدم معلوم ہوتا ہے۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد ایف بی آر کو قانونی طور پر بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ جعلی کمپنیوں، فیک انوائسنگ نیٹ ورکس اور ٹیکس چوروں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکے۔ لیکن جب اس قانون کو پاکستان کے موجودہ معاشی، انتظامی اور بیوروکریٹک تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک ایسی تصویر جس میں پہلے ہی زخم خوردہ کاروباری طبقہ خود کو مزید ہراساں اور غیرمحفوظ محسوس کر رہا ہے۔
نئی قانونی تعریف کے تحت اب نہ صرف جعلی انوائسز، جھوٹے ریٹرنز، یا ریکارڈز کی چھیڑ چھاڑ کو جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ انوائس کے بغیر مال کی ترسیل، رجسٹریشن کے بغیر کاروبار، تین ماہ سے زائد ٹیکس جمع نہ کرانے، اور سیکشن 73 کی خلاف ورزی یعنی فرضی بینک ٹرانزیکشنز سے ادائیگی ظاہر کرنے جیسے افعال بھی ''ٹیکس فراڈ'' شمار ہوں گے۔ ان میں سے کئی شقیں تکنیکی نوعیت کی ہیں جن کا نشانہ صرف عادی ٹیکس فراڈ کرنے والے عناصر ہی نہیں بلکہ وہ عام کاروباری افراد بھی بن سکتے ہیں جو لاعلمی، تکنیکی خامیوں یا ایف بی آر کی پیچیدہ رپورٹنگ کے باعث غیر دانستہ طور پر ان خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
اسی ضمن میں ایک اور تشویشناک امر پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس کے تحت کمرشل جائیداد کے کرائے کو بھی ''سروسز'' کے زمرے میں لا کر 16 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صرف غیر آئینی اور بلاجواز ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے بھی صریح خلاف ہے۔ دنیا کے ٹیکس نیٹ میں سب سے سخت تصور کیے جانے والے ممالک جیسے کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی یا آسٹریلیا میں بھی کرائے کو سروس تصور نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی اس پر سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ کرایہ ایک ''پراپرٹی انکم'' ہے، نہ کہ کوئی سروس جس پر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔
پاکستان میں اسے سروس قرار دینا محض ریونیو بڑھانے کا شارٹ کٹ ہے، جس کا بوجھ بلاواسطہ کرایہ دار اور بالآخر عام صارف پر منتقل ہوتا ہے۔ اس اقدام سے دکانیں، دفاتر اور مالز میں کرائے پر چلنے والے کاروبار مزید دباؤ کا شکار ہوں گے۔ جائیداد کے مالکان پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں آ چکے ہیں ان پر مزید سیلز ٹیکس کا نفاذ دہرا ظلم ہے۔
یہ تمام اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب پاکستان کی معاشی صورتحال بے حد کمزور ہے۔ مہنگائی، ڈالر کی کمزور حیثیت، بجلی و گیس اور پٹرول کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ اور خریداری کی قوت میں مسلسل کمی نے کاروباری برادری کو پہلے ہی بے حال کر رکھا ہے۔ اس پر مستزاد ایف بی آر اور صوبائی اداروں کو مزید طاقتور بنانے کے اقدامات، جو پہلے ہی کاروباری طبقے میں اعتماد کا بحران پیدا کر چکے ہیں، جلتی پر تیل کا کام کریں گے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2023 رپورٹ بھی انہی خدشات کی تصدیق کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دس کرپٹ ترین اداروں میں پولیس، کنٹریکٹنگ، عدلیہ، تعلیم، صحت، مقامی حکومت، لینڈ ایڈمنسٹریشن، کسٹمز/ٹیکس، پاور سیکٹر، ریلوے اور حتیٰ کہ نادرا جیسے حساس ادارے بھی شامل ہیں۔ ان اداروں میں سالانہ کرپشن کا تخمینہ 4 سے 5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے علاوہ حالیہ دنوں میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی پنجاب حکومت کے ماتحت محکموں میں صرف ایک سال کے دوران 1,000 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اسی نوعیت کی رپورٹس وفاقی سطح پر بھی سامنے آ چکی ہیں جہاں پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، اور دیگر محکمے اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں میں ملوث پائے گئے۔ جب ملک کے سرکاری ادارے خود شفافیت اور جوابدہی سے عاری ہوں تو صرف کاروباری برادری سے دیانتداری کی توقع محض دوہرا معیار معلوم ہوتی ہے۔
کامیاب اور پائیدار ٹیکس نظام کے لیے ریاست کو سب سے پہلے اپنی صفوں میں موجود کرپشن، اقربا پروری اور ناقص گورننس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر صرف نجی شعبے پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی نہ صرف ناکام ہوگی بلکہ معیشت کو مزید غیر مستحکم کرے گی۔ملک بھر کی چیمبرز آف کامرس اور ایف پی سی سی آئی نے متفقہ طور پر نئے ٹیکس اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کاروباری اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں اور صنعتی پیداوار کو بری طرح متاثر کریں گے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کئی کاروباری افراد دلبرداشتہ ہوکر اپنا سرمایہ، ہنر اور عزم سمیٹ کر پاکستان سے باہر منتقل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بیرون ملک، وہ ایک بہتر کاروباری ماحول، منصفانہ قوانین، اور حکومتی تعاون کی سہولتیں استعمال کرتے ہیں، جو انہیں اپنے ملک میں میسر نہیں ہیں۔ یہ صورتحال ان تمام حلقوں کے لئے سوالیہ نشان ہے جو کہ پاکستان میں گڈ گورننس،ایز آف ڈوؤنگ بزنس اور سرمایہ کاری دوست حکومت ہونے کے دعوے دار ہیں۔
حکومت اگر واقعی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ کاروباری طبقے کے ساتھ شفاف، مساوی، اور عزت و وقار پر مبنی تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ مشاورت، سادہ قوانین، کم سے کم انسانی مداخلت، اور کرپشن سے پاک نظام ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک کامیاب ٹیکس نظام استوار ہو سکتا ہے۔ وگرنہ ایک جبر و استحصال پرمبنی ٹیکس کلچر ہی پروان چڑھ سکے گا۔
یاد رکھیں بزنس کمیونٹی کوئی دشمن نہیں، بلکہ معیشت کا ستون ہے۔ انہیں اعتماد اور تحفظ دیں، وہ خود بخود آگے بڑھ کر ریاست کو اپنے حصے کا ٹیکس دیں گے۔ لیکن اگر پالیسی سازی کا یہی انداز رہاکہ یکطرفہ سوچ، مشاورتی عمل سے عاری فیصلہ سازی اور سزاؤں پر مبنی عمل پذیری ، تو کاروبار مزید سکڑیں گے، بے روزگاری بڑھے گی، اور ایک وقت کے بعد ریاست کا ریونیو بڑھنے کی بجائے کم ہوتا چلا جائے گا۔اس لیے حکومت کو پرخلوص مشورہ ہے کہ ٹیکس اصلاحات ضرور کریں لیکن اسے کاروباری طبقے کا گلا گھونٹنے کی مہم نہ بنائیں۔