اسلام آباد :قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، جس میں مجموعی بجٹ خسارہ 5 ہزار 226 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے، سول انتظامیہ کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 17 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
تعلیم کے لیے 77 ارب روپے اور صحت کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اجلاس کے آغاز پر سیاسی رہنماؤں کی ایوان میں آمد کے ساتھ ہی اپوزیشن نے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا، جس سے ایوان میں شورشرابا دیکھنے میں آیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ وزیراعظم و بلاول بھٹو زرداری کے تعاون کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بنیان مرصوص” کی کامیابی قومی تاریخ کا روشن باب ہے اور مضبوط دفاع معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیتے ہوئے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ پر 30 سے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ پر 35 سے 29 فیصد، جبکہ 56 سے 70 لاکھ روپے آمدن پر 32 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
چھ سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
فائلرز کی جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ تعمیراتی شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔
بجٹ میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے، غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ خواتین کی صحت سے متعلق اشیاء پر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور والے تاجروں کو سالانہ 1 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، جبکہ انہیں آڈٹ اور ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داری سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
بجٹ میں ایف بی آر کا مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹیکس نظام، فیس لیس اسیسمنٹ اور غیر رجسٹرڈ افراد پر ٹیکس دائرہ کار میں توسیع کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ سفید اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی نئی ڈیوٹیز لگائی گئی ہیں۔