حالات و واقعات اس امر کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ پنجاب میں سیاسی معاملات اب اتنی جلد ڈگر پر واپس نہ آ سکیں گے۔ بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن کے احتجاج پر پیدا ہونے والی کشیدگی بڑھے گی۔ اپنی وضع داری ، مروت اور نرم دلی کی وجہ سے جانے جانے والے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اس بار کچھ اکھڑے اکھڑے سے نظر آتے ہیں۔ سوموار کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں ان کا لب و لہجہ اور کشادہ پیشانی پر موجود شکنیں اس امر کا پتہ دے رہی تھیں۔ لہجے کی سختی بتا رہی تھی کہ وہ اس بار اپوزیشن کو رعایت دینے کو تیار نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن نے اپنا منفی رویہ نہ بدلا "غنڈہ گردی" جاری رکھی تو اس کے نتیجے میں چاہے پنجاب اسمبلی کے دروازے اراکین اسمبلی پر بندہو جائیں ، ان کی بلا سے۔
یہ امر یقینا درست اور حقیقت پر مبنی ہے کہ ملک محمد احمد خان نے بحیثیت سپیکر پنجاب اسمبلی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس کی آئین اور قانون انہیں اجازت دیتا ہے۔ اس کے باعث انہیں ان دنوں اپنی ہی پارٹی کے بعض اراکین کی جانب سے حرف تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایسے میں اپوزیشن کا یہ الزام ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے بدلے ہوئے رویے کی وجہ ان کی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ڈالا گیا وہ دباؤ ہے جس کے تحت وہ اپوزیشن اراکین کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے۔
سپیکر محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ کسی رکن اسمبلی کو ایوان سے نکالنے کے حق میں نہیں، تاہم آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت موصول درخواستوں پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا درخواست گزاروں کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ درخواستیں مقررہ وقت میں نمٹائی نہ گئیں تو یہ خودبخود الیکشن کمیشن کو منتقل ہو جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا وہ آئین کی بالا دستی پر یقین رکھتے ہیں اور بطور سپیکر ہمیشہ ایوان کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانے کی کوشش کی ہے۔۔
یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سپیکر نے اپوزیشن کو قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی سے لے کر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ تک، ہر ممکن گنجائش دی تا ہم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن سپیکر پنجاب اسمبلی کے اس مثبت رویے کو درخور اعتنا نہیں سمجھ رہی اس لیے اس نے تب تک پنجاب اسمبلی میں نہ جانے کا اور اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے جب تک سپیکر ان کے معطل شدہ 26 اراکین کو بحال نہیں کرتے۔
تاہم ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہلڑ بازی کو سیاسی حق قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہ بات آئین میں موجود نہیں۔ پارلیمان احتجاج کے لیے نہیں، قانون سازی کے لیے ہے۔ اگر آرڈر آف دی ڈے پر ہنگامہ ہوگا تو کارروائی قانون کے مطابق ہی چلے گی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کو یہ آفر کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے رویے پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ وعدہ کرے کہ وہ اسمبلی میں ہلڑ بازی نہیں کرے گی تو اس کے اراکین کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اپوزیشن سپیکر پنجاب اسمبلی کی اس آفر کو قبول نہیں کرتی اور اپنا احتجاج جاری رکھتی ہے اور اس کے اراکین ڈس کوالیفائی بھی ہو جاتے ہیں تو پھر سپیکر پنجاب اسمبلی کے سامنے کیا آپشن ہوگا۔ کیا وہ آئندہ بھی اپوزیشن ارکان اسمبلی کی معطلی اور ڈس کوالیفکیشن کے عمل کو جاری رکھیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر وہ اپوزیشن کے بغیر پنجاب اسمبلی کو کیسے چلائیں گے ۔ ویسے بہتر ہوتا اگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جاتا اور اپوزیشن کے اراکین کی معطلی تک ہی بات رہتی اور معاملہ ڈس کوالیفکیشن تک نہ جاتا۔
حکومت کے لیے بھی یہ بہتر ہے کہ اپوزیشن سڑکوں پر احتجاج کرنے کی بجائے اسمبلیوں میں احتجاج کر لے لیکن ان سے اگر یہ پلیٹ فارم بھی چھین لیا گیا پھر اپوزیشن جماعتیں ہر وقت سڑکوں پر ہوں گی۔ یہ عمل نہ صرف حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا بلکہ اس سے ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو بھی ایک بار پھر بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ ایسے میں جہاں آئے روز غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آکر عوام میںخودکشیوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری جانب یہ خبر کہ موجودہ دور میں ملک پر غیر ملکی قرضوں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ہر خاص و عام کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ پی ڈی ایم، نگران اور موجودہ حکومت نے ملکی قرضوں میں 34 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا۔ 3 سال میں ملکی قرضوں کا حجم 42 ہزار ارب سے بڑھ کر 76 ہزار ارب روپے کی سطح سے بھی تجاوز کر گیا ہے موجودہ حکومت نے صرف ایک سال میں ملکی قرضوں میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا۔معاشی بہتری کی دعویدار حکومت قرضوں کے حجم میں اضافے کو نہ روک سکی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بھاری قرضوں سے ایک عام پاکستانی کو کیا فائدہ پہنچا ہے ۔
یہ قرضے براہ راست ارباب اختیار کی جیبوں میں جا پہنچے ہیں تاہم ان کی واپسی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے پاکستانی عوام پر مزید ٹیکس لگا کر کی جائے گی گویا پیدا ہونے والا ہر پاکستانی بچہ مقروض پیدا ہو گا اور اسکی ساری زندگی اس قرض کو اتارنے میں گزر جائے گی۔ ایسے میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اگر قرضہ لے کر ہی ملک چلانا ہے تو پھر یہ کام تو کوئی بھی کر سکتا ہے موجودہ حکومت کا اقتدار میں رہنے کا پھر کوئی قابل قبول جواز موجود نہیں۔