امریکی ڈیلٹافورس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی محفوظ ترین سمجھی جانے والی رہائش گاہ سے یوں اٹھایا ہے جیسے چیل چوزے کو اٹھا لے جاتی ہے۔ اس واردات میں ایک حیرت ناک بات ہے، چیل جب چوزے کو اٹھانے کے لئے غوطہ لگاتی ہے تو مرغی اپنے بچے کو بچانے کے لئے چیل پر جھپٹتی ہے۔ وہ اس وقت یہ نہیں سوچتی کہ اس کا اور چیل کا کوئی مقابلہ نہیں۔ چیل اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ وینزویلا کی فوج کہاں تھی؟ امریکی جارحیت کے بعد اب ہر وہ ملک جو کسی قدر وسائل رکھتا ہے، اس سوچ میں ہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کے لئے کیا کرے۔ روس نے تو ایسے ممالک کو پیغام دیا ہے کہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے نیوکلیئر اسلحہ کی طرف جائیں۔ یہ کام اتنا آسان نہیں یہ ٹیکنالوجی اتنی ارزاں بھی نہیں۔ امریکہ مخالف بلاک اس حوالے سے یقینا ایسے ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا جو یہ استعداد حاصل کرنے میں دلچسپی سے یقینا ایسے ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا جو یہ استعداد حاصل کرنے میں دلچسپی لیں گے لیکن ”چیل گروپ “ انہیں یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں کرنے دے گا۔ ایسے ممالک فوراً پابندیوں کی زد میں آئیں گے، دوسرا اور نسبتاً واحد فوری حل یہ ہے کہ ایسے ممالک جو اب تک واضح طور پر کسی بڑی طاقت سے زیادہ قریبی تعلق نہیں رکھتے ، انہیں فوراً یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اب انہیں کس طرف جانا ہے۔ یہ تمام ممالک یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اگر وہ امریکہ اور اس کے ہمنواﺅں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو کیا روس، چین، کوریا بلاک انہیں امریکی دست برد سے محفوظ رکھ پائے گا یا نہیں۔ اس سوال کا جواب دینا تو آئندہ چند ماہ میں مل جائے گا، زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکہ نے عجلت میں اگر مزید کوئی کارروائی کی تو نیٹو اس کے ساتھ نہیں ہو گا۔ امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کر دیا ہے۔ نیٹو ممالک اگر اس وقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہے تو ضروری نہیں وہ امریکہ کے حریف ممالک کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکیں، جو کام امریکہ آج اپنے لئے جائز سمجھ رہا ہے وہ کل دوسروں کے لئے بھی جائز سمجھا جائے گا۔ وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد امریکی صدر شاید یہ سوچ رہے تھے کہ ان کے اس اقدام کو امریکہ اور اس کے گروپ میں بہت پذیرائی ملے گی۔ وہ ایک مرتبہ جنگجو ہیرو بن کر ابھریں گے اور مڈٹرم انتخابات با آسانی جیت لیں گے لیکن تازہ ترین سروے اور خبریں کچھ اور کہانی سنا رہی ہیں۔ امریکیوں نے اپنے صدر کے اس اقدام کو بحیثیت مجموعی پسند نہیں کیا صرف بائیس فیصد نے اسے درست قرار دیا ہے، اس کا مطلب ہے اٹھہتر فیصد کی اکثریت نے اسے ناپسند کیا ہے۔ امریکی حکومت کا کردار غزہ مظالم میں اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ واضح تھا اس حوالے سے بھی ناپسندیدگی کی لہر موجود ہے جبکہ امریکہ میں مقیم بڑی تعداد میں بھارتی اور پاکستان ووٹرز جبکہ مجموعی طور پر امریکہ میں مقیم ہر مسلمان ووٹر ٹرمپ پالیسیوں سے نالاں ہے، ان کی بہت بڑی اکثریت مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کے خلاف فیصلہ کر سکتی ہے۔ امریکی صدر کو وینزویلا پر حملے کے بعد بدلتی ہوئی صورتحال میں اس بات کا ادراک ہو چکا ہے، اس لئے وہ اپنے حامیوں سے کہتے پائے گئے کہ اگر وہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے نیٹو اتحادی ممالک بھی ان سے خوش نہیں ہیں، نصف سے زائد ممالک کی یہ سوچ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں بلکہ یہ پالیسیاں دنیا کو عدم استحکام کی طرف سے جارہی ہیں۔
امریکہ اور اس کی ڈیلٹا فورس کے بہت چرچے ہیں لیکن اب تک اس نے کمزور ترین حریفوں پر ہی حملہ کر کے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی ہے اگر کہیں کبھی حریف میں تھوڑی بہت جان تھی تو وہاں ڈیلٹافورس نے ”نوراکشتی“ ہی لڑی۔ نوراکشتی جھارا اور انوکی پہلوان کے درمیان ہو یا دو ممالک کے درمیان اس کا بھید جلد کھل جاتا ہے۔ جھارا انوکی کشتی کا راز دو گھنٹے میں فاش ہو گیا تھا جبکہ وینزویلا کشتی کی قلعی دوسرے روز کھل گئی۔
امریکی ڈیلٹا فورس کو برابر کی ٹکر اکتوبر 2023ءمیں ملی تھی ، جس نے اس کا ماتھا ہی نہیں بلکہ پورا جسم رنگ دیا تھا۔ اس ڈیلٹا فورس نے غزہ میں داخل ہو کر حماس کے بعض لیڈروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی جہاں انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ امریکی ڈیلٹافورس کی کمر کس طرح ٹوٹی اور وہ وہاں سے کس طرح فرار ہوئی، یہ کہانی امریکی ریٹائرڈ کرنل ڈگلس نے سنائی۔ انہوں نے ایک نامور ٹی وی اینکر کو انٹرویو میں جو تفصیلات سنائیں وہ حیران کن ہیں۔ اینکر مسٹر کارسن کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا اس فورس کو حیرت انگیز مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کا انہوں نے کبھی تصور نہ کیا تھا۔ ڈیلٹا فورس کے درجنوں کمانڈوز مارے گئے، ان کے ہیلی کاپٹرز بھی تباہ ہوئے۔ وہ لاتعداد لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے، حماس گوریلوں نے انہیں چن چن کر مارا۔ اس ڈیلٹافورس کی معاونت اسرائیلی فوج بھی کر رہی تھی لیکن اسرائیل اور امریکی فوجی دستے بہت بے آبرو ہو کر پسپا ہوئے۔
وینزویلا کے حوالے سے بریکنگ نیوز یہ ہے کہ اغوا کئے جانے والی رات نکولس مادورو ایک ضیافت میں شریک تھے جہاں متعدد غیرملکی مہمان بھی مدعو تھے، انہیں چینی سفیر کا ہنگامی فون آیا، انہوں نے فوری ملاقات کی خواہش ظاہر کی وہ اس ضیافت میں مدعو نہ تھے لیکن انہیں وہیں بلا لیا گیا، انہوں نے نکولس مادورو کو ایک کونے میں لے جا کر بتایا کہ ہماری انٹیلی جنس کے مطابق امریکہ آج یا کل اس قسم کی کارروائی کر سکتا ہے۔ مادورو نے اسی وقت وہیں اپنے فوجی کمانڈروں کو طلب کیا جو کشاں کشاں بیجوں اور تمغوں سے اس طرح لدے پھندے پہنچے جیسے ویر میرا گھوڑی چڑھیا والی گھوڑی۔ مادورو نے ان سے کہا ذرا سنیں سفیر محترم کیا کہہ رہے ہیں۔ تینوں کمانڈروں نے تمام گفتگو بغور سنی اور پراعتماد لہجے میں اپنے صدر کو بتایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ہماری تیاری مکمل ہے، اگر امریکہ یا کسی اور نے کوئی جارحیت کی تو اسے ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی پھر انہوں نے ایڑیاں بجا کر صدر نکولس کو سلیوٹ مارے۔ چینی سفیر کو جھک کر شکریہ کہا اور جدھر سے آئے ادھر لوٹ گئے۔ وہ تینوں بہت مطمئن تھے، شاید انہیں اپنے ”منصوبے اور انتظامات“ پر پورا بھروسہ تھا۔ چیل آئی اور چوزے کو اٹھا لے گئی۔ وینزویلا آرمی، نیوی اور ائیرفورس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ عجب حیرانی و پریشانی ہے۔ اب حیران کرنے کی باری ”روس اور چین“ کی ہے، دنیا منتظر ہے۔