اس وقت دنیا میں جتنی بھی جنگیں جاری ہیں، انہیں شروع کرنے کے لئے مختلف بہانے تراشے گئے لیکن سب کے پیچھے ایک ہی محرک ہے، کچھ آشکار ہو چکے ہیں بعض پر ابھی پردہ پڑا ہے۔ یہ وسائل پر قبضوں کی جنگیں ہیں۔ دنیا میں کسی بھی وقت دو نئی جنگیں شروع ہو سکتی ہیں۔ ان میں وینزویلا پر جلد حملہ ہو سکتا ہے۔ وہ اہم امریکی ہدف ہے۔
وینزویلا کی تیئس ریاستیں ہیں۔ کاراکاس، دوکوئیس، پارقید نیکول اور ماراکالی اہم ریاستیں ہیں۔ دارالحکومت کراکس ہے جسے سنیٹوڈاگولید بھی کہتے ہیں۔ نیکولس مدورو اس کے صدر ہیں۔ وہ 1962ء میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بس ڈرائیور کی حیثیت سے کیا۔ وہ یونین لیڈر رہے۔ سیاست میں آنے کے بعد وہ ہوگوشاویز کے ساتھ وزیرخارجہ اور ان کے نائب صدر رہے۔ وہ اپنے سابق پارٹی سربراہ کی طرح امریکہ مخالف نظریات رکھتے ہیں۔ وہ 2013ء سے اقتدار میں ہیں۔ اپنے نظریات کے سبب امریکہ کو بری طرح کھٹکتے ہیں۔ امریکہ میں عام انتخابات کے بعد ٹرمپ صدر بنے تو وینزویلا کے انتخابات میں فقط چند ماہ کے وقفے سے مدورو منتخب ہوئے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی انہیں دہشت گرد قرار دے دیا اور ان کے سر کی قیمت پچاس ملین ڈالر مقرر کر دی۔ امریکی صدر کے مطابق وینزویلا سے بڑی مقدار میں منشیات امریکہ پہنچتی ہیں جن سے ہزاروں امریکی ہر سال ہلاک ہو رہے ہیں۔ امریکہ کا پہلا بہانہ ’’دہشت گردی‘‘ تھا، اس نے جب چاہا اس بہانے کسی بھی ملک پر یلغار کر دی۔ اب اس نے نیا بہانہ تراشا ہے۔ امریکہ کے ایما پر وینزویلا میں حکومت کا تختہ الٹنے حتیٰ کہ اس کے صدر کو اغوا کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی تدبر کارگر نہ ہوئی۔ وینزویلا پر پابندیاں عائد کر کے اس کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ایک موقع پر انہیں امریکہ کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو لے کر کسی بھی دوسرے ملک چلے جائیں ورنہ انہیں نہیں چھوڑا جائے۔ ذرائع کے مطابق ایک موقع پر صدر مدورو اس پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی زندگیوں کی حفاظت کی گارنٹی چاہی تو اس حوالے سے انکار کر دیا گیا۔ یہ ہے امریکی جمہوریت کا وہ مکروہ چہرہ جس سے دنیا واقف تو ہو چکی ہے لیکن کوئی اس معاملے اور ان پالیسیوں پر بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اس عالمی سیاسی غنڈہ گردی کے ماحول میں چین اور روس جیسی طاقتیں کمزور ملکوں کا آسرا ہیں۔
وینزویلا کے حوالے سے امریکی رویہ ایسا کیوں ہے؟ وینزویلا دنیا کے تین بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران، روس، خلیجی ریاست، امریکہ اور چین ہیں۔ وینزویلا امریکہ کے مقابلے میں اپنا تیل نسبتاً سستے داموں فروخت کرتا ہے اور اپنے خریداروں کو متعدد سہولتیں فراہم کرتا ہے، اس کے ساتھ اپنے خریداروں پر وہ اپنی دیگر مصنوعات خریدنے کے لئے کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالتا جبکہ امریکہ اونٹ کے گلے میں بندھی بلی خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ تیل کے ساتھ اپنا مہنگا اسلحہ بھی فروخت کرتا ہے پھر اس اسلحہ کا چلانے استعمال کرنے کے لئے بے بنیاد جنگیں بھی چھیڑتا ہے۔
صدر وینزویلا اور ان کی حکومت کی طرف سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کے بعد امریکہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور امریکی حکومت کی صفوں میں موجود منشیات ڈیلروں پر کنٹرول حاصل کریں اور ان منشیات کی امریکہ میں آمد کو اپنی نالائق مشینری کی مدد سے روکیں۔ اگر امریکہ میں واقعی ہزاروں افراد منشیات سے موت کے منہ میں پہنچ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے امریکہ کو اپنی سرحدوں پر کنٹرول حاصل نہیں۔ یہ کنٹرول منشیات تاجروں اور دیگر منشیات ڈیلروں کے قبضے میں ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے امریکی بحری جہازوں نے وینزویلا کے پانیوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور چار ماہ میں وینزویلا کی مختلف موٹربوٹس اور فشنگ ٹرالر پر سیکڑوں حملے کئے ہیں۔ ان مختلف حملوں میں اب تک ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وینزویلا کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب غریب ماہی گیر ہے جو سمندر میں مچھلیاں پکڑ رہے تھے جبکہ امریکی انہیں منشیات سمگلر کہتے ہیں۔ امریکی آج تک کسی ایسے ٹرالر کو پکڑ کر اس میں سے منشیات برآمد کر کے دنیا کو نہیں رکھ سکے حالانکہ امریکیوں کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ ہیروئن برآمدلی کیلئے تو انہیں پاکستان سے تربیت حاصل کرنی چاہئے۔ ہمارے یہاں ایک عام پولیس افسر سے لے کر اعلیٰ ترین عہدیدار اگر کسی کام میں یکتا ہیں تو بس وہ یہی ایک کام ہے لیکن ہمارے یہاں بھی معاملہ امریکہ والا ہی ہے۔ منشیات کی تجارت روکنے کیلئے اس کی سمگلنگ روکنے کیلئے ہزاروں افراد پر مشتمل مختلف قسم کی فورسز موجود ہیں لیکن پاکستان کے ہر شہر کے ہر محلے میں ہیروئن فروخت ہو رہی ہے۔ گزشتہ تیس برس میں یہ کاروبار کم ہونے کی بجائے ترقی کر رہا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں نظر آنے والی دولت کی ریل پیل رئیل ٹیسٹ کے پردے میں ہونے والے کاروبار اور لگژری گاڑیوں کے دھندے میں بھی کہیں نہ کہیں منشیات کی کمائی کا شائبہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں منشیات فروشوں کو لگام ڈالنے کیلئے جن افسران کو ٹاسک دیا گیا۔ وہ اسے کامیابی سے پورا کرنے میں ناکام رہے۔ ان میں سے بعض کے اسی نیٹ ورک کا حصہ بن جانے کی اطلاعات ہیں۔ اندازہ فرمائیے وہ کتنے باکمال لوگ تھے جو بذریعہ ڈرون منشیات بزنس کرتے پکڑے گئے اور آج تک سزائوں سے بچے رہے۔
واپس چلتے ہیں وینزویلا جہاں اس پر یلغار کی امریکی تیاریاں نظر آرہی ہیں۔ وینزویلا اور امریکہ کا کوئی مقابلہ نہیں۔ امریکہ اور وینزویلا ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ ہے۔ وینزویلا کی ریگولر فوج ڈیڑھ لاکھ ریزرو آٹھ ہزار پیراملٹری فوج دو لاکھ بس ہزار اور کل نفوس تین لاکھ تیئس ہزار ہیں، اس کے پاس ایک سب میرین، چالیس ویسلز ، پچیس موٹربوٹس اور سات مختلف بحری جہاز ہیں، اس کے پاس روسی ائیرڈیفنس سسٹم کی بارہ بیڑیاں، ایس 300 ، میزائل کا ذخیرہ موجود ہے۔ وہ لاطینی امریکہ میں روس کا بہت بڑا اتحادی ملک ہے، اس کے پاس دو سو ٹینک اور تیس لڑاکا جہاز ہیں جو کسی بھی جنگ کیلئے ناکافی ہیں۔ امریکی صدر کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ ختم ہونے اور وسط مدتی امریکی انتخابات سے پہلے کوئی نیا ایڈونچر شروع نہ کریں لیکن عجلت پسند ڈونلڈ ٹرمپ خواب میں کوئی اشارہ پا کر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس کے پاس بھی مشورے دینے والے کئی پیر دھنکے موجود ہیں۔