Wed, September 16, 2026

ٹرمپ ڈاکٹرائن اور عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

ٹرمپ ڈاکٹرائن اور عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

وینزویلا کے صدر کا اہلیہ سمیت اغوا نہ صرف عالمی نظام اور انسانی وقار کے لئے انتہائی نامناسب عمل ہے بلکہ اےک آمرانہ اور جابرانہ کارروائی ہے۔ جس کا کوئی اخلاقی، قانونی ےا جمہوری جواز پےش نہےں کےا جا سکتا۔ ےہ واضح حقےقت ہے کہ ےہ اقدام امرےکہ کے غےر قانونی ا ور غےر جمہوری احکامات کو نہ بجا لانے کی بنا پر کےا گےا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ےہ صرف وےنزوےلا پر ہی حملہ نہےں ہے بلکہ اےک آزاد، اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کی سرحدوں کو پامال کرنے کا قبیح عمل ہے اور پوری دنےا کی جمہوری اقدار کی پامالی کے مترادف ہے۔ امرےکہ نے ثابت کر دےا ہے کہ دنےا مےں جنگل کا قانون ہے اور صرف طاقتور کی مرضی ہے جو چاہے جےسا اقدام اٹھا لے اور بےچارہ غرےب ملک کوئی احتجاج بھی نہ کر سکے۔ ےہ پوری دنےا کے لئے ایک مشکل وقت ہے جب تمام ملک سوچنے پر مجبور ہو چکے ہےں کہ ان کے وسائل پر اےسے ہی کسی وقت بھی قبضہ کےا جا سکتا ہے۔ جب کہ امرےکی صدر اس کارروائی کے لئے کوئی جواز نہےں پےش کر سکے بلکہ اپنی ناانصافی کو دنےا کے سامنے فخر سے پےش کر رہے ہےں۔ ےہ رجےم چےنج کا واقعہ آنے والے دنوں مےں دوسرے ممالک کو بھی اسی قسم کی پےش قدمی پر اکسا سکتا ہے جس سے عالمی امن کو سنگےن خطرات درپےش ہو سکتے ہےں۔ حےرانگی کی بات ےہ ہے کہ اےک آزاد ملک کے صدر کو دوسرے ملک کے فوجی آ کر کیسے اغوا کر کے لے گئے؟ کہا ےہی جا رہا ہے کہ سکیورٹی اہلکار اور دےگر افراد کی اس مےں امرےکہ کو معاونت حاصل تھی انہوں نے دانستاً اس کارروائی کرنے والوں کے راستے مےں رکاوٹ نہےں ڈالی۔ صدر ٹرمپ کا ےہ کہنا وےنزوےلا کے تےل کے ذخائر کا انتظام امرےکہ سنبھالے گا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ےہ کارروائی جمہورےت، انسانی حقوق یا قانون کے لئے نہیں بلکہ ملک کے مادی وسائل پر قبضہ کے لئے ہے۔ 
ٹرمپ کے ڈاکٹرائن کے مطابق امریکہ دنےا کو اےسا کرہ ارض بنانا چاہتا ہے جہاں کسی کی مداخلت نہ ہو اپنی مخالف طاقتوں کو تےل اور گےس کی سپلائی پر غلبہ پانے سے روکنا چاہتا ہے۔امرےکہ دنےا مےں اقتصادی تسلط اور فوجی برتری کو فروغ دےنا چاہتا ہے۔ امرےکہ دنےا کی سب سے مضبوط، متحرک جدےد ترےن اور سب سے زےادہ ترقی ےافتہ معیشت کا خواہاں ہے۔ امرےکہ دنےا کا سب سے مضبوب، قابلِ اعتماد اور اگلی نسل کے لئے 
طاقتور ترین ڈےفنس سسٹم چاہتا ہے۔ اےسی صورتحال کو روکنا جس سے امرےکہ ےا اس کی معےشت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ اپنی سرحدوں، امےگرےشن سسٹم، نقل و حمل کے نےٹ ورک، کسی کو تسلےم کرنے ےا نہ کرنے کے لئے مکمل کنٹرول حاصل کرنا اس کا مطمع نظر ہے۔ 
سووےت ےونےن کے تحلےل ہونے کے بعد ےہی خےال کےا جا رہا تھا کہ دنےا مےں کشےدگی کم ہو جائے گی لےکن صورتحال اس کے برعکس ہے اور ےہ کہ آج کی دنےا دوسری عالمی جنگ کے بعد کی دنےا کے مقابلے مےں زےادہ سنگےن خطرات میں گھری ہوئی ہے اور آزاد دنےا کا مستقبل پہلے سے بھی زےادہ مخدوش ہو چکا ہے۔ سووےت ےونےن کی تحلےل کے نتےجے مےں دنےا جس نظرےاتی خلا سے دوچار ہوئی ہے اس کا منطقی اظہار پوری دنےا پر فاشزم کے غلبے کی صورت مےں ہمارے سامنے ہے۔ ٹرمپ کے ڈاکٹرائن کے مطابق امرےکہ اپنی پوری قوت کے ساتھ دنےا کی نئی تقسےم کو اپنے حق مےں قابلِ عمل بنانے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔ وےنزوےلا کے واقعے کے بعد محسوس ےہی ہوتا ہے کہ دنےا کے چھوٹے اور کمزور ممالک واضح طور پر امرےکہ اور اس کے مغربی اتحادےوں کی جنگی ٹےکنالوجی کی زد مےں ہےں اور اپنے عوام کے مستقبل کے تحفظ سے معذور دکھائی دےتے ہےں۔
حقیقت یہ ہے کہ اکےسوےں صدی کی تےسری دہائی تےسری عالمی جنگ کے فےصلہ کن مرحلے مےں داخل ہو چکی ہے، امرےکہ دنےا مےں اےک نےا عالمی نظام نافظ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لئے وہ جنگےں کرنے پر بھی آمادہ نظر آتا ہے۔ وہ فاشزم کو اےک نئی شکل و صورت دےنے کے ساتھ اپنے مفادات کے لئے نافذ کرنا چاہتا ہے۔ 80 سال پہلے دوسری عالمی جنگ کے موقع پر نازی جرمنی کا ڈکٹےٹر ہٹلر بھی دنےا پر اےک عالمی نظام مسلط کرنے کا خواہشمند تھا اور آج امرےکی صدر ٹرمپ بھی پوری دنےا پر اےک اےسا ہی نظام مسلط کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہےں اور عالمی رائے عامہ کو الجھانے مےں مصروف ہےں۔ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر سلوگن ےہ تھا کہ جےو اور جےنے دو اےک دوسرے کے قومی مفادات مےں مداخلت نہ کی جائے اور دنےا مےں امن و امان ہونا چاہئے جب کہ ٹرمپ کے نئے عالمی نظام کا مقصد پوری دنےا کے پیداواری ذرائع پر امرےکہ کے براہِ راست کنٹرول کے لئے ہے۔ جس کی زد مےں دنےا کے کمزور ممالک آتے جا رہے ہےں۔ اس وقت دنےا بھر مےں لبرل نظامِ حکومت بہت دشواری سے سے گزر رہا ہے۔
سرماےہ دارانہ معےشت کے عروج پر پہنچ کر ےونائےٹڈ سٹےٹ آف امرےکہ کو ےاد ہی نہےں رہا کہ دنےا مےں جمہوری نظامِ حکومت کا قےام عوامی فلاح کے تصور پر قائم ہوا تھا مگر سووےت ےونےن کے زوال کے ساتھ امرےکہ کو ےہ سبق ےاد دلانے والا بھی کوئی نہےں ہے۔ اےک بار ہٹلر اےوان مےں اےک مرغی لے کر آگےا اور سپےکر کے ڈائس کے سامنے اس کے پر نوچنے لگا وہ بڑی تکلےف مےں تھی لےکن اس نے اس کے سارے پر نوچ کر اسے نےچے چھوڑ دےا پھر اس کے سامنے دانہ ڈالتے ہوئے آگے آگے چلنے لگا حتیٰ کہ مرغی وہ دانا چگتے ہوئے اس کے پاو¿ں مےں آگئی ہٹلر نے سپےکر سے کہا جمہورےت مےں عوام کی اےسے حالت ہوتی ہے پہلے اسے نوچا جاتا ہے پھر اسے تھوڑا تھوڑا دےا جاتا ہے۔ امرےکہ کی بالکل اےسی ہی صورتحال ہے۔ اس نے تعلےم، صحت، فلاحِ عامہ کے کاموں کے مقابلے مےں جنگی اسلحہ تےار کرنے اور اس کے سہارے پوری دنےا کی سرداری کا خواب دےکھا ہوا ہے۔ پس ماندہ ملکوں سے لے کر ترقی پذےر اور ترقی ےافتہ ممالک امرےکہ کے زےرِ اثر رہے۔ اس عروج مےں امرےکہ کو ےہ ےاد ہی نہےں رہا کہ اس کی ترقی حقےقت مےں ےک رخی ہو گئی ہے۔ اسے اپنی جنگی طاقت اور خوف ناک دفاعی تیرےوں کی دھونس سے پوری دنےا کو زےر کرنا تھا، اور اس نے اےسا کر دکھاےا۔دنےا مےں انسانی ہلاکتوں کا اےک بڑا سبب غلط امرےکی پالےسےوں اور روےوں کو قرار دےا گےا اور امرےکی سامراجےت عالمی حالات کو قابو مےں رکھنے اور اپنے مفادات کی بے رحمانہ تکمےل کے لئے ہر اقدام اور کوشش کو جائز سمجھتی ہے۔
امرےکہ اےک اےسی انتہائی صورت کی جانب چل پڑا ہے جس کا مقصد نہ صرف تمام دنےا کے وسائل پر قبضہ جمانا ہے بلکہ عالمی طاقت بننے کا خواب دےکھنے والے ملکوں اور علاقائی حرےف طاقتوں کو بھی ان کے عزائم سے باز رکھنا۔ امرےکی خارجہ پالےسی کا انتہائی تباہ کن فےصلہ تصور کےا جاتا ہے۔ امرےکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں لیکن انہوں نے ماضی سے سبق سےکھنے کے بجائے دنےا کو تےسری عالمی جنگ کے دہانے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔

ٹیگز: