Wed, September 16, 2026

 بھارتی سیاست نے عالمی کرکٹ کے میدان میں 250 ملین ڈالر کا ریونیو داؤ پر:نیویارک ٹائمز کا انکشاف

 بھارتی سیاست نے عالمی کرکٹ کے میدان میں 250 ملین ڈالر کا ریونیو داؤ پر:نیویارک ٹائمز کا انکشاف

نیویارک : امریکی جریدے 'نیویارک ٹائمز' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اپنی مالیاتی طاقت کے بل بوتے پر عالمی کرکٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارتی سیاسی مداخلت نے کھیل کی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی اجارہ داری کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے ہائی وولٹیج میچ کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ پاکستان کا یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے، جس نے بھارتی رویے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
 نیویارک ٹائمز کے مطابق دو بڑے ایشیائی ممالک کے بائیکاٹ نے آئی سی سی کے میگا ایونٹ کو ایک ناکام مشق میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے آئی سی سی کے مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ     بھارت آئی سی سی کے کل منافع کا 40 فیصد حصہ سمیٹ لیتا ہے، جس کی وجہ سے آئی سی سی اس کے دباؤ میں فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔
پاک بھارت میچ منسوخ ہونے سے آئی سی سی کو 250 ملین ڈالر کے متوقع ریونیو سے محروم ہونا پڑے گا۔
امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ کھیلوں میں اس تلخی کی جڑیں سیاسی اور فوجی تنازعات  ہیں۔    پہلگام  حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی نے کرکٹ ڈپلومیسی کے تمام دروازے بند کر دیے۔ سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم کی حوالگی کے مطالبے نے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں دراڑ ڈالی، جس کا خمیازہ اب کرکٹ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق اگر بھارت نے اپنی "کھیل میں سیاست" کی پالیسی نہ بدلی تو عالمی کرکٹ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا اور آئی سی سی کی حیثیت محض ایک کٹھ پتلی ادارے کی رہ جائے گی۔

ٹیگز: