اسلام آباد میں مختصر پڑائو کے بعد ہماری اگلی منزل کراچی تھی۔ہم نور خان ایئر بیس پہنچے۔ پاکستان نیوی کے اے ۔ٹی۔ آر طیارے میں سوار ہوئے اور شہر قائد کی جانب روانہ ہو گئے۔
کراچی روانگی کے وقت میں بے حد پر جوش تھی۔ گزشتہ چند دن سے ہم سمندر کے متعلق زبانی کلامی اور تحقیقی گفتگو سن رہے تھے۔ تاہم اب ہم سمندر کے قریب جا رہے تھے۔ سمندر دیکھنے اور اس کا سفر کرنے کیلئے میرا دل مچل رہا تھا۔ میری خوشی اور جوش کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ کراچی میرے والد کا شہر ہے۔ کسی زمانے میں میرے والدین یہاں رہائش پذیر تھے۔ یہاں میرے بچپن کے کچھ سال گزرے ہیں۔ میں گزشتہ سالوں میں دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کرتی رہی ہوں۔ پاکستان کے مختلف صوبوں اور شہروں کا سفر بھی کر چکی ہوں۔ تاہم اسے اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ طویل عرصے سے کراچی نہیں جا سکی۔ کم و بیش پچیس برس کے بعد میں شہر کراچی جا رہی تھی۔ سو خوشی اور جوش ایک قدرتی امر تھا۔
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ اہم معاشی، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکزہے۔ کراچی ہمیشہ سے میری صحافتی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ ا س شہر کے متعلق میرا ایک پختہ تاثر ہے۔ بدقسمتی سے یہ تاثر کچھ ایسا مثبت نہیں ہے۔ کراچی جسے کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، اس کے بارے میں ہمیں شاذونادر ہی اچھی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ سندھ اور خاص طور پر کراچی کی ابتر حالت زار، ناقص انفراسٹرکچر، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، چوری ڈکیتی کی وارداتوں، کرپشن کے قصوں ، حکومتی غفلت وغیرہ کی کہانیاں معمول کی باتیں ہیں۔ اس تناظر میں، میں یہ دیکھنے کیلئے بے حد متجسس تھی کہ کراچی یا سندھ کے مختلف حصے کیسے دکھائی دیتے ہیں۔
اس تربیتی پروگرام میں ہمارے ساتھ کراچی کی کچھ معروف کاروباری شخصیات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ ہم اکثر پنجاب اور خاص طور پر لاہور کی خوبصورتی، تعمیر و ترقی اور صفائی ستھرائی کے قصے سنتے رہتے ہیں۔ تاہم کراچی کے شہریوں کے منہ سے یہ باتیں سن کر بہت اچھا لگا۔ کراچی کے کچھ دوستوں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے پنجاب کی بے حد تعریف کی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ آپ خوش قسمت ہیں جو پنجاب میں رہ رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ہم لاہور آئیں تو یوں لگتا ہے کہ دبئی میں داخل ہو گئے ہیں۔ کچھ نے اپنے شہر اور صوبے کے حالات کا نوحہ بھی پڑھا۔
فلائٹ کے دوران ہم سب حسب معمول آپس میں گپ شپ کرتے رہے۔ پائیلٹ نے اعلان کیا کہ کچھ ہی دیر میں ہم پی۔ این۔ ایس مہران پہنچ جائیں گے۔ یہ کراچی میں قائم پاکستان نیوی کا ایک انتہائی اہم فضائی اڈہ ہے۔ یہ اعلان سن کر میں نے قریب بیٹھے فرحان اشرفی صاحب سے مذاقاً کہا کہ مجھے کسی نے نصیحت کی تھی کہ جب کراچی پہنچوں تو اپنے دونوں موبائل اپنی جرابوں میں گھسا لوں۔ فرحان صاحب کچھ برا مان گئے اور کراچی کی تعریفیں کرنے لگے۔ کہنے لگے کہ کسی نے آپ کو غلط بتایا ہے۔ ہر جگہ کچھ نا کچھ جرائم پیشہ لوگ تو ہوتے ہی ہیں۔ کراچی تو بہت محفوظ شہر ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ انداز ایسا تھا کہ شہر کراچی کی ہم (کراچی والے) کوئی برائی کریں تو کریں، کسی باہر والے کو اجازت نہیں کہ وہ مذاق میں بھی ہمارے شہر کی کوئی برائی کرے۔ بہرحال ان کا اپنے شہر سے محبت کا یہ انداز مجھے بہت اچھا لگا۔
سچ یہ ہے کہ کراچی جا کر بہت خوشی ہوئی۔ کراچی والوں کی فیاض اور گرم جوش مہمان نوازی نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ کراچی میں ہمارا قیام ایک پنج ستارہ ہوٹل میں تھا۔ پی۔ این۔ ایس مہران ایئر بیس سے ہوٹل تک تو کراچی واقعتاً روشنیوں کا شہر لگا۔ خوبصورت، سجا سنورا، صاف ستھرا اور بارونق۔ ہوٹل پہنچے تو کراچی کے دوستوں نے واٹس ایپ گروپ میںپیغام بھیجا کہ کسی کو گھومنے پھرنے کیلئے گاڑی چاہیے یا کوئی بھی ضرورت ہو تو بلاتکلف بتا دیں۔ کھانے کی دعوتوں کے پیغامات ملنے لگے۔ اگلے دن مجھے کراچی میں کسی عزیز سے ملنے جانا تھا، میںنے ڈاکٹر فرحان عیسیٰ سے گزارش کی اور گاڑی، ڈرائیور حاضر ہوگئے۔
غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں جن علاقوں اور جگہوں پر ہم سفر کرتے رہے، وہ ایک خاص طبقے کا کراچی تھا۔ یہ تصویر کا ایک خوبصورت رخ تھا۔ سو مجھے تو کراچی روشنیوں کا شہر ہی لگا۔ یقیناً دیگر علاقوں میں مسائل موجود ہوں گے۔ تاہم مجھے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے پالا پڑا اور نا کسی منفی تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔ اس ضمن میں خود کراچی میں بسنے والوں کا تجربہ بھی مختلف تھا۔ کسی کے نز دیک یہ بہت غیر محفوظ شہر ہے۔ جہاں ڈکیتی وغیرہ کی وارداتیں عام ہیں۔ جس کی زندگی میں کوئی بڑی واردات نہیں ہوئی۔ وہ اسے پرسکون اور محفوظ شہر سمجھتا ہے۔ کراچی والوں کے بارے میں ہم نے سن رکھا تھا کہ یہ نسبتاً روکھے پھیکے اور لئے دئیے رہنے والے لوگ ہیں۔ میرا تجربہ اس تاثر کے قطعاً برعکس رہا۔ مجھے کراچی کے لوگ بے حد فراخ دل اور خوش اخلاق لگے۔ کراچی سے میں اس سفر کی بہت اچھی یادیں لے کر واپس لوٹی۔
سچ یہ ہے کہ کراچی کے دوستوں سے تعارف اور ملاقات نہ ہوتی تو یہ سفر کچھ ادھورا رہتا۔ ہمارے ساتھ بہت اچھے ساتھی موجود تھے۔ دھیمی آواز میں بات کرنے والے انور میاں نور صاحب جو معروف بزنس مین ہیں۔ فرحان اشرفی صاحب جو اپنی حس مزاح سے محفل کو کشت زعفران بنائے رکھتے۔ ڈاکٹر دانش امان اور زاہد حمید صاحب، جو ساحل نامی ایک معروف تنظیم کے ذریعے سماجی اور فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ شائستگی سے گفتگو کرنے والے ڈاکٹر فرحان عیسیٰ عابدین جو کراچی کی معروف عیسیٰ لیبارٹریز کے روح رواں ہیں اور پاکستان نیوی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مہیش کمار جو رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مہیش کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اس سیاست دان کی مذہب کی جبری تبدیلی اور شادی جیسے موضوعات پر طویل گفتگو رہی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان فیض اور دانیال جیلانی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا بزنس مین ونود کمار جو مستقبل میں سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مریم صبا جو اپنا تعارف یوں کرواتی تھی کہ میرا تعلق پنجاب سے ہے تاہم میں گوادر کی بیٹی ہوں اور کراچی میں رہائش پذیر ہوں۔ مریم نے ہر محفل میں گوادر کے مسائل کو نہایت عمدگی سے پیش کیا۔
بیرسٹر طلال کا شکریہ جن کے کلفٹن پر واقع لاج پر ایک حسین شام گزارنے کا موقع ملا۔ ساحل کے کنارے ننگے پاوں چلنا، شام اور رات کے اندھیرے میں سمندر کا نظارہ کرنا بے حد یادگار تجربہ تھا۔ بزنس مین باسط منڈیا جنہوں نے نہایت محبت سے اپنے گھر پر سب شرکاء کیلئے ایک دعوت شیراز کا اہتمام کیا۔ دعوت میں نہایت عمدہ کھانوں کے علاوہ جو شے بے حد خاص تھی وہ باسط کی والدہ کا انداز محبت تھا۔ وہ خواتین مہمانوں کے آگے بچھی جا رہی تھیں۔ باسط کی امی سے مل کر، ان کی محبت دیکھ کر مجھے اپنی امی کی یاد آگئی۔دعا ہے کہ اللہ پاک میری ماں کی مغفرت فرمائے اور باسط کی امی کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (جاری ہے)