Wed, September 16, 2026

سانحہ اسلام آباد

سانحہ اسلام آباد

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی اس سفاکی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ترلائی کے علاقے میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ اب تک 30 سے زیادہ قیمتی جانوں کے زیاں کی اطلاعات ہیں۔ یہ سانحہ نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ ریاستی سکیورٹی نظام کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بھی ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، جبکہ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ عبادت گاہ، جو امن، سکون اور روحانی تحفظ کی علامت ہوتی ہے، اس میں بے گناہوں کا خون بہہ جانا قومی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے مترادف ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق اس سفاک دہشت گردی کے تانے بانے اور فنانسنگ انڈیا افغانستان گٹھ جوڑ سے جا ملتے ہیں۔ بھارت کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر ابھرے، اسی لیے وہ افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے غربت اور بے روزگاری کا شکار افراد کو مالی لالچ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ اسی تھالی میں چھید کرتے ہیں جس میں وہ کھاتے ہیں اور اپنے محسنوں کے خلاف ہی ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ اس سفاک دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تمام عوامل کا باریک بینی سے سراغ لگایا جائے، بم دھماکوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرنے والے افراد تک پہنچا جائے اور اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ محض سہولت کاروں کو گرفتار کرنا کافی نہیں، بلکہ فنانسرز، سہولت فراہم کرنے والوں اور سرحد پار روابط کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عوامی اجتماعات والی جگہوں کے لیے سکیورٹی SOPs کو فول پروف بنانا ہو گا اور ان پر مؤثر اور بلاامتیاز عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنانا ہو گا۔ بدقسمتی سے یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ حالات امن کی طرف جا رہے ہیں، عین اسی وقت کوئی نہ کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے اور سکیورٹی ادارے دوبارہ ہنگامی بھاگ دوڑ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ ردِعمل پر مبنی طرزِ عمل اب ناکافی ثابت ہو چکا ہے۔ اب ہمیں ایک مستقل اور منظم سسٹم اپنانا ہو گا۔ اس وقت خصوصاً پنجاب میں ایسے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے حساس ادارے قابلِ تحسین کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد عادی مجرموں اور خطرناک عناصر کو سخت قانونی سزائیں دی گئیں۔ اسی پیٹرن کو اپناتے ہوئے وفاقی حکومت کو دیگر صوبوں میں بھی کاؤنٹر ٹیررازم کے اداروں کو مکمل طور پر متحرک کرے اور روزانہ کی بنیاد پر مربوط کارروائیوں کے ذریعے ان ناسوروں کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ اس مقصد کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے مشتبہ علاقوں کی سخت نگرانی اور سکریننگ کو مؤثر بنایا جائے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر بروقت نظر رکھی جا سکے اور انکے ٹھکانوں کو زمینی حملوں اور ایئر سٹرائیک کے ذریعے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے حساس ادارے دن رات ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے کوشاں ہیں اور ہماری افواج اور اس سے منسلک دفاعی ادارے دہشت گرد عناصر کو بلوچستان اور پاک افغان بارڈر پر منطقی انجام تک پہنچا رہے ہیں۔ افغانستان سے منسلک سرحدی علاقے کی نگرانی کو مزید سخت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بارڈر مینجمنٹ کو جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس اور سخت چیکنگ کے ذریعے مضبوط بنایا جائے، تاکہ سرحد پار سے دراندازی کرنے والے جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کو بروقت روکا جا سکے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کے ذریعے انہیں کسی بھی نقصان دہ سرگرمی سے پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔ ریاست کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی آئینی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ انٹیلی جنس نظام کو مزید بہتر اور مضبوط بنائے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز، مسلسل اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ قوم اب مزید لاشیں اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست سخت اور دیرپا فیصلے کرے، کیونکہ مضبوط ریاستی رِٹ، مؤثر قانون سازی اور ریاستی قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔ امن قائم رکھنا ریاست کا فرضِ اول ہے اور اسی بنیاد پر ملک میں موجود غداروں اور سہولت کاروں کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے مشتبہ اور غیروں کے لیے سہولت کاری کرنے والے افراد پر نظر رکھیں اور مشکوک حرکات میں ملوث افراد کی اطلاع مقامی پولیس کو بروقت دیں۔ مذہبی عبادت گاہوں میں مقامی افراد بھی پولیس گارڈ کے ساتھ سکیورٹی کے فرائض انجام دیں کیونکہ متعلقہ علاقے کے لوگ کسی انجان اور مشکوک آدمی کی بہتر پہچان کر سکتے ہیں۔

ٹیگز: