طدل بہت اداس ہے، وطن پاک اندرونی بیرونی دشمنوں کے نرغہ میں ہے، لاشوں پر سیاست کرتے گدھ حملہ آور ہیں۔ بلوچستان پر پہلی بار کالعدم بی ایل اے کا بڑا حملہ، بھارت کا سرمایہ، اسرائیل کے ہتھیار، ہمارے اپنے ہی غدار بن گئے۔ 14 چھوٹے بڑے شہروں سمیت صوبہ کے 52 مقامات پر حملہ آور ہوئے۔ بموں کے دھماکے، جدید ہتھیاروں سے فائرنگ، سیکڑوں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بناتے ہوئے ہمارے 22 مجاہد اور 33 شہری شہید، گوادر میں خواتین اور بچوں سمیت 10 مزدور نشانہ بنے۔ مستونگ میں سینٹرل جیل، ایک تھانہ، لیویز ہیڈ کوارٹر، کیسکو آفس پر حملے، 30 قید چھڑا لیے۔ 2 بینک نذر آتش پاک فوج کے جوانوں نے رد الفتنہ الہند آپریشن ون کے تحت تین دنوں میں 216 سے زائد غداروں کو جہنم واصل کیا۔ کوئی بچ کر نہیں گیا۔ بے گور و کفن لاشیں پڑی سڑتی رہیں۔ غداروں کا عبرت ناک انجام، وزیر اعلیٰ ہائوس پر قبضہ کرنے آئے تھے۔ ایف سی کے جوانوں نے صفایا کر دیا۔ جنرل حمید گل مرحوم کی صاحبزادی عظمیٰ گل کے مطابق اس حملہ کا نام اسرائیلی ڈرون کے نام پر ہیروف ٹو رکھا گیا۔ یہ ڈرون 45 گھنٹے پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 35 ہزار فٹ پر 490 گرام اسلحہ لے کر کسی بھی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ بلوچوں کی کالعدم تنظیموں کا بھارت اور اسرائیل سے گٹھ جوڑ ثابت ہو گیا۔ ایک اسرائیلی مبصر نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ پر حملہ سے قبل بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق تمام لاپتا افراد اس حملہ میں شامل تھے جنہیں جہنم رسید کر دیا گیا۔
گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد خود کش دھماکے سے لزر اٹھا۔ کھنہ پل سے ملحقہ علاقے ترلائی کلاں کی مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ایک شخص نے نماز کے دوران پچھلی صف میں کھڑے ہو کر اپنے آپ کو اڑا لیا۔ 32 سالہ یاسر نامی یہ غدار پشاور کا رہائشی پاکستان کا شہری لیکن دشمنوں کا دوست اور معاون نکلا، افغانستان آتا جاتا رہتا تھا۔ پانچ ماہ تک ٹی ٹی پی سے اسلحہ کی تربیت حاصل کی اور دم آخر جہنم کا مستحق ٹھہرا۔ اس دھماکے میں 32 نمازی شہید اور 169 زخمی ہوئے۔ دو سہولت کار بھی ہمراہ تھے لیکن ان کا پتا نہ چل سکا۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے جنہیں ہمارے مجاہدین نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ناکام بنا دیا۔ دہشت گردی کے واقعات اس وقت رونما ہو رہے ہیں جب قازقستان، ازبکستان، لیبیا، ترکیہ اور سعودی عرب کے صدور، وزرائے خارجہ اور فوجی سربراہان اسلام آباد کے دوروں پر تجارتی اور ثقافتی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں موجود تھے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام حکومت اور فوج کا عزم مصمم دین اور پاک سر زمین کے دشمنوں کا مقابلہ متحد اور منظم ہو کر کریں گے۔
اندرونی حالات اچھے نہیں، کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا۔ پی ٹی آئی کا انقلاب دور دور تک نظر نہیں آتا، خدا خدا کر کے رسائی کے آثار ہویدا ہوئے رہائی کا فی الحال کوئی امکان نہیں، ہمدرد طبقہ سوال کر رہا ہے کہ کیا خان کی باقی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزرے گی؟ بڑے سوالات ہیں جن کا جواب خان کی بہنوں پارٹی کے 6 دھڑوں، پانچ پیاروں حتیٰ کہ خود خان کے پاس بھی نہیں ہے، سب تاریخ راہوں میں بھٹکے مسافروں کی طرح ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ رہائی کی امیدیں دم توڑتی نظر آتی ہیں۔ اپوزیشن ارکان کی تان اپنے لیڈر کی علالت، قید تنہائی اور مظلومیت پر ٹوٹتی رہی، پہلے رہائی کے مطالبہ پر دھمکاتے رہے اب رسائی کے لیے منت سماجت پر اتر آئے۔ گویا پی ٹی آئی نے ہر طرف سے مایوس ہو کر گھٹنے ٹیک دئیے۔ آنکھوں کی بیماری پر شور شرابا کیا گیا۔ چار سطری رپورٹ بہنوں کے حوالے کر دی گئی۔ شور تھم گیا۔ ملاقاتوں کی اب تک کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ایک ہی شرط، رویہ بدلو، سپریم کورٹ سے 8 مقدمات میں ضمانت ہونے پر تمام مقدمات زمیں بوس ہونے کے نعرے لگانے والے رویہ کیسے بدلیں گے۔ باہر سے ادھار لیے گئے لیڈروں کا تجربہ بھی ناکام رہا۔ محمود اچکزئی نے 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔ زندہ دلان لاہور نے 5 فروری کی رات بارہ بجے مقبول لیڈر کا بوکاٹا کر دیا۔ اسی رات 8 فروری کی ہڑتال کو مسترد کر دیا گیا۔ ہڑتال کے لیے کوئی لائحہ عمل طے نہ ہو سکا۔ مایوس کن نتائج برآمد ہوئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے بسنت منانے کے اعلان نے لاہور اور چھوٹے بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں زندگی کی لہر دوڑا دی، 20 سال بعد بسنت کی بحالی، 6، 7 اور 8 فروری کو جشن بہاراں، پرانی حویلیوں، مکانات کی چھتوں کی بکنگ ایک رات کا کرایہ کروڑوں میں، سڑکوں، بازاروں میں چراغاں، چھتوں پر بھنگڑے، ڈھول کی تھاپ پر ’’پتنگ باز سجنا سے پتنگ باز بلما سے آنکھوں آنکھوں میں الجھی ڈور، لگا پیچا تو مچ گیا شور کہ دل ہوا بو کاٹا‘‘ جیسے نغموں کی گونج پر جوانوں کے والہانہ رقص، کس کی رہائی، رسائی کسی کو ہوش نہیں۔ ’’کسے پڑی ہے کہ جا سناوے ہمارے پی کو ہماری بپتاں‘‘ صرف لاہور میں ایک ارب 50 لاکھ کے گڈے اور ڈور کی خریداری کی گئی۔ زرد رنگ کی ساڑھیاں، بیش قیمت ملبوسات پر کروڑوں اخراجات، ہاتھوں میں مہندی، آنکھوں میں کجلا، گویا عید کا دن۔ دشمنوں اور غداروں سے خوشیاں دیکھی نہ گئیں، اسلام آباد کے خود کش دھماکے سے خوشیوں پر اوس پڑ گئی۔ وزیر اعلیٰ نے تمام تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
ہفتہ کے آخر میں ایک بڑی اور دھماکہ خیز پیشرفت، طاقتوروں نے انتہائی غیر محسوس طریقہ سے سیاسی بساط پلٹ دی۔ خان صاحب کے عشق میں لاہور اور کراچی کی خاک چھاننے والے سہیل آفریدی اچانک ’’اچھے بچے‘‘ بن گئے۔ سمجھانے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بلایا، چلے آئے ملاقات ہوئی محتاط ہو کر جو کچھ کہا وزیر اعظم نے خاموشی سے سنا۔ رانا ثناء اللہ اور امیر مقام نے جو کہا وہ غیر جذباتی انداز سے سنتے رہے۔ باہر نکل کر بتایا کہ صوبے کے فنڈز پر بات چیت ہوئی۔ پوچھا خان کی رہائی؟ جواب دیا کوئی بات ہی نہیں ہوئی، چڑیوں کبوتروں نے گواہی دی کہ باتیں ہوئیں، پشاور جا کر صوبائی اپیکس کمیٹی کا طویل اجلاس بلایا جس میں کور کمانڈر بھی شریک ہوئے اجلاس کے اختتام پر آپریشن کے مخالف انتہا پسند معاون خصوصی شفیع جان نے 13 نکاتی اعلامیہ جاری کیا۔ جس میں پہلی بار طالبان اور دہشتگردوں کو فتنہ الخوارج اور ناسور قرار دیا گیا۔ کہا گیا کہ حکومت فوج اور دیگر ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ ہماری مشترکہ جنگ ہے اور اسے مشترکہ طور پر ہی جیتا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا صوبہ کے مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ حیرت، پورے اعلامیہ میں خان کا ذکر نہیں۔ گویا خان صاحب مائنس، پمز ہسپتال میں خان کے علاج کے بعد وزیر اعظم ہائوس میں وزیر اعلیٰ کا علاج کر دیا گیا۔ عاشق عمران نے عاشق عوام تک کا سفر 70 منٹ میں طے کر لیا۔ کچھ مانا کچھ منوایا بریک تھرو تو ہوا۔ سننے والوں نے کہا ’’لے تو آئے ہیں انہیں راہ پر ہم باتوں میں، اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں‘‘۔