کیسے کیسے وہم نکلے کیسے کیسے ”شائننگ انڈیا“ کے سلوگن کی دھجیاں بکھریں پاکستان نہیں چین کے برابر خود کو سمجھ لینے والی اپنے عوام کو بھوکوں مار کر بڑی طاقت کہلانے کی شوقین سلطنت بھارت بھک سے اڑ گئی....
ہمارے چار لڑاکے گئے اور پورے بھارتی غرور کو مٹی گرد ذلت اور رسوائی میں دھول چٹا کر الحمدللہ واپس بھی آ گئے.... صدیوں کا جھوٹ سازشیں اور ہندو تو ا کے لئے ایک اکیلا کامران جو اب سکوارڈرن لیڈر ہو چکا کافی تھا.... ابھی تو ہم نے اپنے جانبازوں ہوا بازوں کو ایک پرسنٹ بھی فضا میں نہیں اڑنے دیا تو”مودی“ تمہارا یہ حال ہو گیا....
یہ رویے میں نے بہت دیکھے ہیں جس میں کہنا پڑتا ہے ہم کیا شریف ہوئے ساری دنیا ہی بدمعاش ہو گئی دنیا کی بات ہوئی تو یاد آیا بھارتی چینل کی ایک ناری بہت تڑپ تڑپ کر کہہ رہی تھی کہ بھارت کو سبق مل گیا چین اور ترکی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور یہ کہ امریکہ نے بھی پاکستان کو بھارت کے برابر سٹیٹ مان کر بات کی ہے۔ ماشاءاللہ ذرا زعم ملاحظہ کریں یہ شور اسٹیٹ ہمیں برابر سمجھنے کو تیار نہیں شاید انہیں یہ معلوم ہے کہ کلمہ پڑھنے والے کفار کے برابر نہیں بلکہ ان کی سرزمین کا زرہ زرہ ان گانے بجانے والوں سے زیادہ معتبر ہے....
برصغیرکی قدیم تاریخ دیکھیں یہاں کے اصل مالک ”دراوڑی“ تھے یعنی جو اب تامل ناڈو کے رہنے والے ہیں ان کا اصل کام گانا بجانا تھا بعد ازاں انہی کی وراثت سے منسلک فنون کو میراث کا نام ہوتے ہوتے میراثی ہو گیا یعنی جو گانے کی وراثت لیکر چلے جس کے اصل مالک ”دراوڑی“ ہندو تھے جو چوہے بلی ہاتھی گائے جانوروں کی پوجا کرتے ہیں ۔جس سے ڈرے اسی کو بھگوان بنا لیا حد تو یہ کہ ان کی ماتاﺅں میں ٹھگوں اور ڈاکوﺅں کی بھی ماتائیں موجود ہیں۔
میرا مقصد بنیادی ذہنیت سے ہے جسے اپنا کر ایک طبقہ بھکشوبن کر بھیک مانگ کر کھانے والا بن گیا ۔ نریندر مودی نے بھی 17 برس کی عمر میں ماں بیوی کی ذمہ داریوں سے مکتی کر کے ”بھکشا“ مانگنے کا آغاز کیا جو آج پاکستان کو بھکاری کہہ رہا ہے ۔اس نے گلے میں ایک جھولا ڈال کر جنگلوں گپھاﺅں اور سٹیشن سے لیکر چائے ڈھابہ تک جھاڑو لگائی ہے ٹوٹل ان پڑھ ہے تین لفظ اردو ہندی کے درست نہیں بول سکتا چلا ہے چین امریکہ کا مقابلہ کرنے.... اپنی عوام کو کتنا جھوٹ فراہم کرتا رہا ہے مجھے تو دوران جنگ بھارتی چینلز دیکھ کر بھارتی عوام پر ترس آیا ساتھ ہی ساتھ فخر محسوس ہوا کہ ہم تو اپنے الیکٹرک اور پرنٹ میڈیا کو ہلنے نہیں دیتے انتہائی ادب میں رہنے پر مضرہیں لیکن ان بھارتی میڈیا اینکرز اور بندروں کی طرح اچھلتے تجزیہ نگاروں کو دیکھ کر اپنا میڈیا فرشتہ محسوس ہوا۔
ان کے بھی پسندیدہ پاکستانی اینکرز میں ہیں جنہیں اب شاید پاکستانی کہنا مناسبب نہ ہو گا ۔ دوسرے ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔آج کل بھارتی میڈیا کی آنکھوں کے تارے ہیں میرے تو خیال میں عمران ریاض ٹائپ اینکرز کو ہمیشہ کے لئے پاکستان آمد اور پاسپورٹ پر پابندی لگ جانی چاہئے.... یہ زہریلے ناگ اتنا نہیں جانتے کہ حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں تو آتی جاتی رہتی ہیں مگر ”ریاست“ اہم ترین ہے اور یہ بدبخت صابر شاکر ٹائپ لوگ پاکستان سے کھا کر دبئی امریکہ اور دیگر ملکوں میں عیش کی زندگی گزار رہے ہیں کیا ایک مداری کی خاطر پورے ملک کی سالمیت اور ریاست دشمنی کے بعد بھی پاکستانی پاسپورٹ ان کے پاس ہونا چاہئیے۔؟
مسلم لیگ ن اور ریاست کے علمبرداروں سے یہ ہی کہنا ہے کہ سوئے ہوئے سانپ کو سویا ہی رہنے دیں اس انتہائی بدتہذیب نئی نسل کو برباد کرنے والے سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں بڑی مشکل سے ہماری نئی نسل قدرے اس واہیات بدکلامی سے باہر آ رہی ہے اب اس بوتل سے جن مت نکالیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے لیڈر کے اشارے پر مودی سے جا ملیں گے کیونکہ ایک مودی اور دوسرے خان نے ہی آئی ایم ایف سے ترلے کئے کہ پاکستان کو بھوکا مار دیں ان کے اقتصادی پیکیج کی دھجیاں اڑا دیں مگر آئی ایم ایف نے دونوں کو یکساں جوتا مارتے ہوئے پاکستان کو ریلیف پیکیج کی قسط ادا کر دی اس کا بھی بھارتی میڈیا پر بڑا چرچا ہے وہ کہتے ہیں کیسا غریب دیش ہے (بقول مودی) جو اتنی طاقت رکھتا ہے خطے میں آذربائیجان ، ترکی ، چین اور بنگلہ دیش کے علاوہ سکھ بھائیوں نے بھی برملا حمایت کی میں نے بھارتی پنجاب جا کر دیکھا ہے وہ اپنے پنجابی بھائیوں اور نانک کی سرزمین سے بہت محبت رکھتے ہیں ۔
اوپر سے ہماری ایئر فورس ،بری فوج اور نیوی کے ہوتے انہوں نے کراچی پر قبضہ کی جھوٹی خبریں چلائیں ۔ لاہور پر بندرگاہ بنا ڈالی ، رافیل لے تو آئے چلانا نہیں آیا ادھر ہمارے آئی ٹی کے ماہر نے انڈین ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنے کے علاوہ زمینی سائبروار سے بھی بھارت کو بتا دیا کہ پاکستان کیا چیز ہے ۔
بھارت کو یہی مشورہ ہے کہ وہ بالی ووڈ میں جینے والی قوم ہیں پورے ملک میں اول تو کوئی خوبصورت پیدا نہیں ہوتا اگر ہو جائے سیدھا بالی ووڈ کو ٹبر سمیت دوڑ لگا دیتا ہے ۔
خوشونت سنگھ سے کسی نے پوچھا کہ لاہور اور دلی میں کیا فرق ہے تو اس نے کہا میں لاہور کنیرڈ کالج میں مدعو تھا اور میں نے پورے ہال میں کوشش کر کے دیکھا کہ ایک بھی بدصورت شکل نظر آ جائے مگر ایسا نہیں ہوا بس یہی فرق ہے ۔ لاہور اور دہلی میں اس بار پھر بھارت نے جم خانہ چائے پینے کی خواہش کااظہار کیاعین 10 کی رات سے قبل ہم تین دوستوں نے دانستہ جم خانہ میں بیٹھک لگائی اور انڈین فاتحین کا قہقہوں سے انتظار کرتے رہے....
اور آخر یہ کہ ہمیں مسکراہٹیں بخشنے قہقہے لگا شکرادا کرنے اور پہلی بار فخر کے احساس سے آشنا کرنے پر جنرل عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کا بے حد شکریہ .... سلیوٹ....