Wed, September 16, 2026

تیسری سالگرہ، سرنڈر، 40 غدار، 4 سچ

تیسری سالگرہ، سرنڈر، 40 غدار، 4 سچ

یا اللہ خیر، اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بیشتر شہروں میں ہفتہ کی دوپہر زلزلہ سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ شدت 5.5 تھی لیکن در و دیوار ہل گئے۔ کلمہ ایسے ہی موقع پر یاد آتا ہے۔ یہ زلزلے خدا کی قسم اور کچھ نہیں، ’’جلوے دکھا رہا ہے وہ اپنے جلال کے۔‘‘ زمین میں گڑھی میخیں کمزور ہوں گی تو پہاڑ روئی کے گالوں کی اڑیں گے۔ قرآنی انتباہ، ’’لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں‘‘ رب ذوالجلال ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ 10 اپریل کو پی ٹی آئی حکومت ختم ہوئے تین سال بیت گئے۔ تحریک عدم اعتماد کی منظوری کی تیسری سالگرہ کہیں سالگرہ کے عنوان سے لب لعلین پر ہلکا ہلکا تبسم، کہیں برسی کے نام پر آنکھیں نم دیدہ نم دیدہ، موجود روشن دن 3 سال پہلے کی تاریک راتوں کا فسانہ سنا رہے ہیں۔ 10 اپریل 2022ء قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر لمبی تقریریں، تحریک اس وقت منظور ہوئی جب قومی اسمبلی کے باہر قیدیوں کو لے جانے والی پرزنرز وین اور ایمبولینس پہنچ گئیں۔ جب رات کے وقت سپریم کورٹ کی روشنیاں جل گئیں۔ سنگ مر مر کی عمارت جگمگانے لگیں، چیف جسٹس نے تحریک کی منظوری میں تاخیر کرنے پر صدر، وزیر اعظم اور ڈپٹی سپیکر کو آئین توڑنے کا مجرم قرار دے دیا۔ تحریک منظور ہو گئی۔ خان کی حکومت ختم ہو گئی۔ قیامت کی رات تھی قریبی عمارت وزیر اعظم ہائوس سے تھپڑوں کی خبریں آتی رہیں۔ چیف جسٹس اس کے بعد بھی انصاف کی کرسی پر براجمان رہے لیکن آئین توڑنے کے مجرموں پر آرٹیکل 6 لگانا بھول گئے۔ بندہ بشر سے بھول چوک ہو جاتی ہے۔ مگر یہ بھول چوک نہیں تھی گڈ ٹو سی یو کے جذبات کا اظہار تھا۔ فیصلہ کی فائل اب تک فیصلہ کی منتظر، فیصلہ آ جاتا تو فیصلہ ہو جاتا مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تین سال سے پورا ملک جلسوں، دھرنوں اسلام آباد پر مسلح حملوں، 9 مئی جیسے خطرناک واقعات اور سوشل میڈیا پر غلیظ ٹوئٹس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ خان اور ان کی پارٹی نے اس دوران وہ طوفان اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے۔ خان کو بالآخر 190 ملین پائونڈ کیس میں 14 سال اور ان کی ’’روحانی مرشد‘‘ اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ لیکن ’’نچلا تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا‘‘ خان جیل جا کر اور بھی خطرناک ہو گئے۔ جیل میں ملاقاتیوں کے جلوے، باہر آ کر میڈیا سے بات چیت میں دھمکیاں، خان کے پیغامات ملاقاتیں نہ ہونے پر بہنوں کا ہنگامہ، دھرنا، سوشل میڈیا کی غلیظ زبان، کسی کا ادب لحاظ نہیں، 15 اپریل تک گرینڈ الائنس کے ذریعے سڑکیں گرم کرنے کا اعلان، سڑکیں سورج کی تمازت سے گرم ہو گئیں، بقول سینئر صحافی سہیل وڑائچ انصافی سرد عوام 37 کالوں پر بھی سڑکوں پر نہ نکلے، رہائی کی ساری تدبیریں الٹی ہو گئیں تو خان سرنڈر پر مجبور، اعظم سواتی کسی دیوار کو چاٹ کر باہر نکلے اور خان کا پیغام لے کر طاقتوروں کے دروازے کھٹکھٹانے لگے ایک کھڑکی کھلی ملی، پیغام پہنچایا۔ آپ کی ساری شرائط منظور، خان منہ پر علی گڑھ والا تالا لگا کر چابی آپ کے حوالے کر دیں گے۔ سوشل میڈیا بند، سسٹم میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، کسی طرح انہیں جیل سے باہر نکالیں، قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا خان آرمی چیف کی تقرری کے دن سے ان کے ساتھ ملاقات کے خواہاں ہیں کوئی دامن نہیں پکڑا رہا، کھڑکی کی دوسری جانب سے بدھ کو ملنے کے لیے کہا گیا۔ سرنڈر کے باوجود کوئی اپنا پرایا ضمانت دینے پر تیار نہیں، سعودی عرب، یو اے ای اور قطر سے بھی کوئی جواب نہیں ملا، رہائی کے سارے دعوے غلط اور جھوٹے ثابت ہوئے۔ علی امین گنڈا پور نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا مگر دراز زلف وزیر اعلیٰ کو اپنی نوکری کے لالے پڑ گئے۔ اوورسیز سوشل میڈیا کو ہدایات دینے کا اعتراف کرنے والی بہنا کی خان سے ملاقات پر پابندی، دیگر کی ملاقاتیں محدود۔ ملاقاتوں کی بندش سے پی ٹی آئی لیر و لیر (ٹکڑے ٹکڑے) چیئرمین اور سیکرٹری جنرل میں تلخ کلامی چیئرمین نے شٹ اپ کال دے دی۔ لگتا ہے پارٹی خان کے ہاتھ سے نکل گئی۔ بیرون ملک سوشل میڈیا پر بیٹھے ’’کمائو پوتوں‘‘ نے خان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ اندرون ملک پارٹی یتیم، کسی مضبوط قیادت سے محروم ہو گئی۔ اڈیالہ جیل کے اندر اور باہر ہلچل، سلمان اکرم راجہ کے غدار کے فلسفہ نے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچا دی، حیدر مہدی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے 40 غداروں کے نام بتا دئیے۔ فہرست خان کو پیش کی جائے گی۔ خان کیا کریں 
گے۔ نوٹس دیں گے پارٹی سے نکال دیں گے تو صفر جمع صفر نتیجہ صفر، فہرست میں چیئرمین بیرسٹر گوہر اور حضرت اعظم سواتی سمیت پوری قیادت شامل ہے۔ معروف صحافی اور ویلاگر ظفر نقوی نے بڑی تگ و دو کے بعد چار ویڈیوز دکھائیں جن میں چار اصحاب نے سچ بول کر خان اور پارٹی کے سارے بیانیوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ پہلا سچ گنڈا پور نے 26 نومبر کے بارے میں کہا کہ اداروں نے ہوائی فائرنگ کی سیدھی گولیاں چلتیں تو ہم میں سے کوئی زندہ سلامت نہ رہتا۔ 278، سیکڑوں، 12,16,20لاشوں اور لواحقین کو ایک ایک کروڑ معاوضہ دینے کے بیانات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے دوسرا سچ اعظم سواتی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ خان روز اول سے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے لیے بے تاب تھے۔ ڈٹ گیا کپتان کا بیانیہ دریا برد، تیسرا سچ خان کے حامی وکیل نعیم بخاری کے مطابق خان مردم شناس ہیں نہ عورت شناس انہیں 190 پائونڈ کیس میں سزا جرم ثابت ہونے پر دی گئی۔ چوتھا سچ سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف بڑے بھائی سے بے وفائی پر آمادہ ہو جاتے تو مقتدرہ کبھی خان کو اقتدار میں لانے کا تجربہ نہ کرتی۔ تجربہ کا بھرم جلدی کھل گیا۔ اس لیے مقتدرہ نے خان جی سے ہاتھ اٹھا لیا۔ تجربہ کیوں ناکام ہوا خان کی سیاست، فطرت، متلون مزاجی، حامیوں کی تربیت، ممی ڈیڈی والوں کی خصلت، اپنے سوا سب کو چور ڈاکو کہنے کی عادت کی وجہ سے کوئی سمجھدار اور دانش مند خان کے ارد گرد نہیں، عوام بھی ان کی طبیعت اور سیاست کو سمجھنے لگے ہیں۔ اس لیے رابطوں، مذاکرات اور رہائی کے سارے دعوے ساری کوششیں ریت کا ڈھیر ثابت ہو رہی ہیں۔ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی فطری حلیف اور تجربہ کار سیاستدانوں پر مشتمل ہیں۔ نہری پانی کے تنازع کو مل بیٹھ کر طے کر لیا جائے تو حکومت اور ملک بڑے بحران سے بچ جائے گا۔ پچھلے دنوں پیپلز پارٹی اس تنازع کو قومی اسمبلی میں لے آئی اور آغا رفیع اللہ نے اجلاس درہم برہم کر دیا۔ 22 ارکان بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔ کورم ٹوٹ گیا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ میں قوم پرست تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کے دبائو میں ہے۔ صدر آصف زرداری ہسپتال میں تھے بلاول بھٹو طویل دورے پر باہر چلے گئے۔ خطرہ ہے کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف نے فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ حل نہ کیا تو بگاڑ پیدا ہو گا لیکن اطمینان کہ پی پی انتہائی قدم نہیں اٹھائے گی۔

ٹیگز: