Wed, September 16, 2026

تم ہو کون؟

تم ہو کون؟

 واضع الفاظ،  واضع لہجہ ،  واضح  پیغام ، کیا سمجھتے ہو خود کو؟ کون ہو تم؟ ذہنی مریض،غدار،نرگسیت پسند،سکیورٹی رسک،اس سے بڑھ کر بھونکنے والا کتا یہ وہ الفاظ ہیں جو ترجمان پاک افواج ڈی جی  آئی ایس پی آرنے تحریک انصاف اور اس کے بانی قیدی نمبر 804  کے بارے میں ادا کئے۔ پاکستان کی مجموعی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کے بارے میں افواج پاکستان یا اس کے ترجمان نے ایسے انتہائی سنجیدہ اور غیرمعمولی الفاظ استعمال نہیں کئے ،یہاں ایک بات مزید صراحت کیساتھ بھی ہوئی کہ ماضی میں بھی محترمہ فاطمہ جناح سے ذوالقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو ،میاں نواز شریف کو بھی سکیورٹی رسک قرار دیا گیا ۔ 
اس پر ترجمان پاک افواج کا یہ کہنا کہ ہم نے اس پوڈیم سے کبھی کسی کو نہ تو سکیورٹی رسک قرار دیا اور نہ ہی ان سیاسی رہنمائوں نے افواج پاکستان کے خلاف ایسا بیانیہ بناکر اس حد کو پار کرنے کی کوشش کی ہے جس حد کو بانی تحریک انصاف مسلسل پار کئے جا رہے ہیں ،یہاں سوال یہ ہے کہ ملک کی ایک مقبول سیاسی جماعت جس کے کروڑوں ووٹر سپورٹر موجود ہیں، ترجمان پاک افواج کی اس پریس بریفنگ کے بعد یہ سمجھا جائے کہ اس جماعت کا سیاسی سفر اختتام پذیر ہوا یا سیدھے الفاظ میں کہا جائے توکیا اس جماعت کو ملک دشمن قرار دے کر اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے ۔
 گو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ترجمان افواج پاکستان نے اس سوال کے جواب میں بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ ریاست کے ایک اہم رکن کے طور پر ہم نے اپنا موقف سامنے رکھ دیا ہے ،باقی معاملات ریاست کو خود دیکھنا ہیں۔ تحریک انصاف اور اس سے وابستہ سوشل میڈیا حالات کی نزاکت اور سنگینی کا احساس کئے بغیراس پریس بریفنگ پرایک دور کی کوڑی ڈھونڈ کر لایا ہے کہ دیکھا خان یہی چاہ رہا تھا کہ یہ کھل کر سامنے آئیں حالانکہ بطور ادارہ افواج پاکستان تحریک انصاف اور اس کے بانی کے متعلق اپنا واضح اور غیر مبہم موقف دے چکے ہیں جبکہ گذشتہ صرف ایک ماہ کے واقعات کو ترتیب سے دیکھا جائے اور واقعات کی کڑیوں کو جوڑا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو کہا جارہا تھا کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان حتیٰ کہ آن دی فلور آف پارلیمنٹ بیرسٹر گوہر خان جیسے بندے کا یہ کہناکہ خان اس سسٹم کا باپ ہے اور آپ جتنی بھی قانون سازی کر رہے ہیں۔
 خان جب آئے گا تو ہم اسے، ان ڈو، کریں گے پھر تحریک انصاف کے باہر بیٹھے یوٹیوبرز جو کہہ رہے تھے کہ  سب خان کے پائوں پڑے ہوئے ہیں لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ان سب غباروں سے ادارے نے ایک ہی دفعہ میں ہوا نکال دی ہے اوربانی تحریک انصاف کو جس سمت میں اکسایا جا رہا تھا انہوں اسی طرح بم کو دولتی جھاڑ کر اپنے اور اپنی پارٹی کے لئے بندگلی کا پچھلا دروازہ بھی بند کر دیا ہے ۔ ان حالات میں تحریک انصاف اور اس کے بانی کے پاس کیا آپشن ہیں وہ بہت جلد سامنے آجائیں گے کیونکہ ایسا ہر گز ممکن نہیں کہ ملک کا طاقتور ادارہ ایک دن آپکے بارے اپنے اتنے سخت موقف کا اعادہ کرے اور اگلے دن آپ ایسا سیاسی چمتکار کریں کہ سب آپکے واقعی پائوں  پڑے ہوں۔
 زمینی حقیقت یہی ہے کہ اگلا دن آپکے لئے حقیقی سختیاں لے کر آ رہا ہے یعنی بانی اور پوری جماعت کے لئے زمین حقیقی طور پر گرم ہونے جا رہی ہے۔ سیاست کی آپ ا،ب ،ج ،د سے بھی واقف نہیں اور جو سیاسی یتیم آپ نے اکٹھے کئے تھے ان کے گلے آپ نے اپنے ہاتھوں سے کاٹ دیے ہیں اور تحریک انصاف میں وہ بطور غدار جانے جاتے ہیں۔
    آپ ہو کون؟ سابق آمر مرحوم جنرل مشرف نے ازراہ تفنن اپنی کتاب  ان دی لائن آف فائر  میں کہا تھا کہ 2003  کے عام انتخابات سے پہلے آپ ان کے پاس آئے تھے کہ آپ کی جماعت تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی 200 نشستوں پر کامیابی دلوائی جائے اور انہیں ملک کا آئندہ وزیر اعظم بنایا جائے ،اپنی کتاب میں اس معمولی ذکر کے علاوہ اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں باقاعدہ تمسخر انہ انداز میں بھی جنر ل مشرف نے آپکے بارے اپنے اس موقف کو دہرایا تھا۔یہی آپ کی سیاسی حقیقت ہے لیکن کچھ نادیدہ ہاتھوں نے آپکے غبارے میں اتنی ہوا بھری کہ آپ آج تک پھولے نہیں سماتے، یہی بنیاد تھی آپ کی جنرل مشرف سے مخالفت کی اور یہی جواب ہے اس سوال کا کہ آپ ہو کون؟۔
2022  میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجہ میں آپکی حکومت کیا گئی آپ کا دماغی اور سیاسی سنتولن ہی خراب ہو گیااور آپ نے ملکی سلامتی کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے کبھی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی کوشش کی تو کبھی اپنے صوبائی وزیر خزانہ کے ذریعے عالمی مالیاتی ادارے کو خط لکھوایا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے اس پہ بس نہ چلا تواوورسیز پاکستانیوں سے کہا کہ اپنی ترسیلات زر روک لو یا ان ترسیلات کو بینکنگ چینل کی بجائے ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھجوایا جائے ، کبھی ملک کو سری لنکا بنانے کی باقاعدہ کوشش کی تحریک عدم اعتماد کے موقع پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق آپ آرٹیکل6 کے مجرم تھے لیکن نظام میں اپنی موجود سپورٹ کی وجہ سے آپ محفوظ رہے ۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے خلا ف وہ کونسی سازش ہے جس میں بانی تحریک انصاف شامل نہ رہے ہوں ،ان کو بطورڈی جی آئی ایس آئی زبردستی عہدے سے ہٹانے سے لیکر بطور چیف آف آرمی سٹاف تعیناتی کے موقع پر زخمی ٹانگ سے آپکا لانگ مارچ کوئی بھولنے والی بات ہے ۔جتنا مواد آپ کے خلاف سنگین نوعیت کی کارروائی کے لئے ریاست کے پاس موجود ہے اتنا مواد کسی دوسری سیاسی قوت کے خلاف ہوتا تو اب تک نتائج کچھ اور ہی ہوتے ۔یا یوں کہیں کہ جتنا تحمل ادارے نے ابھی تک دکھایا ہے ایسی مثال ملکی تاریخ میں تلاش کرنا ممکن ہی نہیں۔ 
    سیاست اپنے اور ملک و قوم کے لئے راستہ نکالنے کا نام ہے۔ تحریک انصاف اور اس کا بانی یہ راستہ تلاش کرنے کی بجائے اس ٹرانس سے باہر آنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ وہ مقبو لیت کے ساتویں آسمان پر ہیں۔ ایک دن عوام اٹھیں گے اور موجودہ نظام کو بزور بازو تلپٹ کر دیں گے۔ اڈیالہ جیل کا دروازہ ٹوٹے گا اور وہ سیدھے جیل سے وزیر اعظم ہائوس پہنچ جائیں گے عوامی طاقت سے یہ سب ممکن بھی ہے لیکن جب بات طاقت کی ہو گی تو پھر جیتے گا وہی جس کے پاس طاقت زیادہ ہو گی۔ یہی وہ باریک نقطہ ہے جسے بڑے غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ مسائل بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں لیکن بات چیت کس سے کب کہاں اور کسے کرنی ہے؟۔ یہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے برسراقتدار سویلین سائیڈ سے تو آپ بات کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ آپ کے نزدیک وہ چور ڈاکو اور لٹیرے ہیں۔ آپ کے نزدیک بات چیت کے قابل سائیڈ عسکری اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر آپ ان سے ہی بات کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟۔ آپ اگر معمولی سوجھ بوجھ کے حامل بھی ہوتے تو سویلین سائیڈ سے جس طرح وزیر اعظم پاکستان آپ کو پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں تو آپ اس دعوت سے فائدہ اٹھاتے انہیں یہاں انگیج کر کے آپ ایک صفحہ کے تاثر کو خراب بھی کر سکتے تھے لیکن مواقع ملنے کے باوجود آپ ایسا کچھ بھی نہیں کر پائے ۔یہی وہ بنیادی فرق ہے آپ اور آپ کی ہم عصر دیگر سیاسی قوتوں میں کہ انہوں نے بدترین حالات میں اپنے لئے اپنی جماعت کے لئے موقع میسر آنے پر راستہ نکالا لیکن آپ کو یہ بات کون سمجھائے؟
  ۔  ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے اپنی ساری پریس بریفنگ کے دوران بانی تحریک انصاف کا نام نہیں لیا لیکن اس ساری پریس بریفنگ کا خلاصہ یہی تھا کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور خود بانی جو زبان افواج پاکستان کے سربراہ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں وہ ہر گز مناسب نہ ہے۔ جس سے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت پر مامورافواج میں واضح طور پر بے چینی پھیل رہی تھی آپکی سیاست سے ہٹ کر وہ جوان جو ملک کی حفاظت کے لئے اپنے کمانڈر کے اشارے پر اپنی جان قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے وہ اپنے سربراہ کے خلاف ایسی زبان کیسے پسند کر سکتے ہیں اور اتنے سنگین حالات کے باوجود تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پھر بھی قدم پیچھے ہٹانے کے لیے تیار نہیں ۔سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے افواج پاکستان نے اپنے ترجمان کے ذریعے اپنا ایک واضح موقف دے دیا ہے۔ جس کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف ایک مرتبہ پھر کچھ خوفناک ہونے والا ہے ۔

تحریر: شفقت عمران  بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ

  • 1
  • نوٹ:  یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادار ے کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔
ٹیگز: