Wed, September 16, 2026

کعبہ، عبادت کے لیے پہلا گھر

کعبہ، عبادت کے لیے پہلا گھر

عقیدت ایک طرف، یہ جہان حیرت تھا جو ہمارے سامنے ایستادہ تھا ۔ سورہ آل عمران کی آیت نے تصدیقی مہر ثبت کر دی کہ بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے ، با برکت اور جہان کے لئے موجب ہدایت ہم نے جب صحن مسجد حرام کے برآمدوں سے پہلی نظر اسے دیکھا تو بدن تھرتھر کانپنے لگا۔ یوں لگا کہ یہ فقط عمارت نہیں بلکہ کائنات کا وہ محور ہے جسے کنٹرول روم بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس جگہ سے بہت نیچے زمین کی آخری تہہ تک جہاں خزانے چھپے ہیں ، اس سے بھی نیچے کچھ منبع توانائی ہے جو یہاں سے پھوٹتی ہے تو آسمانوں تک سب راز افشا کرتی جاتی ہے ۔ سورہ البقرہ آیت نے اس مقام کو کچھ اور منزلت عطا فرما دی اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور پھر اسی آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو کہا کہ طواف کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو ۔ ہم عین وہاں پہنچ چکے تھے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر کعبہ کی دیواریں بلند کی تھیں۔ ہم ایسے دنیادار یہاں پر جنت کے طلب گار تو ہرگز نہ تھے ، کچھ اور طلب تھی کہ اس شہر مکہ کی قسم کھانے والا پروردگار اس زمین کو اور پھر یہاں سے بلند ہوتے آسمان کو کائنات کا سب سے اہم نقطہ قرار دے چکا تھا ۔ زمین کی تہہ سے پھوٹتے چشمے زم زم بن کر سائنسی دماغوں کو بھی حیرت میں ڈالے ہوئے تھے ۔ کچھ تو تھا کہ اسی سرزمین پر ، محور کے قریب ترین ، ان عظیم انسانوں کی اس مادی دنیا میں پیدائش کے اسباب پیدا کئے گئے جو اپنے کردار اور عمل سے الہامی آیات کی مجسم تفسیر بن گئے اور وہ عیسائی اور یہودی عالم جو صدیوں سے آخری پیغمبر کے منتظر تھے اور تمنائی تھے کہ آخری نبی انہی کے قبائل میں سے اترے ، ان کی آنکھیں سنگلاخ اور خشک پہاڑوں میں چھپی ہوئی اسی سرزمین مقدس پر جمی تھیں کیونکہ وہ عالم تھے اور سب نشانیاں جانتے تھے اور پھر یہیں سے وہ نور پھوٹتا ہوا دیکھا گیا جس نے چند برسوں میں کائناتی انقلاب کی بنیاد رکھ دی ۔ ہمارے لئے یہ جگہ جنت کی طلب سے کہیں بڑھ کر روح کی طہارت طلب کرنے کا عظیم مقام تھا ۔ یہاں کی آب و ہوا ، دبدبہ ، رعب اور جوش و حدت ان گنت زاویوں سے سراسر مختلف 
تھا۔ یہاں پر بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کمتر و بے کس محسوس ہوتا تھا۔  اسی سال خلا کے دو سو بیس دن کے دورے سے واپس آنے والے ناسا کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی ہے جو دنیا بھر میں وائرل ہے۔یہ تصویر بیت اللہ کی ہے اور بیت اللہ کو دیکھ کر میں نے اپنے محسوسات قلم زد کر دئیے تھے جو میرے کالم میں چند ماہ قبل شائع بھی ہو چکے ۔ ناسا کے سائنسدان نے خلا سے جو کچھ دیکھا وہی کچھ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر ہم نے شدت سے محسوس کیا تھا ۔ خلا سے واپس آنے والے ڈونلڈ پیٹٹ نے کعبہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کعبہ سے پھوٹتی روشنی اور نور پوری کائنات کو روشن کرتا دکھائی دیتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کائنات اسی مقام سے روشنی وصول کر رہی ہے ۔بیت اللہ اور اس میں نصب حجراسود کے حوالے سے پندرہ یونیورسٹیز کی تحقیق کو امریکی پروفیسر لارنس ای یوزف Lawrance E Yoseph نے شائع کیا ہے جس کے مطابق اگر طواف کعبہ رک جائے تو زمینی گردش کا تسلسل بے ترتیب ہو سکتا ہے ۔ حجراسود پر موجود دھاتی تہہ الکا ( ULCA ) جو کہ سٹیل سے تئیس ہزار گنا طاقت ور ہے وہ بھی لاکھوں سال سے جاری طواف سے پیدا ہونے والی توانائی سے مل کر ایک روشنی پیدا کرتی ہے جو خلا تک نہ صرف دکھائی دیتی ہے بلکہ منبع نور محسوس ہوتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ حجراسود سپر کنڈکٹر ہے جو ایک مائیکرو فون کی طرح کام کرتا ہے اور روشنی کی لہروں کو ہزاروں میل تک پہنچاتا ہے۔ یہ سائنسی تحقیق اپنی جگہ پر ، ہم نے طواف کا آغاز کعبہ کے اس کونے سے کیا جہاں حجر اسود رکھا ہوا ہے ۔ طواف کے مقام آغاز کی نشاندہی برآمدوں کی بیرونی دیوار پر سبز رنگ کی ٹیوب لائٹ کے ذریعے بھی کی گئی تھی ۔ آسان تو یہ تھا کہ طواف کرنے والے جو بے ترتیب چلتے تھے ، ہم ان سے کچھ دور ذرہ بڑا دائرہ بناتے اور طواف کرتے جس سے سفر کچھ زیادہ ہوتا مگر تسلسل کے ساتھ طواف ہوتا مگر ہم نے مقام ابراہیم پر بنے لائٹ ہائوس کے اندر سے گزرنا تھا اور یہی حکم بھی تھا کہ بہتر طواف وہی ہے جو مقام ابراہیم کے اندر رہ کر کیا جائے۔ میں نے دیکھا کہ معاذ شاہد اور دانش کہیں دور نکل گئے ہیں ، ساتھیوں کو نہ پا کر بھی میں نے یکسوئی سے طواف جاری رکھا۔ میری گردن کعبہ کی طرف تھی اور مقام ابراہیم کے اندر سے گزرتے ہوئے کچھ دھکم پیل ہوتی تھی اور پھر یہاں سے نکل کر دائرہ کھل جاتا تھا جس سے چلنا آسان اور مسلسل ہو جاتا ۔ یونہی مقام ابراہیم قریب آتا لوگ ایک دوسرے کو دھکیل کر جگہ بنانے لگتے ۔ میں نے کچھ لوگوں کو ہر چکر پر مارکر سے اپنی ہتھیلی پر ایک ہندسہ بڑھاتے دیکھا ، مجھے یہ عمل اس لئے پسند آیا کہ سات پھیروں سے کم و بیش نہ ہو جائیں ۔ طواف کے دوران دو طرح کے لوگ دوسروں کے لئے مشکل پیدا کرتے تھے ۔ ایک وہ جو طواف ختم کرتے ہی حلقہ توڑ کر ایک دم باہر نکلتے ہیں اور دوسرے وہ جو طواف کے دوران کعبہ کی عمارت کو چھونا چاہتے ہیں، حالانکہ دستیاب شرعی معلومات کے مطابق طواف کے دوران بیت اللہ کے غلاف کو چھونا یا چومنا منع ہے کیونکہ غلاف کعبہ کو چھونے سے احرام کو خوشبو لگ سکتی ہے یا انگلیاں خوشبو دار ہو سکتی ہیں ، جو کہ ممنوع ہے ۔طواف کرنے والے جو گروپ کی شکل میں چلتے ہیں جن کے گلے میں اپنی کمپنی کے تعارفی کارڈز بھی دیکھے جاتے ہیں وہ اپنے دائرے میں کسی کو گھسنے نہیں دیتے ۔ حجر اسود کو بوسہ دینے والے جس بے ہنگم طریقے سے طواف کو ڈسٹرب کرتے ہیں وہ بھی ایک المیہ ہے کہ مقدس ترین عبادت کو بدنظمی سے سرانجام دیتے ہوئے دوسرے لوگوں کو اذیت میں ڈالنا بھی تو ایک جرم ہے اور ایسے لوگ وہاں کی سکیورٹی کے ہاتھوں بے عزت بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب اذان ہوتی ہے تو نماز کی ادائیگی کے لئے صفیں وہیں پر بنتی ہیں مگر حیرت ہے کہ انتظامیہ کو طواف رکوانے کے لئے ڈنڈے کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ نماز کے لئے صفیں بنا کر کھڑے ہو جائیں اور طواف روک دیا جائے۔ ہم نے دیکھا کہ سجدہ میں پڑے ہوئے لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کر طواف جاری رکھا جاتا ہے۔ طواف کرنے کے لئے پہلی اور دوسری منزل ذرا کھلی مگر طویل ہے مگر چونکہ مقام ابراہیم وہاں نہیں ہوتا اس لئے لوگ کعبہ کے پاس طواف کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چلنے میں مشکل ہو تو مناسب ٹکٹ پر کارٹ گاڑی بھی طواف کراتی ہے اور یہ ٹریک تیسری منزل پر ہے۔ ہم نے اسے اپنا اعزاز سمجھا کہ تمام طواف بیت اللہ کے قریب مکمل کئے اور مقام ابراہیم کے اندر رہ کر مکمل کئے۔ طواف کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کا اذن بھی کعبہ کے بالکل سامنے عطا ہوا۔ طواف کے بعد نوافل کی ادائیگی کی اور پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی ہمارا اگلا رکن عمرہ تھا اور اس کے لئے بھی خواہش تھی کہ پہلی اور دوسری منزل کی بجائے زمین پر ہی سعی کی جائے جہاں صفا و مروہ سنگ مر مر کی عمارت میں ڈھکی ہوئی ہونے کے باوجود اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔

ٹیگز: