چاچا رفیق افطاری کے بعد چوپال آئے توہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ مٹھائی کا ڈبہ دیکھ کر نتھو اورپھتو بولے چاچا جی یہ کس خوشی میں لائے ہیں؟۔ چاچا رفیق فوراً بولے، بڑوں کا انتظار کرو، صبر کرواس کے بعد بتاﺅں گا۔ نتھو اور پھتو اپنا سا منہ لے کر چپ کرگئے۔سب چوپال میں چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے، اسی اثنا میں چپ سائیں آئے اور سب نے با آواز بلند سلام کیا، جواب دینے کے بعد چپ سائیں بیٹھ گئے ۔ چوپال میں سکوت طاری ہوگیا حتیٰ کہ سانسوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔کچھ دیر بعد اجازت ملنے پر چاچا رفیق نے مٹھائی کا ڈبہ چپ سائیں کے آگے کیا۔ چپ سائیںنے وجہ دریافت کی۔ چاچا رفیق بولے ، سائیں جی ۔ میری پوتی نینی آٹھ نو سال کی ہے ۔ اس نے آج پہلا روزہ رکھاتھا۔ اس کی پہلی روزہ کشائی کی ، میں آپ کا منہ میٹھا کرانے کے لیے یہ مٹھائی لایا ہوں۔
نتھو اور پھتومٹھائی کھاتے ہوئے بولے چاچا جی پوتی کی جتنی عمر بتارہے ہیں اس کا تو چڑی روزہ ہوگا نا۔۔۔ چاچا رفیق بولے نہ بھئی دوستوخیر سے مکمل روزہ تھا میری پوتی کا۔چاچا رفیق نے مزید کہا میری پوتی سحری کے وقت انتہائی ذوق وشوق سے اٹھی اور اپنی والدہ سے کہا کہ ماما میں نے بھی اپنے بڑے بہن بھائیوں کی طرح آج روزہ رکھنا ہے۔ اس کی والدہ نے سمجھانے کی کوشش کی کہ نینی ابھی تم چھوٹی ہو۔۔۔چڑی روزہ رکھ لو،، وہ طوطلے اندا زمیں بولی، نئیں ماما جی پچھلے سال آپ نے چڑی روزہ رکھوایا تھا ، آج تو میں سحری اور افطار آپ کے ساتھ ہی کروں گی۔ اس کی والدہ پہلے تھوڑی پریشان ہوئی پھر اللہ کی سپرد کرکے نینی کو سحری کرادی۔
چوپال میں موجود سب حیران تھے کہ اتنی چھوٹی بچی اور چڑی روزہ نہیں بلکہ مکمل روزہ ۔۔۔۔چپ سائیں، نتھو ، پھتواور چوپال کے سب لوگ چاچا رفیق کی اگلی بات کے منتظرتھے۔۔۔ چاچا رفیق خوشی سے نہال تھے، بولے سائیںجی، میری بہو اللہ کے کرم سے بہت نیک سیرت ہے اور بچوں کی تربیت پرانی ماﺅں جیسی کررہی ہے۔صابر ،شاکر ہے، روکھی سوکھی کھا لیتی ہے اور کبھی کوئی خاص فرمائش بھی اس کی زبان سے نہیںسنی ،صوم وصلوٰة کی تو انتہا درجے کی پابند ہے۔۔۔چاچا رفیق بولے، نینی نے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی سمجھ کے تحت نورانی قاعدہ ، نماز اورتسبیح پڑھی۔افطاری سے آدھ پون گھٹنے قبل ، بس ہمت ہار کر خاموش ہوگئی، بچی ہی تو تھی۔ خیر اس کے والد نے استطاعت کے مطابق گھر والوں کے لیے افطاری کا اہتمام کیا اور افطاری کے بعد نینی کو انعام دیا کہ آٹھ نو برس کی بچی نے پورا روزہ نبھایا اور روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ خصوصی دعائیں جیسے کہ یا اللہ! سب غریبوں کو بھی اچھا کھانا نصیب ہو!،یا اللہ! میرے امی ابو کو خوش رکھنا،یا اللہ! میرا روزہ قبول کر لینا!بھی مانگیں جسے سن کر بڑے بھی حیران ہوگئے ۔
چپ سائیں نے پہلے تو چاچا رفیق کومبارک باد دی پھرتوقف کے بعد بولے،بہو کے لیے بھی ڈھیروں دعائیں۔ بھائی رفیق ہم سب کا ماضی بہت سادہ اور مائیںہمت وحوصلے والی ہوتی تھی۔ پرانے زمانے میں بچپن میں بچوںکی ضد کو مدنظر رکھ کر ’چڑی روزہ‘ رکھنے کا مشورہ دیاجاتا تھا۔ چڑی روزہ بزرگوں کی ذاتی اصطلاح ہے جو بچوں کے روزے اور ان کے بہلانے کے لئے استعمال کی جاتی تھی اور بچوں کی ضد کو پورا کرنے کے لئے والدین روزے کو ’چڑی روزہ‘ قرار دیتے تھے اور کہاجاتا تھا کہ جب چڑی نظر آجائے کچھ کھالو تو بچوں کا روزہ مکمل ہوجاتا ہے۔ خیر۔۔۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے ۔۔۔ والدین بچوں کی تربیت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح مالی پودے کی آبیاری کرتا ہے۔ آج کے والدین اسی تذبذب کا شکار ہوتے ہیں کہ بچے کو روزہ رکھنے دیں یا نہیں، کیا بچے روزہ رکھنے کے لیے تیار ہیں؟۔ تاہم سچی بات یہ ہے کہ چڑی روزہ ہو یا مکمل روزہ بچوں اور ماﺅں کے لیے ہمت کی بات ہوتی ہے۔یہ اگلی زندگی کی تیاری ہے ، جس کی تربیت والدین کرتے ہیں۔
صاحبو!رمضان کی رونقیں جہاں بڑوں کے لیے روحانی تسکین اور برکتوں کا باعث بنتی ہیں، وہیں بچوں کے لیے یہ مہینہ ایک خوشگوار تجربہ بن جاتا ہے۔ خاص طور پر سحری اور افطاری کے وقت بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔بچوں کو اپنی پسندیدہ ڈشز کھانے کا بے حد شوق ہوتا ہے، اسی لیے وہ روزانہ والدہ سے نت نئی فرمائشیں کرتے ہیں۔ پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ، دہی بھلے یا کوئی خاص میٹھا ،ہر روز کچھ نہ کچھ نیا کھانے کی خواہش انہیں مزید پرجوش کر دیتی ہے۔بچوں کی ایک دلچسپ عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ افطاری کے دسترخوان پر رکھی گئی چیزوں کی گنتی کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ آج کتنی ڈشز تیار کی گئی ہیں؟۔یہ معصوم شرارتیں اور خوشیاں ہی رمضان کی رونقوں کو دوبالا کر دیتی ہیں، اور گھر کے بڑے بھی ان لمحات سے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔
نتھو ، پھتو، چاچا رفیق، چپ سائیں کی باتیں بہت انہماک سے سن رہے تھے۔ چپ سائیں سانس لینے کے بعد بولے ۔دوستو!پہلے روزے پر بچوں کی خوشی اور جوش دیدنی ہوتا ہے۔ گھر کے سب افراد ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اور اکثر بچوں کا پہلا روزہ خصوصی اہتمام کے ساتھ رکھا جاتا ہے، جہاں ان کے پسندیدہ کھانے، تحفے اور دعا¶ں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رات کو جلدی اٹھنا، نیند میں آنکھیں ملتے ہوئے والدین کے ساتھ سحری کرنا اور خاص طور پر جب امی کہتی ہیں، جلدی کھا¶، اذان ہونے والی ہے! یہ سب بچوں کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ کچھ بچے جاگنے کے بہانے لگاتے ہیں تو کچھ آنکھیں بند کیے نوالے لیتے ہیں۔ بات صرف سحری پر ختم نہیں ہوتی بلکہ بچوں کے لیے افطاری کا وقت سب سے زیادہ مزے دار ہوتا ہے۔جب افطار کا وقت قریب آتا ہے تو سب سے زیادہ بے چینی انہیں ہی ہوتی ہے، اور اکثر شرارت سے گھڑی کی سوئیاں دیکھ کر کہتے ہیں، بس ایک منٹ باقی ہے!، سائرن ہونے والا ہے۔
صاحبو! قابل ذکر بات یہ ہے کہ بچہ جب پہلا روزہ رکھے تو والدین اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے خصوصی اہتمام کریں، مثلاً افطار میں بچے کے دوستوں اور رشتہ داروں کو دعوت دیں۔اس کے علاوہ والدین پہلے روزے کے موقع پرحوصلہ افزائی کرنے کے لیے بچے کے لیے تحفہ بھی خریدیںتاکہ یہ اس کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ بن جائے اور اس کو مزید کی ترغیب ملے۔روزہ بچوں کے لیے نہ صرف ایک عبادت بلکہ سیکھنے کا ایک خوبصورت سفر بھی ہوتا ہے، جو ان کے کردار میں نرمی، شکر گزاری اور صبر جیسے خوبصورت اوصاف پیدا کرتا ہے لہذا بچوں کو بچوں کواس عبادت کا عادی بنانا چاہئے خواہ چڑی روزہ ہی ہو۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!