Wed, September 16, 2026

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آصف زرداری سے اس لئے بھی محبت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا شہید جسم قصاص کا مطالبہ کر رہاتھا کہ انہوں نے ’’پاکستان کھپے ‘‘کا نعرہ لگاکر سڑکوں پر نکلے لاکھوں بے قابوانسانوں کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے ۔ میرا سنِ شعور بھٹو کے قتل سے شروع ہوتا ہے اورمیں نے زندگی میں کبھی افغان جنگجوئوں کی ہیرو شپ قبول نہیں کی ۔ صرف افغان ہی کیوں سینٹرل ایشین کو بھی میں نے وہ عزت نہیں دی جو مطالعہ پاکستان نے مجھے سکھائی تھی ۔
29جنوری 2014 ء کو جب طالبان سے امن مذاکرات کیلئے میاںمحمد نواز شریف نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں عرفان صدیقی مرحومٗ ٗ رحیم اللہ یوسفزئی ٗ رستم شاہ مہمندٗ میجر (ر)عامر شاہ اوراُن کی سرپرستی اُس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کررہے تھے ٗ منظر عام پر آئی تو میرا کلیجہ منہ کو آگیا ۔ بھلا ایک معمولی گروہ دنیا کی ایٹمی فوج سے برابری کی بنیاد پر بیٹھے کر مذاکرات کیسے کرسکتا ہے جبکہ اُس کا چھ گنابڑا دشمن اُس کے ہمسائے میں جدید اسلحہ ٗ ایٹمی ہتھیار اور بڑی فوج لئے بیٹھا ہو۔ میں نے امن مذاکرات کے اعلان سے لے کر 16دسمبر 2014ء تک تواتر اورتسلسل سے لکھا کہ سورج مغرب سے نکل سکتا ہے لیکن یہ مذاکرات کبھی نہیں ہو ں گے کہ ایسا سوچنا بھی افواج پاکستان کی تذلیل ہیٗ اُسے بے آبرو کرنے کی سازش ہے ۔ 16اپریل 2014کو میں نے اپنے کالم شائع روزنامہ دن میں لکھا ’’ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی فیصلے طاقت سے ہوتے ہیں مجبوری میں نہیں اور جو ریاستیں مجبور ہو کر فیصلے کرتی ہیں وہ ایک دن اپنا وجود کھو دیتی ہیں اور وہ بُرا دن ہوتا ہے۔ ‘‘۔اسی طرح 20اپریل 2014ء کو میرے کالم روزنامہ دن کی تحریک تھی کہ ‘پاکستان ایک چومکھی لڑائی کی دلدل میں اتر چکا ہے ۔ طالبان پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کے انتخابات میں بی جے پی جیتتی ہے تو محاذ آرائی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا جس کا عندیہ بی جے پی نے اپنے انتخابی پروگرام میں دے رکھا ہے۔ طالبان ٗ بھارت ٗ فرقہ واریت ٗ کراچی کے حالات اور بیرونی مداخلت ان سب کا مقابلہ افواجِ پاکستان نے کرنا ہے لیکن جب بغیر کسی ثبوت کے افواج ِ پاکستان اور اُس کے اہم ترین ادارے پر الزامات کی بوچھاڑ کردیں گے تو اس کے بعد آپ کے پاس دو آپشن ہی بچتے ہیں ۔اگر آپ کو اپنی فوج پر اعتماد نہیں تو اگلہ اعتماد طالبان یا بھارت پرکرنا پڑے گا۔‘‘ یہ کالم حامد میر پر ہونے والے حملے کے تناظرمیں تھا جب غلیل اورقلم کی باتیں ہو رہی تھیں ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی نے پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا اس کا 80فیصد ہم تحریک انصاف میں قیام کے دوران آپسی گفتگو میں کرتے رہے ہیں ۔ میں تو معراج محمد خان سے ملنے کراچی چلا گیا تھا کہ جناب یہ آپ نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان قومی محاذآزادی کس جماعت میں ضم کر لی انہوں نے انتہائی محبت اور شفقت سے فرمایا تھا کہ ’’ عمران نرگسیت کا مریض ہے اور ایسا صرف اُس کی مسلسل ہیرو شپ نے اُس کے ساتھ کر دیا ہے ۔ ہر ہیرو میں یہ تھوڑی بہت ہوتی ہے لیکن سیاست اور پھر جمہوری سیاست باہمی مشورے کانام ہے ٗ وہ وقت کے ساتھ سیکھ جائے گا تو میںنے پوچھا استاد محترم اگر وہ نہ سیکھ سکھا تو پھر کیا بنے گا؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا پھر پاگل ہوجائے گا اور یہ بات ساری قوم کو معلوم پڑ جائے گی ۔‘‘آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے پاکستانی سیاست کی معراج کو سچا ثابت کردکھایا ۔ 
اتحادی جماعتوں کو اس وقت پاکستان مخالف بیانیے کے خلاف عوام کو باخبر کرنا ہو گا۔ ملک دشمنوں کی نشاندہی اخبارات کے ذریعے کافی نہیں عوام میں اتر کراپنے وجود کا احساس دلانا ہو گا اور مجھے لکھنے دیں کہ نفرت انگیز عمرانی بیانیے کو اگر پاکستان میں کوئی شخص دل و جان سے عوام میں جا کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر پوری ذمہ داری سے رد کر رہا ہے تو وہ صرف صدر استحکام ِ پاکستان پارٹی و وفاقی وزیر عبد العلیم خان ہے ۔پا ک بھارت جنگ ہو یا فتح کا جشن ٗ نفرت کی سونامی ہو یا برستی ہوملک دشمنی وہ ہمیشہ عوام میں جا کر پاکستان اور صرف پاکستان کی بات کرتا ہے۔ 7 دسمبر کو افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی اور چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے فیصل آباد میں کامیاب ورکر کنونشن کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہیے ہندو لالہ، دشمن آج بھی ہمارا الگ وجود تسلیم نہیں کرتا، ہم دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھاتے لیکن آج پاک فوج کے باعث دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھ سکتے ہیں۔عبد العلیم خان نے سوشل میڈیا پر بکواس کرنے والوں کو اپنے بچے بارڈر پربھیجنے کا مشورہ بھی دیا ۔ شہداء کے ماں باپ اور بچوں پر کیا بیتی ہے اس کااندازہ نفرت پھیلانے والوں کے علم میں ہے اور یہ نفرت کی سیاست کا سب سے کارگرہتھیار بھی۔ 
عبدالعلیم خان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ملک کے خلاف بکواس کرنے والوں کی زبانیں کھینچ لینی چاہئے،ہم حکومت میں رہیں نہ رہیں۔انہوں نے صوبوں کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے عوام اوروہاںموجود زیادہ سے زیادہ صوبوں کے بارے میں بھی عام آدمی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے اپیل بھی کی کہ عوام کی مشکلات زیادہ سے زیادہ کم کی جائیں کیونکہ یہ عوام ہی ہیں جو اس ملک کے اصل حاکم ہیں۔ عبد العلیم خان کے سوشل میڈیا پر اُ ن کی تقاریر کے کلپس وائرل ہیں جن میں وہ افواج پاکستان کی خدمات اور نفرت کی سیاست کرنے والے کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ۔ موجود حالات میں عبدالعلیم خان کا سوشل میڈیا جس تندہی سے افواج پاکستان کے بیانیے کو عوام میں پہنچا رہا ہے ایسا کوئی اور دوسرا دکھائی نہیں دے رہا ۔یہ ذمہ داری موجودہ اتحادی حکومت میں شامل تمام اتحادیوں کو پوری کرنی چاہیے تاکہ وہ نفرت کا وہ بیانیہ جو دہلی ٗ کابل ٗ تل ابیب سے ہوتا ہوا کے پی کے کے رستے پاکستان میں داخل ہو رہا ہے اُس سے عام آدمی کو باخبر کیا جائے۔ ریاست کا موجودہ رویہ بہت پہلے سامنے آ جانا چاہیے تھا تاکہ برائی کو شروع میں ہی دبا دیا جاتا ۔ ڈی جی پی آر کی پریس کانفرنس میں موجود کچھ چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں جو جانتے تھے کہ اب کھل کرصحافتی دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹیگز: