یوں تو آج کل حالات کے ہاتھوں ہر شخص ہی کسی نہ کسی حد تک ذہنی مریض بن چکا لیکن آج کی اس تحریر کا موضوع ذہنی مریض کی وہ اصطلاح ہے جو آج کل مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اس بحث نے زور اس وقت پکڑا جب عسکری ترجمان نے گزشتہ جمعہ کے روز پریس کانفرنس میں بانی پی ٹی آئی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کیا لیکن اصل میں اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب گزشتہ ہفتے بانی نے یہی لفظ اپنے ایک ٹویٹ میں پاک فوج کے سربراہ کے خلاف استعمال کیے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کو ذہنی مریض قرار دیئے جانے کے بعد دو طرح کی آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایک رائے بانی کے حامی طبقے کی ہے جو کہہ رہا ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کے لیے اتنے سخت الفاظ کا استعمال مناسب نہیں تھا جبکہ دوسری طرف بانی کا مخالف طبقہ ہے جس کے خیال میں ترجمان پاک فوج نے بانی ہی کی بات کا جواب دیا ہے۔
دیکھا جائے تو ذہنی مریض کا لفظ استعمال کرنے میں پہل تو بانی پی ٹی آئی ہی نے کی تھی، لہٰذا اس کا جواب دینے کے عمل کو تو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تو ایک عام فہم بات ہے کہ اگر ایک شخص کسی پر کوئی الزام لگائے یا گالی دے تو دوسرے کو بھی جواب دینے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر وہ جواب نہ دے تو یہ اس کی اپنی صوابدید ہے لیکن جواب دے دے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
خود تحریک انصاف کے رہنمائوں کے لیے اپنے قائد کے الفاظ کا دفاع کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ پارٹی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اپنے بیان میں عسکری ترجما ن کی پریس کانفرنس کو مایوس کن قرار دینے کے باوجود اپنی جماعت کے بانی کو بری الذمہ قرار نہ دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوس ناک ہے۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی سیاسی قیادت کی جانب سے بھی ادارے کے سربراہ کے خلاف وہ لفظ استعمال کیا گیا جو ان کے قائد کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ توہین آمیز الفاظ کا استعمال ابتدا ہی سے بانی پی ٹی آئی کی طرز سیاست کا نمایاں پہلو رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ہر مخالف کے خلاف ایسے ہی الفاظ کا استعمال کیا۔ حریف سیاسی قائدین کے لیے چور، ڈاکو اور غدار سمیت نہ جانے کیسے کیسے الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا۔ ان کی تقلید میں ان کے پیروکاروں نے بھی مخالف سیاسی قائدین اور کارکنوں کے بارے میں اسی رویے کو اپنایا۔ نتیجے کے طور پر مخالفین بھی انتقاماً یہ طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ یوں ملکی سیاست میں تشدد اور عدم برداشت کے رجحان کو فروغ ملا۔ ایسا نہیں ہے کہ سیاست میں یہ رجحان پہلے موجود نہ تھا لیکن بانی پی ٹی آئی اور ان کے پیروکاروں نے تو اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ اقتدار کے خاتمے کے بعد تو بانی کے لہجے کی تندی و تیزی اپنی انتہائوں کو چھونے لگی جبکہ سید عاصم منیر کے بطور سربراہ پاک فوج تقرر کے بعد تو بانی کی توپوں کا رخ مسلسل انھی کی طرف رہا۔
افواج کی طرف سے ابتدا میں تو خاموشی اختیار کی گئی لیکن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بالآخر انھیں بھی جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ پی ٹی آئی کے حامی حلقوں کی طرف سے اس جواب کو عسکری قیادت کی فرسٹریشن اور شکست قراردیا جا رہا ہے۔ فرض کیجیے کہ اس قسم کے رویئے کے جواب میں مسلسل خاموشی اختیار کی جاتی تو اسے بھی کمزوری ہی پر ہی محمول کیا جانا تھا۔ یعنی پی ٹی آئی کے بانی، قائدین اور کارکنان چاہتے ہیں کہ وہ کسی کو کچھ بھی کہتے رہیں لیکن انھیں پلٹ کر جواب نہ دیا جائے۔ گویا ان کی نظر میں خود تو کسی کو کچھ بھی کہہ دینا بہت بڑی کامیابی ہے اور اگر کوئی پلٹ کر انھیں جواب دے دے تو یہ اس کی شکست خوردگی ہے۔ ایسی عجیب و غریب منطق گھڑنا بھی بانی اور ان کی جماعت ہی کا طرہ امتیاز ہے۔
یہاں کسی ادارے کا دفاع کرنا یا کسی سیاسی رہنما کو ذہنی مریض ثابت کرنا مقصود نہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ہر شخص کو دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھنا چاہیے۔ ذہنی مریض کہنے میں پہل کرنے والے کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ اقتدار کے حصول کی جنگ میں اس نے شروع سے آخر تک خود کس حد تک ذہنی طور پر متوازن یا مریض ہونے کا ثبوت دیا۔ بانی پی ٹی آئی خود تو سچ جھوٹ میں امتیاز ہی بھول گئے اور جس کے بارے میں جو جی میں آیا بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا۔ آج وہ جس ادارے اور اس کی قیادت کو مطعون کر رہے ہیں اور ملک کی ہر برائی کی جڑ سمجھتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے دنوں میں تو خود اس کا سب سے بڑے وکیل تھے اور "سیم پیج" کا راگ الاپتے نہیں تھکتے تھے۔ اس وقت بھی کچھ لوگ فوج کے ادارے کے سیاسی کردار کے بارے میں تنقید کیا کرتے تھے لیکن بانی پی ٹی آئی نے ان کی باتوں کو کبھی اہمیت نہ دی بلکہ الٹا انھی کو برا بھلا کہنے کا وتیرہ اپنا لیا۔ سوال یہ ہے کہ آج بھی تو وہی ادارہ ہے، تو پھر آج ایسا کیا ہوا کہ سب برائیاں اس میں اور اس کی قیادت میں نظر آنے لگیں۔
دوسری طرف یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ خود اسی شخص کو قوم کے سامنے مسیحا اور دیوتا بنا کر پیش کیا جسے آج ذہنی مریض کہا جا رہا ہے۔ نہ صرف دیوتا بنایا گیا بلکہ لوگوں کو اس کی پوجا پر بھی مجبور کیا گیا۔ اسے صادق و امین تک کہہ دیا گیا حالانکہ یہ تقدیسی لقب دنیا کی سب سے پاکیزہ ہستی کے لیے مخصوص تھا۔ پھر اسی صادق و امین قرار دیئے گئے شخص کے ذریعے ریاست مدینہ کا نعرہ بھی لگوایا گیا حالانکہ مخالفین اس وقت بھی اس مسیحا کو ذہنی مریض قرار دیتے تھے اور اداروں کو خبردار کر رہے تھے کہ ان کا بنایا ہوا یہ بت کل کو انھی کے لیے وبال جان بن جائے گا لیکن اداروں نے ان تنقید کرنے والوں کی بھی زباں بندی کر دی۔ اس دور میں نہ صرف ذرائع ابلاغ پر مخالفین کے نام لینے یا ان کے بیانات چلانے پر سخت پابندی عائد تھی بلکہ انھیں پکڑ پکڑ کر جھوٹے مقدمات بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا۔
اگرچہ آج پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اعلی ترین عسکری عہدیداروں کی طرف سے بارہا سیاست سے دور رہنے کا اعلان کیا گیا ہے اور پاک فوج نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست دے کر اس بات کا ثبوت بھی دیا ہے کہ اس کی توجہ سیاسی معاملات میں مداخلت کی بجائے اپنی اصل ذمہ داریوں پر ہے تاہم ادارے اور ایک سیاسی جماعت کی قیادت کے درمیان حالیہ رنجش پاک فوج جیسے باوقار ادارے کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ کسی بھی ادارے کو اپنی دائرہ کار سے باہر نکل کر کام کرنے کا کتنا نقصان ہوتا ہے کہ ہاتھوں سے دی ہوئی گرہیں دانتوں سے کھولنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔