Wed, September 16, 2026

سی ڈی ایف دور، 5 اہم فیصلے، ذہنی مریض

سی ڈی ایف دور، 5 اہم فیصلے، ذہنی مریض

’’بہت شور سنتے تھے نوٹیفکیشن کا‘‘ وہ تو آ گیا۔ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر ملکی تاریخ کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بن گئے، پانچ سال یعنی 4 دسمبر 2030ء اور توسیع کی صورت میں 2035ء تک دونوں عہدوں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز پر فائز رہیں گے، سی ڈی ایف کا دور شروع، اللہ جسے عزت دے مبارک سلامت دعائیں سید زادہ ملکی دفاع، معیشت اور ترقی کیلئے اچھی یادیں چھوڑ کر جائے اور نیک فال ثابت ہو، نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر ہوئی، کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ انتظامی معاملات، نیا عہدہ، نئے تقاضے، نئے سیکرٹریٹ کا قیام، نئی تعیناتیاں، پروٹوکول، فوج کے اپنے ضابطے اپنے رولز ہیں کسے کب جانا ہے آنے والوں نے کب آنا ہے۔ ’’رموز مملکت خویش خسرواں دانند‘‘ یاروں نے کیا کیا پھلجھڑیاں نہ چھوڑیں، بغاوت، گرفتاریاں، ہلچل، ٹی وی چینلز پر بھانت بھانت کی باتیں، مستقبل میں تعیناتیوں کا کیا ہو گا، کون کرے گا، یار لوگ سوچتے رہ گئے، سب سے بڑی تعیناتی ہو گئی۔ اِدھر والوں کو اطمینان کہ 2029ء کے عام انتخابات فیلڈ مارشل ہی کی نگرانی میں ہوں گے اُدھر والوں کے سینوں پر سانپ لوٹ گئے، جیل میں قید بڑے خان صاحب ان کے حواری خان تیرے جانثار دو ڈھائی تین ہزار کے نعرے لگانے والے زومبیز اور بیرون ملک فرار ہونے والے درجن بھر مفرور اشتہاری دل مسوس کر رہ گئے۔ ملاقاتوں پر ایک ماہ کی پابندی نے سارے کس بل نکال دئیے۔ بہن عظمیٰ خان نے ملاقات پر پوچھا۔ ’’بھیا اب کیا ہو گا؟‘‘ چڑ کر جواب دیا۔ ’’ایشو کو زندہ رکھو 40 رکنی سیاسی کمیٹی تحلیل، سلمان اکرم راجہ سے کہیں مختصر کمیٹی بنائیں، ورکشاپ میں شرکت کرنے والے آٹھوں لیڈر (ثناء اللہ مستی خیل، مشعال یوسفزئی، اعظم سواتی، بابر سلیم سواتی، عادل بازئی اور دیگر) میر جعفر، میر صادق قرار پارٹی سے گیٹ آئوٹ پھڈا ہو گیا ناں، سیاسی کمیٹی میں سلمان اکرم راجہ کے خلاف بغاوت کی خبریں، باہر سے بیرسٹر گوہر کے استعفے کا مطالبہ، آٹھوں لیڈر گھر کے نہ گھاٹ کے، نشان پہلے چھن چکا مستعفی ہوئے تو نام بھی مٹ جائے گا۔ لاکھوں کا ساون، کروڑوں کی مراعات سے محرومی مقدر/ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نوشتہ دیوار، صوبہ میں اربوں کھربوں کی کرپشن، دہشت گردی منشیات کا کاروبار فوج کے انخلا کے قوانین، 9 مئی کے 57 مقدمات ختم کرنے کی قرار 
دادیں اور حکومت کے خلاف منہ پھاڑ تقریریں گورنر راج کو دعوت دے رہی ہیں، نہیں جانتے ریاست سے آج تک کون جیتا ہے۔ صوبہ قابو میں نہ رہا تو کیسی لیڈری، سنا ہے آج کل میں پھر احتجاج کی کال دی ہے۔ ’’کال دی دی ہوئی اسی کی ہے، ڈھائی درجن سے کچھ سوا نہ ہوئے‘‘ مقبولیت ہوا ہو گئی۔
اب کیا ہو گا مرے پہ سو درے تماشا کرنے والوں کو خبر دے دی گئی کہ پردہ گرنے والا ہے تماشا ختم ہونے کو ہے ’’بڑے خان صاحب‘‘ اور ان کی یوتھیا بریگیڈ نے اپنی حرکات و سکنات سے اپنے راستے میں جو کانٹے بوئے ’’ہوئے ہیں پائوں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی، نہ بھاگا جائے ہے ان سے نہ ٹھہرا جائے ہے ان سے‘‘ عشق عمران میں جان دینے کی بڑھکیں مارنے والے سہیل آفریدی سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ ’’اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہو گئے‘‘ سر پر مقدمات کا بوجھ، صوبہ بے قابو، خان سے ملاقات پہلے مشکل تھی اب نا ممکن کھیسہ خالی، صوبہ چلانے کی صلاحیت سے عاری۔
نوٹیفکیشن کے اجرا کے ایک دن بعد ہی سختیوں کا دور شروع ہو گیا، جمعہ پی ٹی آئی اور خان صاحب پر بھاری پڑا، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی طویل پریس بریفنگ میں شمشیر برہنہ وار کر کے لفظوں کے وہ زخم لگائے جو مدتوں بھر نہ سکیں گے، سیانوں نے کہا یہ لفظی نہیں عملی اقدامات کی پیشگی اطلاع دینے والی پریس بریفنگ تھی۔ چند دن ’’روئے مبارک‘‘ کی زیارت نہ ہونے پر جو طوفان اٹھایا گیا بہنوں نے جیل سے خان کی گمشدگی کی رپٹ درج کرا دی۔ افغانستان ٹائمز نے قتل کی خبر چلا دی۔ بہن نے ملاقات کے بعد چنگا بھلا ہونے کی تصدیق کی شرم تم کو مگر نہیں آتی، حماقتوں اور فوج و ملک دشمنی کا کیا نتیجہ ہوا۔ جنہوں نے مزہ چکھانا ہے ڈنڈا گھمانا ہے وہاں لسٹیں تیار کر لی گئیں، سوشل میڈیا پر جعلی خبریں 
چلانے والوں کی وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خان کو ذہنی مریض، سکیورٹی رسک، اپنی ذات کا اسیر، ملک دشمنوں کا دوست اور انہیں فنا فی النار کرنے والے فوجی بیٹوں بھائیوں کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غدار شیخ مجیب کی مثالیں دیتا ہے۔ اس کی سیاسی شعبدہ بازی ختم سمجھیں، اس کا باپ بھی فوج اور عوام میں دراڑ نہیں ڈال سکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا لہجہ بتا رہا تھا کہ دو سال کے طویل عرصہ کے دوران صبر و تحمل جواب دے گیا، سخت ترین الفاظ میں عملی منصوبہ پوشیدہ، پی ٹی آئی کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، ملاقاتوں، مذاکرات اور معافی کے آپشن ختم کوڑھ مغز اب بھی فوج سے ٹکرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ رس کشید کرنے والوں نے پانچ اہم فیصلوں کا انکشاف کیا۔ خیبر پختونخوا میں کریک ڈائون، ملاقاتوں پر مکمل پابندی سیاسی بیانات اور غیر ضروری وی آئی پی سہولتیں ختم، قید تنہائی، ویرانی جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا ’’کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا‘‘ پی ٹی آئی پر پابندی یا الطاف بھائی کی طرح خان مائنس پارٹی کی بقا، توشہ خانہ 2 اور 9 مئی کے مقدمات کے تحت لمبی سزائیں، یوتھیا بریگیڈ کے ایک ناسمجھ لیڈر نے گورکھ پور ناکے پر دو ڈھائی سو کارکنوں کو حوصلہ دینے کے لیے بڑھک ماری کہ خان وی آئی پی قیدی ہے، ان سے ملاقاتیں کیسے بند کر سکتے ہیں، لیڈر بھائی بھول گئے کہ نرمی کا دور گزر گیا، ’’وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا‘‘ جمعہ کی پریس بریفنگ میں چھپے پیغامات کو جتنی جلدی سمجھ جائیں پارٹی کے بانی کروڑوں فیسیں وصول کرنے والوں اور خان کو نعوذباللہ ولی پیغمبر قرار دینے والے ناقص العقل کارکنوں کے لیے بہتر ہو گا بڑھکوں سے خرابی پیدا ہوتی ہے جیل حکام نے صحافیوں کو جیل مینول کے سیکشن 507، 565، 548 اور 557 کے حوالے سے بتایا کہ جیل کے اپنے رولز اینڈ ریگولیشن ہیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی بھی کلاس کے قیدی کی ملاقاتوں اور سہولتوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ مثلاً آئین کے آرٹیکل 62 ون ای کے تحت نا اہل قرار پانے والا سزا یافتہ قیدی ملاقاتیوں کو سیاسی بیانات، ہدایات یا احکامات نہیں دے سکتا، خان صاحب نے جو گرہیں ہاتھوں سے لگائی تھیں وہ دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں، ایک صاحب نے پی ٹی آئی کے 5 حصے ہونے کی خبر دی، حصے بخرے ہوں نہ ہوں، خان جی باقی ماندہ عمر جیل میں گزارنے کے درپے ہیں۔ کھولی (بیرک) کی دیواروں سے سر ٹکرائیں گے یا دیواروں سے باتیں کریں گے، کیسا لگے گا؟

ٹیگز: