Wed, September 16, 2026

 واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتی قد دوبارہ بلند ۔۔۔۔ ٹرمپ دور میں اعتماد بحال

 واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتی قد دوبارہ بلند ۔۔۔۔ ٹرمپ دور میں اعتماد بحال

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر بنانے میں ایک نمایاں اور کامیاب مثال قائم کی ہے۔ نئی پالیسی ماحول، اعلیٰ سطح رابطوں اور باہمی تعاون کے کئی عملی اقدامات نے پاکستان کو خطے میں امریکہ کا قریب ترین اور فعال شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔

حکومتی و سفارتی ذرائع کے مطابق اس دور میں پاکستان نے نہ صرف واشنگٹن کے ساتھ حکومتی سطح پر روابط مضبوط کیے بلکہ سیکیورٹی، سرمایہ کاری، منرلز اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فنانس مارکیٹ میں بھی قابل ذکر اشتراک سامنے آیا۔ مبصرین اسے پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کا بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع  کاکہنا ہے کہ  صدر ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ذاتی سطح پر خوشگوار ورکنگ ریلیشن نے تعاون کی رفتار مزید تیز کی۔ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو متعدد مرتبہ وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جس سے اعتماد سازی کی فضا مزید مستحکم ہوئی۔ امریکی انتظامیہ کے ساتھ یہ سطحِ رسائی حالیہ برسوں میں کم دیکھی گئی تھی۔

کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے بروقت تعاون کو امریکی حلقوں میں خاص طور پر سراہا گیا۔ واشنگٹن نے اس اقدام کو پاکستان کی سنجیدگی اور عملی شراکت داری کا ثبوت قرار دیا جس نے دو طرفہ تعلقات میں اعتماد کی نئی بنیاد فراہم کی۔

تعلقات میں سب سے نمایاں پیش رفت کرٹیکل منرلز کے شعبے میں سامنے آئی جہاں ایف ڈبلیو او اور ایک امریکی کمپنی کے درمیان 500 ملین ڈالر مالیت کا بڑا معاہدہ طے پایا۔ اس ڈیل سے مستقبل میں امریکا کے لیے ریئر ارتھ اور صنعتی دھاتوں کی رسد بہتر ہونے کی امید ہے جبکہ پاکستان کے لیے سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔معلومات کے مطابق کرپٹو فنانشل سیکٹر میں بھی پاکستان،امریکہ اشتراک میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کرپٹو کونسل اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان شراکت داری کی توسیع ڈیجیٹل معاشی تعاون کے نئے پہلو سامنے لانے کا سبب بن رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق مستقبل کی مالیاتی پالیسی میں یہ رخ اہم کردار رکھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی بھارت کے لیے سخت موقف ۔ ٹیرف اختلافات، روسی تیل کے سودے اور پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر نے پاکستان کے لیے واشنگٹن میں ایک نیا راستہ دکھایا۔ مئی کی جنگ بندی کے دوران پاکستان نے کھل کر ٹرمپ کے کردار کو سراہا جبکہ بھارت نے اس دعوے کی حمایت سے گریز کیا، جس سے دونوں ملکوں کے بیانیے میں واضح فرق سامنے آیا۔
بڑھتی نسبت اور نرم امریکی بیانیہ پاکستان کے لیے مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی خواہش ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کی عینک سے نہ دیکھا جائے بلکہ براہِ راست مفادات اور اقتصادی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق آئندہ سال اس سمت میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

ٹیگز: