انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے ملک، ان کی لیڈرشپ اور عوام اگر عملی زندگی میں مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ظالم کے ہاتھ مضبوط کرتے نظر آئیں تو وہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں، اسی طرح اگر وہ جارحیت کا شکار ہونے والوں کو حق دفاع نہیں دیتے تو وہ جانوروں سے بھی پچھلے درجے میں شمار ہوں گے۔ جانور بھی انہیں اپنے قبیلے میں شمار کرنے پر شرمسار ہوں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جارحیت کے نتیجے میں شکست دونوں ایٹمی طاقتوں کا مقدر بنی جس کے بعد سیز فائر کی کوششیں نظر آئیں۔ ایران کے پیش کردہ دس نکات پر ابتدائی اتفاق رائے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے ٹھیک چند گھنٹے بعد اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر بہت بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اڑھائی سو سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ املاک کو بھاری نقصان پہنچا ہے، اسی طرح ایران کے ایک جزیرے پر تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر امن کوششوں کو تاراج کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اور جواز یہ تراشا گیا ہے کہ لبنان پر حملے روکنا معاہدے کی شرائط میں شامل نہیں۔ گویا اسرائیل اور اس کے آقا چاہتے ہیں کہ ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی درگت نہ بنے لیکن اسے گریٹر اسرائیل کی تکمیل کیلئے کھلی چھٹی مل جائے۔ لبنان پر حملوں کو جائز قرار دینے کے حوالے سے امریکی لیڈرشپ کے بیان سامنے آچکے ہیں، جس سے جنگ بندی کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے نائب صدر کی قیادت میں مذاکراتی ٹیم فائنل کرنے کے بعد انہیں اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے لیکن بدنیتی سے مذاکرات شروع کئے گئے تو کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو گا۔ ان مذاکرات کا اختتام وہی نتیجہ لائے گا جو ہم قطر اور ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں دیکھ چکے ہیں۔ اسی انداز میں ایک سعی مسقط میں نظر آئی۔
امریکی نائب صدر منفی انداز اختیار کرتے ہوئے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ان کی ناکامی کی ذمہ داری ایران پر ڈال رہے ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہفتے کے روز ہونا قرار پایا ہے۔ امریکی ٹیم میں جے ڈی وانس کے علاوہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں جبکہ ایرانی وفد میں سپیکر اسمبلی جناب قالیباف اور وزیر خارجہ جناب عراقچی شامل ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے تسلیم کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ ابھی تک ان سے لاعلم ہیں، ان کا یہ کہنا کہ لبنان میں جنگ بندی ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں، مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی شعوری کوشش ہے۔ حیرت کی بات ہے اسرائیل اس جنگ کا ایک اہم فریق ہے لیکن کسی بھی مذاکراتی عمل میں ا سے کسی بھی وقت شریک نہیں کیا گیا ،یہی وجہ ہے وہ جب چاہتا ہے طے شدہ نکات کو ماننے سے انکار کر کے ایران یا لبنان پر حملے شروع کر دیتا ہے۔ مذاکراتی کوششیں خلوص پر مبنی ہیں لیکن چین، روس کے نمائندوں کی موجودگی میں کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ امریکی ٹیم ایران اور پاکستان کو جُل دے سکتی ہے لیکن چین اور روس کو نہیں۔ امریکی صدر اور امریکہ کے طرزعمل سے یوں لگتا ہے جیسے وہ ایران کے خلاف جارحیت کو کچھ ہفتوں کیلئے موخر کر کے اپنے دورہ چین کی راہ ہموار کر رہا ہے لیکن وہ ایران کے تیل پر قبضے کے خیال سے دستبردار نہیں ہوا۔ امریکی نائب صدر نے ایرانی جزیرے خارگ پر حملے کو تسلیم کیا ہے لیکن تفصیلات سے گریز کیا جبکہ پینٹاگون اور امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف نے تسلیم کیا کہ ایران میں کس طرح ان کی درگت بنائی گئی۔ وہ کہتے ہیں ہم جیسے ہی ایران کی حدود میں داخل ہوئے، ایرانی عوام کے ہاتھ میں جو بھی چھوٹی بڑی بندوق آئی وہ اس سے ہم پر فائر کرتے رہے لیکن اس فائرنگ سے ہمارے فوجیوں کو معمولی زخم آئے۔ امریکہ خارگ حملے کے حوالے سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ دنیا خوب جانتی ہے کہ C-130 جہاز جب گرتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ یاد کیجئے جب جنرل ضیاءالحق کا یہی جہاز گرا تو وہ اور ان کے درجن بھر ساتھی ملک عدم کو پہنچ گئے۔ امریکیوں کو معمولی زخم نہیں آئے۔ وہ روسٹ ہو گئے کیونکہ کوئی طیارہ یا ہیلی کاپٹر زمین پر نہیں کھڑا تھا، انہیں فضا میں ایرانی میزائلوں اور راکٹوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ امریکی فوجیوں کے جسموں کے چیتھڑے فضا میں بکھر گئے، جہازوں میں لگی آگ جب بجھی تو وہاں ان کی ہڈیاں باقی بچی تھیں۔ C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ ہے یہ بڑی تعداد میں کہیں فوج اتارنے کے کام آتا ہے۔ فوجی پیراشوٹ کے ذریعے اس سے اترتے ہیں۔ یہ دیوہیکل جہاز پہاڑی علاقے یا ریت سے بھرے علاقے میں نہیں اتر سکتا۔ مشن کے مطابق اس جہاز کا کام فوج اور اس کے لئے ضروری سامان کو اتارنا تھا، باقی کام ہیلی کاپٹروں کا تھا لیکن ایرانی فوج کو ان کے آنے کی خبر تھی۔ انہوں نے انہیں کافی اندر آنے دیا تاکہ یہ جلد فرار نہ ہو سکیں پھر جب وہ مطلوبہ حصار میں آئے تو سب کا کام تمام کر دیا گیا۔
اب ایک اہم واقعے کی تفصیل جو شاید آپ کو دیگر ذرائع سے عرصہ دراز بعد ملے عین ممکن ہے اس پر پردہ ہی پڑا رہے۔ امریکی صدر ہیجانی کیفیت میں تھے، درجن بھر محاذوں پر شکست نے انہیں بوکھلا دیا تھا۔ اسی کیفیت میں انہوں نے ایران کو الٹی میٹم دیا کہ فلاں دن فلاں وقت ایرانی تہذیب اور ایرانی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ حملے کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے چھ گھنٹے قبل انہیں رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام ملا کہ اگر ہم نے ختم ہونا ہوتا تو واقعہ کربلا کے بعد ہی ختم ہو گئے ہوتے، ہم موجود ہیں،ہم زندہ ہیں اور ان شاءاللہ قیامت تک زندہ رہیں گے لیکن تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ٹرمپ نے پاس بیٹھے سٹیووٹکوف، جیرڈ کشنر اور جے ڈی وانس سے باری باری پوچھا ”وٹ از کربلا“ تینوں میں کوئی بھی انہیں نہ بتا سکا کہ واقعہ کربلا کیا ہے پھر انہوں نے تینوں کو خوب گالیاں دیں، انہیں کم علم اور نالائق ثابت کیا اور اپنے سٹاف سے پوچھا جنہوں نے گوگل سے تفصیلات اکٹھی کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیں تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ انہی لمحات میں انہوں نے اپنے ایران پر حملے موخر کرنے اور جنگ بندی کا فیصلہ کیا پھر اس کے لئے اور اپنی ناک بچانے کے لئے جو کوششیں کی گئیں وہ ٹویٹ ڈپلومیسی کی شکل میں آپ کے سامنے آچکی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی بہانے اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اسلامی ملک ایران کے مقابل آجائیں تاکہ امریکہ اور یورپ کا اسلحہ اور تیل مہنگے داموں بکتا رہے۔ ٹرمپ کو ایک کتاب پیش کر دی گئی ہے جس کا نام ہے ”ہرکربلا کے بعد“۔