امریکہ کی جانب سے پاکستان کی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف کا نفاذ بظاہر ایک صدمہ ہے، مگر گہرائی میں جائیں تو یہ محض سزا نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ بھی ہو سکتا ہے جو ہمیں ایک نیا راستہ دکھا دے۔ یہ فیصلہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ایک ملک کے ایک فیصلے سے لرز جائے؟ یا پھر ہم میں اتنی استعداد ہے کہ اس فیصلے کو موقع میں بدل سکیں؟ تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ ٹیرف ہمیں کئی شعبوں کی خامیاں اور مواقع دونوں دکھاتا ہے۔
24-2023میں پاکستان کی کل برآمدات تقریباً 30 بلین ڈالر تھیں، جس میں سے تقریباً 18 بلین صرف ٹیکسٹائل سے آئیں۔ یعنی تقریباً 60 فیصد برآمدات کا انحصار صرف ایک ہی سیکٹر پر ہے۔ ایسے میں امریکہ جیسی منڈی کی جانب سے ٹیرف لگنا واضح کرتا ہے کہ ہم نے اپنی اقتصادی حکمتِ عملی میں تنوع کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھ کر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ دوسرے شعبے کیا آفر کرتے ہیں۔ مثلاً، پاکستان میں آٹوموٹیو انڈسٹری ایک ایسا شعبہ ہے جو نہ صرف درآمدات کو کم کر سکتا ہے بلکہ ایکسپورٹ کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 1.5 بلین ڈالر کی گاڑیاں اور پرزہ جات درآمد کرتا ہے، جبکہ مقامی پیداوار میں ہنڈا، سوزوکی، کیا اور چنگان جیسی کمپنیاں موجود ہیں، جنہیں برآمدی معیار پر لا کر ہم نئی ریجنل مارکیٹس میں داخل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح معدنی وسائل کی بات کی جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کے چوتھے بڑے کوئلے کے ذخائر (تھر کول)، سونے، تانبا (ریکوڈک میں 6 بلین ٹن ریزرو)،نایاب زمینی عناصراوردیگرمعدنیات کی بے پناہ دولت موجود ہے۔ ہماری مائننگ انڈسڑی کی کپیسٹی 2.5فیصد ہے جبکہ کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح 8 سے 10 فیصدتک ہے۔ اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری، بہتر ریگولیشن اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات کے ذریعے ہم معدنیات کو خام حالت میں برآمد کرنے کے بجائے مقامی صنعتوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔پاکستان کا ایس ایم ای سیکٹر معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جو تقریباً جی ڈی پی کا40 فیصد اور 80 فیصد غیر زرعی روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔لیکن اسے بینکنگ سیکٹر سے صرف 7.6 فیصد کریڈٹ ملتا ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 5 ملین ایس ایم ایزہیں۔جن میں سے لاکھوں ان ۔ فارمل ہیں۔ سرکاری ریگولیشن سے باہر کام کر رہے ہیں۔ اگر حکومت فارمل سیکٹر میں ان کی شمولیت کو فروغ دے، ڈیجیٹل فنانسنگ، کریڈٹ گارنٹی سکیمز اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن پروگرام متعارف کرائے، تو یہ سیکٹر نہ صرف روزگار میں اضافہ کرے گا بلکہ برآمدات میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہنرمند افرادی قوت بھی پاکستان کا ایک پوشیدہ خزانہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 2 ملین نوجوان لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ ٹیوٹا (ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی) سے ایک بہت قلیل تعداد میں لوگ ہنریافتہ بن پاتے ہیں۔ اس صورتحال میں پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے مارکیٹ اور انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق ہنر مندی کو لازم قرار دیاجائے۔ ہرشعبے میں روایتی تعلیم کی بجائے سکل بیسڈ ایجوکیشن کو ترجیحی پالیسی کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نظام کو بہتر بنائیں، نئی مہارتیں جیسے ای-کامرس، کوڈنگ، ایگری ٹیک، بایو ٹیک، سولر انرجی اور صنعتی آٹومیشن میں تربیت فراہم کریں، تو نہ صرف مقامی صنعت کو فائدہ ہوگا بلکہ بیرون ملک ترسیلات زر میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ سب سے اہم بات کہ ہمارانوجوان بے روزگاری اور مواقع نہ ہونے کے باعث قانونی اور غیر قانونی طور پر ملک چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔ہمیں ہر صورت اس قیمتی ترین سرمائے کومحفوظ بنانا ہے۔ چین کے ساتھ جاری سی پیک پراجیکٹ کے تحت بڑے صنعتی زونز کی اہمیت بھی دوگنا ہو چکی ہے۔ جیسے رشاکئی، علامہ اقبال زون( فیصل آباد)، دھابیجی اور بوستان زون۔ اگر ان سپیشل اکنامک زونز کو مکمل کر لیا جائے تو اربو ں ڈالرکی سرمایہ کاری آسکتی ہے۔ ان زونز میں ٹیکس مراعات، کسٹم فری امپورٹس اور بجلی و پانی کی ترجیحی فراہمی جیسے عناصر شامل ہوں تو یہ نہ صرف ملکی سرمایہ کاروں بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے بھی کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔اس تناظر میں ایس آئی ایف سی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ یہ فورم حکومت، ملٹری، اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل ، ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ریگولیٹری اپروولز، زمینوں کی الاٹمنٹ اور سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے مدد فراہم کرر ہا ہے ۔ سسٹم میں موجود بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ریاستی سطح پر سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ پلیٹ فارم فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کے بہاؤ کو تیز کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔یہ وقت ہے کہ پاکستان ڈالر پر انحصار کم کرے۔ حالیہ روسی تیل کی چینی کرنسی یوآن میں خریداری ایک اچھی شروعات ہے۔ اسی طرح چین، ترکی، ایران، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ کرنسی تبادلے کے معاہدے کیے جائیں۔ اگر ہم اپنی برآمدات اور درآمدات کا کچھ حصہ مقامی یا متفقہ
کرنسیوں میں کریں، تو ڈالر کی قلت اور روپے کی بے قدری کا مسئلہ کم ہو سکتا ہے۔ پاکستان فارن کرنسی ریزرو کے دباؤ سے نکل آئے گا۔ اس کا ضمنی فائدہ مہنگائی میں کمی کی صورت میں ہو گا۔ ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے بھی پاکستان کو نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کی ڈیجیٹل شاہراہ (ڈیجیٹل سلک روڈ) میں شمولیت، ایمازون،علی بابا اور ٹیمو جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستانی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ موجودگی سے ایس ایم ای سیکٹر کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس کے لئے ہمیں ایک نیا ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک بنانا ہو گا جو کہ لوکل برانڈز کو عالمی مارکیٹ سے جوڑنے کا ذریعہ بنے۔ اس سے پاکستانی برانڈز کی ویلیو اور معیشت دونوں مضبوط ہوں گے۔ یہ ٹیرف محض ایک دھچکا نہیں، بلکہ ایک اشارہ ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اگر ہم واقعی خودمختار، پائیدار اور ڈائیورسفائیڈ معیشت چاہتے ہیں، تو ہمیں اس موقع کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ جب دنیا کا ایک دروازہ بند ہوتا ہے، تو کامیاب قومیں نئی راہیں نکالتی ہیں۔ اب وقت ہے کہ پاکستان نئی راہیں تلاش کرے۔حقیقت پسندانہ، ڈیٹا پر مبنی اور طویل المدتی ویژن کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک مشکل لمحہ ہے، لیکن اگر ہم نے درست فیصلے کیے، تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے نیا جنم ثابت ہو سکتا ہے۔