Wed, September 16, 2026

8 اکتوبر2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 20 برس بیت گئے، بحالی کا کام تاحال نامکمل

8 اکتوبر2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 20 برس بیت گئے، بحالی کا کام تاحال نامکمل

مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو آج 20 برس مکمل ہو گئے، مگر دو دہائیاں گزرنے کے باوجود تعمیراتی نظام اور شہری منصوبہ بندی میں مطلوبہ بہتری نہیں آ سکی۔

آج سے 20 سال قبل صبح 8 بج کر 52 منٹ پر آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے نے مظفرآباد، بالاکوٹ، باغ اور دیگر اضلاع کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چند لمحوں میں بستیاں ملبے میں بدل گئیں اور 46 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔ دریائے کنہار کے کنارے واقع خوبصورت شہر بالاکوٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

اس سانحے کے بعد حکومت نے محفوظ تعمیرات اور بہتر منصوبہ بندی کے وعدے کیے تھے، لیکن بیس برس بعد بھی ان وعدوں پر مکمل عمل نہ ہو سکا۔ مظفرآباد سمیت کئی علاقوں میں اب بھی غیر معیاری عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جبکہ کچھ لوگوں نے برساتی نالوں کے کنارے پکے گھر بنا لیے ہیں۔

زلزلہ متاثرین کی آبادکاری کے لیے لنگر پورہ اور ٹھوٹھہ کے علاقوں میں نئے رہائشی منصوبے شروع کیے گئے تھے، مگر وہ بھی زیادہ تر ادھورے رہ گئے ہیں۔ متعدد متاثرہ خاندان آج بھی بہتر رہائش، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

زلزلے کے شہداء کی یاد میں مظفرآباد کے یونیورسٹی گراؤنڈ میں مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ صبح 8 بج کر 52 منٹ پر سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ وزرائے حکومت، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے اور سلامی دی۔

اسی طرح میرپور میں بھی شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب اور واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں یتیم بچوں، طلباء، سماجی کارکنوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر کمشنر میرپور مختار حسین نے کہا کہ "8 اکتوبر کا دن ہماری تاریخ کا دکھ بھرا باب ہے، مگر یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔"

شہداء کی برسی پر عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محفوظ تعمیراتی نظام اور بہتر شہری منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی سانحے کی صورت میں انسانی جانوں کا ضیاع کم کیا جا سکے۔

ٹیگز: