تہران / یروشلم: امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی آپریشن کے دوران ایران کے دفاعی اور شہری انفراسٹرکچر پر کاری ضرب لگائی ہے۔ تازہ ترین حملوں نے نہ صرف ایران بلکہ غزہ کو بھی لرزا کر رکھ دیا ہے، جہاں جانی نقصان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایران کے 12 شہروں پر بیک وقت فضائی حملے کیے گئے۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے 3 اہم ایئر بیسز کو نشانہ بنا کر وہاں موجود درجنوں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
ان حملوں میں معصوم بچوں سمیت 34 افراد کی شہادت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو شدید نشانہ بنایا گیا، جس سے تعلیمی سرگرمیاں معطل اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایران کے ساتھ ساتھ غزہ پر بھی اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے۔مغازی پناہ گزین کیمپ پر تازہ حملوں میں 10 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ درجنوں زخمی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ کے ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور مسلسل حملوں کے باعث زخمیوں کی جان بچانا مشکل ہو رہا ہے۔