’’درِ احساس لائبریری‘‘ کے نام سے عزیزم طیب منیر شیخ نے ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے۔ اس میں یہ نوجوان بڑی باقاعدگی سے حضرت واصف علی واصفؒ کے اقوال ارسال کرتا رہتا ہے۔ پچھلے دنوں اس نے ایک قولِ واصفؒ پوسٹ کیا: ’’تبلیغ زوروں پر ہے، تسلیم کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ نئی عبادت گاہیں بن رہی ہیں، بڑے بڑے فانوس معلق ہیں، بڑے بڑے طاقتور لاؤڈ سپیکر نصب ہیں، لیکن روحِ عبادت ہی کمزور ہوتی جا رہی ہے‘‘۔ اس پر کسی نے سوال کیا: آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال طیب نے مجھے ارسال کر دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سوال نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیا۔
قوم پر تبلیغ کا اثر کیوں نہیں ہو رہا؟ عبادت کے اثرات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ظاہر کیوں نہیں ہو رہے؟ شاید ہم سب سے زیادہ تبلیغ کرنے والی قوم ہیں لیکن اس تبلیغ کا اثر ہم ہی پر نہیں ہو رہا۔ وہ تبلیغ جو مجھے درست نہیں کر پا رہی، وہ کسی دوسرے کو کیونکر درست کر پائے گی۔ ہم دوسروں کی زندگی بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو بدلنے کی آرزو نہیں رکھتے۔ ہم خود کو ہر حال میں درست سمجھتے ہیں اور دوسروں کو ان کا حال جانے بغیر درست کرنا چاہتے ہیں۔ انسانوں کی دنیا میں کوئی فرشتہ ہوتا ہے ، نہ شیطان۔ انسان … اپنے مقام پر ٹھہر جائے تو فرشتوں سے افضل ہے اور اپنے مقام سے گر جائے تو شیطان سے ارزل۔ انسان مجموعہِ خیر وشر ہے، اس کے خمیر میں مختلف النوع مزاج کے عناصر شامل ہیں۔ کبھی یہ خیرکے دائرہِ عافیت میں پایا جاتا ہے اور کبھی اِس پر شرّ کی آفت غالب آ جاتی ہے۔ یہ کبھی ترغیباتِ نفس کے ہاتھوں مغلوب ہو جاتا ہے اور کبھی معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے۔ تبلیغ دراصل وہ ترکیب ہے جو اسے مغلوب اور مجبور دونوں سے مامون کرے … اور یہ ترکیب ہر انسان کے لیے الگ الگ ہے … جس طرح ہر انسان اپنے خمیر کی ترکیب میں ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمیں اپنی اصلاح کے لیے انفرادی تبلیغ درکار ہوتی ہے۔ فرد، فرد کو تبلیغ کرے۔ راعی اپنی رعیت کو تبلیغ کرے۔ ایک فرد جب پورے معاشرے کو براہِ راست اپنے تبلیغی مساعی کی زد میں لاتا ہے تو ایک تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ صرف ذاتِ نبی ہی کسی قوم کے لیے حجت قرار پاتی ہے۔ اب کوئی اکیلا اُمّتی ساری اُمّت کے لیے حجت نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اپنی تبلیغ کو غیر متنازع رکھنے کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنی تبلیغ کو فرد کی سطح پر مرکوز کریں۔ فرد
کا فرد کے ساتھ تعلق اور تعامل تبلیغ کو کارگر کرتا ہے۔ حدیثِ پاک ہے: ’’آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوتا ہے‘‘۔ پہلے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، پھر اپنے مذہب کی طرف لائیں۔
مشکل یہ ہے کہ مبلغین کے لیے ذاتی سطح پر تبلیغ ’’خطرے سے خالی نہیں‘‘ … اس لیے کہ ہم جسے ذاتی طور پر جانتے ہیں، وہ بھی ہمیں ذاتی طور پر جانتا ہے۔ وہ ہمارے کردار کی خوبی اور خامی ہر دو سے آگاہ ہے۔ میں خود جس بات پر کاربند نہیں، اس کا حکم کیسے دے سکتا ہوں؟ اگر میں خود غیبت کرتا ہوں تو اپنے بچوں کو غیبت سے بچنے کی تبلیغ کیسے کر سکتا ہوں؟ اگر میں خود موبائل سکرین کا نشئی addict ہوں تو اپنے بچوں اور شاگردوں کو اس لعنت سے بچنے کا کیسے کہہ سکتا ہوں؟ … ایسا کہنے سے میں خود گرفت میں آ جاتا ہوں۔ نماز ضائع کرنے والا، نماز قائم کرنے کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ انفرادی تبلیغ مجھے لفظ سے زیادہ کردار بلند کرنے کا تقاضا کرتی ہے… اور یہ ایک مشکل کام ہے، آسان یہی ہے کہ میں ایک مجمع میں لاؤڈ سپیکر پکڑوں اور سنی سنائی باتیں بیان کرنا شروع کر دوں۔ مجمعے میں مجھے کوئی پہچانتا نہیں، میرے قول و فعل میں تضاد کا یہاں کوئی شاہد نہیں، اس لیے یہاں میں بے دھڑک بولے چلا جا رہا ہوں۔ میں اپنے سامعین سے بے تعلق ہوں، میری تحریر و تقریر سے متاثر ہو کر اگر کوئی مجھے ملنے آ جائے تو میں اسے پہچانتا نہیں … میرے پاس اس سے ملنے کا وقت بھی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے میرے پاس اس کے مسائل کے حل کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں … اور میں ایسا ظرف بھی نہیں رکھتا کہ خود مقروض ہو کر کسی کی خدمت کر سکوں … ایسے میں مجھے خدمت کے موضوع پر بولنے کا کیا حق حاصل ہے؟ تبلیغ عبادت کی ہو، یا خدمت کی … جب تک میں خود مانع عبادت کاموں سے منع نہیں ہو جاتا، عبادت کی تبلیغ نہیں کر سکتا … جب تک میں مخلوق کا بے لوث خادم نہیں بن جاتا، خدمتِ خلق کی افادیت پر تقریر نہیں کر سکتا۔
ہم نے قالین و فانوس سے مزین عبادت گاہیں تعمیر کر لی ہیں، بڑے بڑے سیمینار ہال اور سماع ہال بھی بنا لیے ہیں، لیکن ان میں کسی صاحبِ حال کا گزر نہیں۔ ہم نے مذاکروں کے نام پر اپنے اپنے واعظ وضع کر لیے ہیں جو ایک وکیل کی طرح مخالف فکر پر جرح کرتے ہیں اور اپنے مکتبہ ِ فکر کی تائید میں نکات ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں … ہم محظوظ ہوتے، ان کی تعریف میں ڈونگرے برساتے ہیں اور اگلے اجتماع کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔
وہ قال جو میرا حال نہیں بنتا، میرے کس کام کا؟ حال کو حال بدلتا ہے۔ بس! مجھے خود کو تلاش کرنے کے لیے، اپنی کھوج لگانے کے لیے، اپنے نفس کی کمزوریاں رفع کرنے کے لیے، اپنے مزاج کی آفتیں دفع کرنے کے لیے کوئی صاحبِ حال درکار ہے، نہ کہ صاحبِ قال! فوجی زبان میں کہا جاتا ہے کہ It is man behind machine which is impotant more.۔ قول بھی ایک مشین کی طرح ہے۔ دیکھنا پڑتا ہے کہ مشین کس کے ہاتھ میں ہے … اگر کوئی صاحبِ کردار ہے تو وہ ایک سنائپر کی طرح ایک ہی قول سے نفس کی شہ رگ کاٹ دے گا۔
ہمارے مشائخ فطری مبلّغ تھے۔ ان کے قول وفعل کی ہم آہنگی ان کی نصیحت کو تیر بہدف کرتی تھی۔ شیخ الاسلام حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے پاس ایک خاتون اپنا بچہ لے کر آئی اور کہا کہ اسے نصیحت کریں، یہ شکر بہت کھاتا ہے۔ آپؒ نے فرمایا: اسے کل میرے پاس لے کر آنا۔ خاتون اگلے دن دوبارہ آ گئی۔ آپؒ نے بچے کو سامنے بٹھا کر کہا: بیٹا! شکر نہ کھایا کرو۔ بچے کی ماں نے کہا: حضرت! یہی بات آپ اسے کل بھی کہہ سکتے تھے۔ آپؒ نے فرمایا: میں اسے کل یہ بات کیسے کہہ دیتا، کل میں نے خود شکر کھائی تھی۔ آج کے واعظ کو خبر ہو کہ اپنے قولِ نصیحت کی حفاظت اپنے بے عیب عمل سے یوں کی جاتی ہے۔
روحِ عبادت خدمتِ خلق اور معرفتِ حق ہے۔ عبادت کے باب میں باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کا ایک قولِ زریں شاملِ خیال رہے: ’’وہ عبادت جو معرفت میں اضافہ نہ کرے، بے فائدہ ہے‘‘۔ خالق کی معرفت اور مخلوق کی خدمت دونوں اخلاص اور اخلاق طلب کرتے ہیں۔ اخلاص کا عام فہم مطلب بے لوث ہونا ہے … یعنی اپنے مفاد اور مزاج کے حجاب میں آئے بغیر کوئی کام کرنا۔ بے لوث ہونا تزکیہ نفس کا تقاضا کرتا ہے۔ تزکیہِ نفس کے لیے کسی ذی نفس کے پاس خود کو پیش کرنا لازم ہے۔ اس راہ میں … جسے راہِ تسلیم کہا جاتا ہے … انا اور کِبر مانع ہے۔
اخلاق کی بنیاد عجز ہے … اور بداخلاقی کی جڑ کبر ہے۔ اپنے اَنا کو مدھم کرنے کی ترکیب سیکھے بغیر کسی علم و ہنر کا سیکھنا ایک حجاب ہے۔ جو خود حجاب میں ہو، وہ کسی دوسرے کا حجاب کیسے دور کر سکتا ہے۔ اندھا اندھے کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ دانائی اور بینائی عطا ہے … اسے’’اے آئی‘‘ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دانائی کی کوئی ریاضی نہیں کہ ریاضت سے حاصل ہو سکے۔ اپنی خطا اور اُس کی عطا پر دھیان ہونا چاہیے … گیان خود ہی مل جاتا ہے۔
خود ساختہ تبلیغ بے اثر ہوتی ہے۔ بے ساختہ مؤثر ہوتی ہے۔ بے ساختہ تبلیغ بے داغ کردار کرتا ہے۔