Wed, September 16, 2026

ہمارا کلیدی مسئلہ کیا ہے؟

ہمارا کلیدی مسئلہ کیا ہے؟

ہمارے مسائل تو بہت سارے ہیں لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ہمارے وسائل کم ہیں اور آبادی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے معاملات دگرگوں ہیں۔ آبادی کا عفریت ہر شے، وسائل ہڑپ کرتا چلا جا رہا ہے، اس لئے بہتری نہیں ہو پا رہی ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ ہماری افزائش آبادی کی شرح، ہماری معاشی نمو کی شرح سے زیادہ ہے۔ آبادی جانچنے والے عالمی ادارے کے مطابق 7مئی 2026ءکو پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 92 لاکھ 99ہزار 7سو 91 ہے اور شرح افزائش 3.2 فیصد کے ساتھ دنیا میں پانچواں بڑا ملک ہے۔ 34.70 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ پاکستان کی خام پیداوار کا حجم 411 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے جو خوش آئند اور تاریخی اعتبار سے بلند ترین ہے۔ حکومت نے بڑی محنت کے ساتھ آئی ایم ایف کی احکامات کے مطابق ٹیکس وصولیوں کی پالیسیاں بنا کر شرح سود کو اوپر نیچے کر کے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کی کامیاب کاوشیں کی تھیں لیکن پہلے یوکرائن، روس جنگ کے منفی اثرات نے اور پھر حالیہ ایران امریکہ جنگ نے معاملات میں ایک بار پھر بگاڑ پیدا کر دیا ہے، اس لئے معاشی نمو متاثر اور سنبھلتی معیشت ایک بار پھر بگاڑ کا شکار ہو گئی۔ حال ہی میں شرح سود میں اضافہ ایسی ہی ممکنہ صورتحال کے وقوع پذیر ہونے کا عکاس ہے۔
مسائل کا ذکر کرتے ہوئے سرکاری محکموں کی ابتر صورتحال اور نوکرشاہی کے عوام کش رویوں کو مسئلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہماری نوکرشاہی، بیوروکریسی دور غلامی کی یادگار ہے۔ انگریزوں نے ہندوﺅں پر حکمرانی کرنے کے لئے نوکرشاہی کا نظام ترتیب دیا تھا۔ یہ ایک شکنجہ تھا جو غلام اقوام پر کسا گیا، اس کی گرفت اس قدر موثر اور مستحکم تھی کہ سمندر پار بیٹھی ملکہ برطانیہ کا حکم کروڑوں ہندوستانیوں پر نافذ العمل ہوتا تھا اور ٹھیک ٹھیک ہوتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسری جنگ عظیم 1939-45ءکے بعد انگریزوں کی قوت میں کمی واقع ہو گئی اور انہوں نے خود ہی اپنی مقبوضات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا جس کے نتیجے میں برصغیر کے لوگوں کو آزادی مل گئی۔ بھارت نے آزادی کے بعد معاملات کو اپنے انداز میں ری شیپ کیا، اپنے قومی آدرشوں کے مطابق ڈھالا اور تعمیر و ترقی کے سفر پر چل نکلا۔ ہم آزادی کے بعد بھی حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکے۔ بروقت آئین سازی نہ ہو سکی۔ زبان کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا کہ ہماری قومی زبان کیا ہو گی۔ کہنے کی حد تک تو اردو ہے لیکن دفتری و سرکاری زبان ابھی تک انگریزی ہے۔ ہمارا سرکاری و دفتری نظام ہنوز انگریزی سول بیوروکریسی ہے جہاں پہلے انگریز بیٹھ کر اپنا سکہ چلاتا تھا۔ اب اس پر ہمارا اپنا آدمی، اسی گورے کی نقل میں اپنی برتری کا سکہ چلاتا ہے۔ انگریز اسی نظام کو احسن طریقے سے چلاتا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے۔ ہمارا کالاانگریز صلاحیت میں گورے کے ہم پلہ نہیں ہے۔ ہمارا کالا انگریز اصلی نہیں بلکہ نقلی ہے، اس لئے سرکاری نظام نتائج ظاہر کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ حکمران اٹکل پچو قسم کی پالیسیاں بنا کر سمجھتے ہیں کہ معاملات بہتر ہو جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ معاملات ابتر ہوتے چل جا رہے ہیں۔ کراچی میں پروٹوکول کو توڑ کر شہریوں نے اس نظام کے ساتھ جس نفرت کا اظہار کیا ہے وہ خاصا اہم اور الارمنگ ہے۔ پروٹوکول گورے کے نظام کا خاصا تھا، جس کا مقصد عوام پر، غلام عوام پر رعب داب ظاہر کرنا اور انہیں مرعوب رکھنا ہوتا تھا۔ ہمارے حکمران بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، عوام تنگ آچکے ہیں۔ کراچی میں جو کچھ ہوا وہ عوام کے اس نظام سے نفرت کا ایک اظہار ہے۔
پھر کہا جاتا ہے کہ تعلیم و شعور کی کمی ہمارا اہم مسئلہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کیونکہ تعلیم اور شعور معاشرتی تعمیر و استحکام کی ضمانت ہوتا ہے۔ خطے میں پاکستان کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ کروڑوں انسان ناخواندہ ہیں جو خواندہ کہلاتے ہیں ان میں کروڑوں ایسے ہیں جو صرف اپنے دستخط کر سکتے ہیں اور ناظرہ قرآن کی حد تک پڑھے لکھے ہیں۔ گویا ہمارے ہاں کروڑوں ان پڑھ اور غیر خواندہ ہی ہیں۔ ایسے حالات میں مجموعی بہتری کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ہمارے لاتعداد ڈگری ہولڈر بھی پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بے کار اور معاشرے پر بوجھ ہیں کہ وہ کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، ان کے پاس ڈگری تو ضرور ہے لیکن وہ کچھ عملاً کرنے کے لائق نہیں ہیں، ان کے پاس ہنر نہیں ہے۔ ہم آج کل جس دور میں رہ رہے ہیں وہ صلاحیت، ہنرمندی اور کچھ کرنے کا دور ہے، اس کے بغیر ڈگری یا سند محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ عظیم سرمایہ کار ، ہنر کار اور عالمی معیشت کے بڑے نام ایلون مسک نے اعلان کر رکھا ہے کہ ہر کوئی جو کچھ کر سکتا ہے، وہ میرے پاس آئے مجھے سمجھائے کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔ میں اسے وسائل فراہم کروں گا کہ وہ اپنی صلاحیت کو آزمائے اور معیشت میں اپنا حصہ ڈالے۔ کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر تعلیمی ادارے ڈگریوں کی صورت میں کاغذ تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈگری یافتہ، سند یافتہ بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، یہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے ہی دیگر مسائل جن کا ذکر کیا جاتا ہے، درست ہے مسائل ہیں لیکن سوال پھر وہیں کا وہیں رہتا ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ کلیدی مسئلہ کیا ہے؟
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارا کلیدی مسئلہ ”حق حکمرانی“ کا ہے۔ ہم آج تک یہ طے ہی نہیں کر سکے کہ مقتدر کون ہے؟ اقتدار کا حق کس کے پاس ہے؟ ہم نے 1956ءکا آئین بنایا جو 2 سال ہی چل سکا۔ 1962ءکا آئین، جنرل ایوب کی رخصتی کے ساتھ بھی رخصت ہو گیا۔ 1973ءکا آئین اپنی اصلیت کھو چکا ہے، اسے جنرل ضیاءالحق نے اپنے حق حکمرانی کے لئے استعمال کیا۔ ایسا ہی کچھ جنرل مشرف نے اس کے ساتھ کیا۔ اس کے بعد ہمارے نام نہاد سیاسی حکمران بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کچھ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارا نظام آئینی ہونے کے باوجود آئین کے مطابق نہیں ہے۔ حکمران اور طبقہ اشرافیہ اس نظام کے اعصاب پر سوار ہے۔ عوام پریشان ہی نہیں بلکہ شدید کرب میں مبتلا ہیں۔ انقلاب کی سردست کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ نظام کا جبر و ستم بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ماحول میں اضطراب پھیل رہا ہے جو انارکی کا باعث بن سکتا ہے۔ فوری طور پر ایسا کچھ بھی ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ سردست نظام کا جبر پھیلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ عوامی مشکلات بڑھتی ہی رہیں گی۔ بجٹ 2026-27ءکی آمد آمد ہے۔ عوام مکمل طور پر مایوس نظر آرہے ہیں۔

ٹیگز: