Wed, September 16, 2026

آزادی کے اناسی برس بعد: ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟

آزادی کے اناسی برس بعد: ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟


آزادی کے اناسی برس گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی قوم اپنے مسائل کا جائزہ لے اور اسے محسوس ہو کہ وہ ابھی تک ترقی، خوش حالی، انصاف اور استحکام کی منزل سے دور ہے تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟ زیرِ نظر اقتباس میں یہی تلخ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اگر ہمارے پاس بجلی ہے نہ گیس، مضبوط تعلیمی نظام نہ مو¿ثر کارخانے اور نہ ہی حقیقی جمہوریت و اسلامی اقدار، تو پھر آخر ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ میرے مطابق اصل خرابی کسی ایک ادارے، حکومت یا نظام میں نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ، انا پرستی، خود غرضی اور قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دینے میں ہے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو بے شمار قدرتی وسائل، زرخیز زمین، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت رکھتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہمارے بزرگوں نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف، مساوات، ترقی اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک مثالی معاشرہ قائم ہو۔ لیکن افسوس کہ اٹھہتر برس گزرنے کے باوجود ہم آج بھی بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ بجلی کا بحران، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار ہمارے قومی منظرنامے کا حصہ بن چکے ہیں۔عام طور پر جب مسائل کی بات ہوتی ہے تو ہم فوراً حکومت، سیاست دانوں، بیوروکریسی یا کسی مخصوص ادارے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی تسکین تو دے سکتا ہے لیکن مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف حکمرانوں کے ذریعے نہیں ہوتی بلکہ عوام کے کردار، شعور اور اجتماعی رویوں سے ہوتی ہے۔ اگر ایک معاشرے کے افراد دیانت دار، ذمہ دار اور قانون پسند ہوں تو کمزور نظام بھی بہتر نتائج دے سکتا ہے، لیکن اگر افراد خود بدعنوانی، اقربا پروری اور خود غرضی میں مبتلا ہوں تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔
ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ قانون دوسروں کے لیے ہو اور رعایت ہمارے لیے۔ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ٹیکس چوری کو معمول سمجھتے ہیں، سفارش کو حق تصور کرتے ہیں اور قومی املاک کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتے۔ جب ایک قوم کی اکثریت یہی رویہ اختیار کر لے تو پھر ریاستی ادارے بھی اسی معاشرے کے افراد سے تشکیل پاتے ہیں اور وہاں بھی وہی خامیاں منتقل ہو جاتی ہیں۔تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کردار سازی، تنقیدی شعور، اخلاقی تربیت اور تحقیق کا رجحان کمزور پڑ گیا ہے۔ نتیجتاً ہم ایسے افراد تو پیدا کر رہے ہیں جو نوکری حاصل کر سکیں، مگر ایسے شہری کم پیدا ہو رہے ہیں جو معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔ اگر تعلیم انسان میں ذمہ داری، دیانت داری اور خدمت کا جذبہ پیدا نہ کرے تو وہ معاشرے کو مطلوبہ تبدیلی نہیں دے سکتی۔اسی طرح مذہب کے حوالے سے بھی ہمارا رویہ قابلِ غور ہے۔ ہم اسلام کو ایک مکمل ضابط حیات قرار دیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اس کی بنیادی تعلیمات یعنی سچائی، انصاف، امانت، رواداری اور خدمتِ خلق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ کردار کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اگر نماز، روزہ اور دیگر عبادات انسان کے اخلاق اور معاملات میں بہتری پیدا نہ کریں تو معاشرے میں حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
جمہوریت بھی محض ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ حقیقی جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام باشعور ہوں، اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوں اور ذاتی وابستگیوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ہمارے ہاں اکثر اوقات سیاسی وابستگیاں اتنی شدید ہو جاتی ہیں کہ صحیح اور غلط کا معیار بدل جاتا ہے۔ ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مخالف کی اچھائی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ قومی اتحاد اور جمہوری استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔اقتصادی میدان میں بھی ہماری مشکلات کی ایک بڑی وجہ محنت اور پیداوار کے بجائے شارٹ کٹ کی تلاش ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے برسوں کی محنت، تحقیق، منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ذریعے ترقی حاصل کی، جبکہ ہم اکثر فوری نتائج کے خواہش مند رہتے ہیں۔ محنت، وقت کی پابندی اور پیشہ ورانہ دیانت داری وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معیشت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اگر ایک کارکن، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، تاجر یا سرکاری ملازم اپنے فرائض پوری ایمانداری سے ادا کرے تو قومی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں برداشت اور مکالمے کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اگرچہ اظہارِ رائے کے مواقع فراہم کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نفرت، تعصب اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں مختلف آرا رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے مکالمہ کر سکیں۔ جب معاشرے میں برداشت ختم ہو جائے تو ترقی کا سفر بھی رک جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہم اکثر اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔ کبھی عالمی طاقتوں کو، کبھی ہمسایہ ممالک کو اور کبھی اپنے سیاسی مخالفین کو۔ اگرچہ بیرونی عوامل بعض اوقات اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن قوموں کی تقدیر کا فیصلہ بنیادی طور پر ان کے اپنے کردار اور فیصلے کرتے ہیں۔ جاپان، جرمنی، ملائیشیا، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے مشکلات کے باوجود خود کو سنبھالا اور ترقی کی راہ اختیار کی۔
پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے کے پاس نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ والدین کو اپنے بچوں میں اخلاقیات اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہو گا، اساتذہ کو کردار سازی پر توجہ دینا ہو گی، علما کو اتحاد اور اصلاح کا پیغام دینا ہو گا، سیاست دانوں کو قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہو گا اور عوام کو قانون کی پاسداری اور دیانت داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں۔ ہم یہ تسلیم کریں کہ قوموں کی تعمیر نعروں، تقریروں اور جذباتی بیانات سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، دیانت داری، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور سے ہوتی ہے۔ اگر ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف دوسروں کو ٹھہراتے رہیں گے تو تبدیلی کبھی نہیں آئے گی۔ لیکن اگر ہم اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کریں، اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کریں اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں تو پاکستان کے مسائل بتدریج حل ہو سکتے ہیں۔علامہ اقبال نے خودی کا درس دیا تھا، مگر خودی کا مطلب خود غرضی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو قوم اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کا پیغام دیا تھا۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف بجلی، گیس، تعلیم، معیشت یا سیاست نہیں بلکہ ان سب کے پیچھے کارفرما رویے اور سوچ ہیں۔ جب تک ہم انا، خود غرضی، عدم برداشت، بدعنوانی اور غیر ذمہ داری کو ترک نہیں کرتے، تب تک کوئی بھی نظام ہمیں ترقی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ 

ٹیگز: