Wed, September 16, 2026

معرکہ حق.... ایک سال بیت گیا! 

معرکہ حق.... ایک سال بیت گیا! 

6 اور 7 مئی 2025 ءکی درمیانی رات بھارت نے پہلگام واقعہ کی آڑ میں ، جس کے بارے میں بھارت یہ منفی پراپیگنڈہ کر رہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث ہے، پاکستان میں کم از کم چھ مقامات کو اپنی بمباری اور اپنے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تو پھر اگلے چار دنوں یعنی 10 مئی کی دوپہر تک جو کچھ ہوا، چشمِ فلک نے جو مناظر دیکھے، اقوامِ عالم نے جو نظارے کیے، بھارت جس ہزیمت، پسپائی، شکست اور تباہ کن صورتحال سے دوچار ہوا اور پاکستان کو جو عزت اور سربلندی حاصل ہوئی، یہ سب کچھ پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس پر ہم ہمیشہ ناز کرتے رہیں گے ۔ یہ آپریشن بنیان مرصوص کے تحت معرکہ حق تھا جو ہم نے بھارت کے خلاف لڑا اور اللہ کریم نے ہمیں اس طرح سُر خرو کیا کہ دُنیا پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری، دلیری اور جنگی مہارت کی معترف ہی نہ ہوئی بلکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے کہ جس کی قومی اور عسکری قیادت پاکستان کے دفاع، سرحدوں کی حفاظت اور اس کے قومی وقار اور عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لئے بلا خوف کسی حد تک بھی جاسکتی ہے اور اپنے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے کر انہیں ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔ 
معرکہ حق کے بارے میں لکھتے ہوئے میرے ذہن میں ستمبر 1965 ءکی 17 روز پاک بھارت جنگ ، دسمبر 1971ءکی پاک بھارت جنگ اور 1999 ءکی گرمیوں کے دوران کارگل کی معرکہ آرائی کے واقعات تازہ ہو رہے ہیں۔ ان جنگوں اور معرکہ آرائیوں کے حوالے سے میری یادیں خوشگوار ہیں اور ناخوشگوار بھی۔ ستمبر 1965 ءکی 17 روزہ جنگ میں بلا شبہ پوری قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے طور پر دشمن کا سامنا کیا اور ہماری مسلح افواج نے بہادری ، دلیری اور شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ دشمن پسپائی پر ہی مجبور نہ ہوا بلکہ اُسے ایک طرح کی شکست سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ بھارت کے 120 کے لگ بھگ جنگی طیارے تباہ ہوئے اُس کا لاہور پر قبضہ کرنے کا خواب چکنا چور ہوا ، چونڈہ کا میدان اُس کے سیکڑوں شرمن ٹینکوں کا قبرستان بنا اور وسیع بھارتی علاقے پاکستان کے قبضے میں آئے۔ 6 سال بعد دسمبر 1971 ءمیں پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بڑی حد تک اس کے اُلٹ تھا۔ ہم مغربی سرحد پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکے تو مشرقی پاکستان میں ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ہماری مسلح افواج کے مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ 
جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے اور ہماری 93 ہزار فوجی اور سویلین بھارت کے جنگی قیدی بنے ۔ اس طرح سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی۔ 
1999ءکی گرمیوں میں وقوع پذیر ہونے والی گارگل کی معرکہ آرائی کی یادوں کو تازہ کروں تو یہ بیک وقت خوشگوار بھی ہیں اور ناخوشگوار بھی۔ 1999 ءکی گرمیوں کے اوائل میں بھارت کی فوجیں جب کارگل کی چوٹیوں پر اپنی چوکیوں میں واپس آنے کے لئے آگے بڑھیں تو پاکستان کے مسلح دستے اُنکا سامنا کرنے کے لئے تیار تھے ۔ بھارت نے مقابلے کی ٹھانی تو پہلے ہی دن اُس کے دو میراج طیارے فضائی جھڑپوں کا نشانہ بن گئے ۔ بھارت نے واویلا مچانا شروع کیا کہ پاکستان جارح ہے جس نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے یہ پراپیگنڈہ اتنی مہارت کے ساتھ کیا کہ ساری دُنیا ہی نہ صرف اُس کی ہمنوا ہو گئی بلکہ پاکستان کو جارح بھی سمجھنے لگی۔ اس طرح پاکستان کے لئے انتہائی مشکل صورتحال پیدا ہو گئی اور پاکستانی مسلح دستوں کو مجبوراً کارگل سے پسپائی کا راستہ اختیار کرنا پڑا جس کے نتیجے میں پاکستان کا بے پناہ جانی نقصان ہوا۔پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن سے مداخلت کی درخواست کرنا پڑی۔ وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف امریکہ کے دورے پر گئے اور 4 جولائی 1999 ءکو بھارت اور پاکستان کے درمیان معاہدہ واشنگٹن طے پایا جس کی شرائط سراسر پاکستان کے خلاف تھیں۔ معرکہ کارگل کی وجہ سے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادتوں کے درمیان بدگمانی ، بد اعتمادی اور باہمی ناراضی کے جذبات پروان چڑھے جو انجامِ کار میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے خاتمے اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے حکومت پر غاصبانہ قبضہ جمانے پر منتج ہوئے۔ 
بھارت کے ساتھ ماضی کی بڑی معرکہ آرائیوں کی یہ تفصیل بلا شبہ کوئی زیادہ خوش کن نہیں لیکن اس کے مقابلے میں معرکہ حق کے تحت پاکستان نے 6 اور 7 مئی 2025 ءکی درمیانی رات سے 10 مئی کی دوپہر تک بھارت کے ساتھ جو سلوک ہوا اور اُس کو جو ناکوں چنے چبوائے وہ یقینا قابلِ فخر ہے۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان کے 9 شہروں جن میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، کوٹلی، باغ اور مظفر آباد شامل ہیں پر اپنے طیاروں کے ذریعے میزائل داغے اور ان شہروں کی سویلین آبادی نشانہ بنی اور 30 لوگ شہید اور 71 زخمی ہوئے۔ بھارت کے کم و بیش 80 طیارے فضا میں تھے پاکستان بھی تقریباً45 طیاروں کو فضا میں لے آیا اور پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان دُنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائیٹ شروع ہو گئی ۔ پاکستان نے اس رات بھارت کے 7 طیارے ، جن میں 4 رافیل ایک S-30 ، ایک مگ 29 اور ایک معراج 2000 تھا گرا ئے تو اس کے ساتھ بھارت کا میزائل بردار اسرائیلی ساختہ ہیرون ڈرون بھی گرا دیا۔ اس ساری کارروائی میں بمشکل ایک گھنٹہ لگا لیکن یہ بھارت کے لئے اتنا خوفناک جھٹکا تھا کہ اگلے تین دن تک اُس کا کوئی جہاز فضا میں نہ اُڑ سکا۔
بھارت نے 9 مئی کو پاکستان پر اپنے سیکڑوں ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا لیکن یہ سارے ڈرونز تباہی اور بربادی سے دو چار ہوئے۔ آخری چارہ کار کے طور پر اُس نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات پاکستان پر براہموس میزائلوں سے حملہ کر دیا۔ نور خان ائیر بیس چکلالہ راولپنڈی ، مریدتلہ گنگ روڈ چکوال،سرگودھا اور اسی طرح کے پاکستان کے فضائی مستقر جن کے بارے میں بھارت کا خیال تھا کہ وہاں پاکستان کے جوہری اثاثے بھی موجود ہیں اُن کو اُس نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ لیکن ہوا یہ کہ بھارت کے براہموس میزائل پاکستان کی فضاﺅں میں اپنے ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی بجائے بھارتی فضاﺅں میں ہی گرتے رہے کہ اُن کا کنٹرول سسٹم پاکستان نے اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ اسی دوران پاکستان نے بھارت کے S-400 اینٹی بیلسٹک میزائل ریڈار سسٹم ناکارہ کر دیا۔پھر بھارت کے خلاف آخری ہلے کی باری آ گئی 10 مئی کی صبح فجر کی نماز کی آرمی چیف جنرل موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امامت کی نماز کے بعد طویل دعا کی گئی اور پھر بھارت کے خلا ف حملے کا حکم دے دیا گیا۔ پاکستان نے بھارت پر اپنے الفتح میزائلوں کی بارش کر دی اور تین دن کے میزائل ایک گھنٹے میں بھارت پر برسا دئیے ۔ بھارت کے 32 ائیر بیسز سمیت اُس کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور کئی چوکیاں نشانہ بنیں یہاں تک کہ بھارت کو جنگی بندی کے لئے امریکی حکومت سے رابطہ کرنا پڑا۔ امریکی صدر کی مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی عمل میں آ گئی لیکن بھارت آج تک اس بات سے انکاری ہے کہ اُس نے جنگ بندی کے لئے امریکی صدر سے مداخلت کی اپیل کی تھی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار کہہ چکے ہیں کہ بھارت نے جنگ بندی کی اپیل ہی نہیں کی تھی بلکہ اُس کے 8 طیارے بھی تباہ ہوئے۔

ٹیگز: