اسلام آباد: دنیا بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران 19 ارب سے زائد پاسورڈز افشا ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ماہرین نے سائبر سیکیورٹی کی شدید خرابی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
تازہ رپورٹ معروف ویب سائٹ "سائبر نیوز" میں شائع ہوئی، جس میں اپریل 2024 سے اپریل 2025 کے دوران پیش آنے والے 200 سے زیادہ ڈیٹا لیکس کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان خلاف ورزیوں میں 19 ارب 3 کروڑ سے زائد پاسورڈز انٹرنیٹ پر ظاہر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ان افشا شدہ پاسورڈز میں سے 94 فیصد ایسے تھے جو صارفین پہلے بھی استعمال کر چکے تھے یا آسانی سے پہچانے جا سکتے تھے، جب کہ صرف 6 فیصد (تقریباً 1 ارب 14 کروڑ) پاسورڈز واقعی منفرد اور مختلف تھے۔
سائبر سیکیورٹی کی محقق نیرنگا نے اسے "کمزور اور بار بار دہرائے گئے پاسورڈز کے پھیلاؤ" سے تعبیر کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں ایسے معمولی پاسورڈز کے دوبارہ استعمال کی عالمی وبا کا سامنا ہے، جو ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔"
تحقیق میں مزید انکشاف ہوا کہ:5 کروڑ 60 لاکھ صارفین نے "password"
5 کروڑ 30 لاکھ نے "admin" کو پاسورڈ کے طور پر اپنایا
جب کہ 4 فیصد پاسورڈز میں "1234" شامل تھا اور 8 فیصد نے اپنے یا دوسروں کے نام بطور پاسورڈ استعمال کیے
ماہرین نے عام صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ محفوظ، منفرد اور مشکل پاسورڈز اپنائیں اور کسی ایک پاسورڈ کو مختلف جگہوں پر بار بار استعمال نہ کریں، تاکہ ذاتی معلومات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔