میری صحافتی زندگی میں ایک نہیں سیکڑوں ایسے کردار اور شخصیات گزریں جنہوں نے اپنی کہانی خود لکھی، کرداروں کا تعین بھی خود کیا، کاتب تو تقدیر لکھتا ہے مگر دنیا میں بہت سے لوگوں نے ٹوٹتے، بنتے اور سنورتے اپنی تقدیر خود لکھی اور انہوں نے کامیابی کے افق پر اپنے بڑے ہونے کی سند جاری کردی۔ انہی ناموں میں ایک نام محمد علی میاں جو 1995ء میں ایک عام ورکرز سے ٹریڈ باڈی کی کتاب میں اپنا نام درج کراتا ہے اور پھر اس نام کے ساتھ اس نے لیڈرشپ کے گراف تک پہنچنے کے لئے خود ہی سکرپٹ لکھا۔ سکرپٹ لکھنے کے دوران اچھے برے فیصلے بھی ہوئے اور جس کشتی میں محمد علی میاں سوار تھا اس نائو کو کنارے پر پہنچانے والے کوئی اور تھے مگر بہتے دریا کے بہائو میں چپو کس طرح گھمانا اور چلانا ہے اور اس کے دائو پیچ کیا ہیں۔ اس کی نظر میں ملاح کی حکمت عملی اور طوفانوں سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے پر تھیں۔ یہاں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھتے چلیں کہ جو لوگ کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پھر زندگی میں آئے ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی اپنے اندر جرأت بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ 1995ء میں اپنی ٹریڈ سیاست کی اننگز کا آغاز کرنے والے محمد علی میاں اور آج کے کہنہ مشق کھلاڑی محمد علی کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے کبھی گھر نہیں بدلے۔ ایک ہی گھر سے اپنی اننگز کھیلنا شروع کی اور آج تیس برس گزر گئے وہ کبھی آئوٹ نہیں ہوا۔ تیس سال سے جاری اس اننگز میں اس نے بڑی مشکلات کا بھی سامنا کیا، کئی غلط شاٹ بھی کھیلیں، کہیں لڑکھڑایا کہیں ڈگمگایا… مگر اپنے گھر کو نہیں چھوڑ۔ آج تین عشروں کو عبور کرکے ناصرف خود کو اپنی سیاست کے چوتھے عشرے میں داخل کیا بلکہ اس نے خود کو ٹریڈ سیاست کی بڑی لیڈرشپ میں کھڑا کرکے یہ بات ثابت کر دی شاید انہی لوگوں کے بارے میں رئیس امروہوی نے کہا ہے…
صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے
صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم
صبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن
یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیںہم
میں نے ٹریڈ لیڈر محمد علی میاں پر کالم لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ ایک لکھاری ہونے کے ناتے میں مختلف موضوعات پر کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔ قلم مزدوری نوکری بھی ہے اور اس کے ساتھ عشق بھی، مجھے ضرورت اس بات کی نہیں ہوتی کہ میری لکھی تحریر پر اچھا ہے کی مہر ثبت کر دی جائے بلکہ مجھے وہ لوگ دل سے اچھے لگتے ہیں۔ چاہے ان سے لاکھ میرے اختلافات ہوں جب تنقید کرتے ہیں تو ہمیں آج بھی ان سے سیکھتا ہوں۔ میں نے جب بھی ٹریڈ باڈیز کے معاملات قلم کے حوالے کئے پہلی تنقید کے تیر ادھر ہی سے آئے۔ یہاں مجھے پروین شاکر کی بہت یاد (باقی صفحہ4بقیہ نمبر4)
آئی…
وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی
میرے گزشتہ روز لکھے گئے کالم ’’نئے ٹریڈ گروپس اور جوڑ توڑ‘‘ کے بعد محمد علی میاں کہہ رہے تھے کہ آپ نے جو لکھا ایسا نہیں ایسا ہے جبکہ میرے نزدیک ٹریڈ سیاست میں کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے جا رہا ہے۔ اس نگارخانے میں بڑی طوطیاں اور طوطے پھڑپھڑاتے ہوئے نئے سے نئے راگ الاپ رہے ہیں، بے سری دھنوں کے ساتھ اپنی اپنی دھن سنا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ننگا کرنے کے شوقین کھلاڑی نئے گروپس بنانے کی شنید تو جوڑ توڑ کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ میرے کالم میں لکھے گئے اس جملے پر کہ شاید فائونڈر انجم نثار تو ایک ہو جائیں گے۔ اس پر محمد علی میاں نے یہ لطیفہ سنایا جو ان کی نظر میں آنے والے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک دیہاتی نے کہا کہ میرا ریما سے پیار ہو گیا ہے۔
پوچھا وہ کیسے…؟
میں مان گیا ہوں صرف ریما کا انتظار ہے۔
فائونڈر اپنے تئیں تیار ہوں تو ہوں… معاملہ دیہاتی والا ہی رہنا ہے۔ یہاں ان کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ میاں شفقت اور میاں مصباح اور علی کی سیاست کا محور صرف اور صرف دو بھائیوں کے درمیان لڑائی ہے۔ اس سے انہوں نے فائدہ اٹھانا تھا کوئی نظریاتی یا خدمت تاجر کا اصول نہیں، نہ کوئی بیانیہ نہیں تھا۔ انہوں نے خاندان کی لڑائی میں مٹی کا تیل ڈالا اور گزشتہ انتخابات میں جتنا زور صابر، شیخ عرفان اقبال، میاں شفقت اور امجد چودھری نے لگایا وہ آئندہ اس سے آدھا بھی نہیں لگا پائیں گے کیونکہ ان کی ٹیم ٹوٹنے کے ساتھ غبارے میں سے ہوا بھی نکل گئی ۔ اب تو یہ لوگ تمام مارکیٹوں سے آئوٹ ہو چکے۔ سوائے بادامی باغ کے۔ عرفان اقبال نئی سیاسی پارٹی بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ان کے پیچھے میرا ویژن اور پلاننگ ہوتی تھی اور انجم نثار کی قیادت PPPPالائنسز سے اگر خود کوئی غلطی نہ ہوگئی تو یہ الائنسز کئی سال تک چلے گا۔ یہ مؤقف ہے۔ ٹریڈ سیاست کے بڑے رہنما محمد علی میاں کا اگر اس کی ٹریڈ سیاست سے ہٹ کر بات کروں۔ یہ بات میں اپنے حوالے سے کر رہا ہوں، اس کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ اس کے اندر ایک لکھاری ہے جو اس کے زمانہ تعلیم کے دور سے چلتا ہوا آج بھی اس پر حاوی ہے اور جس کا اظہار وہ اپنی جوشیلی اور ماحول کو بھڑکا دینے والی تقاریر میں کرتے نظر آئے۔ دوسرا پہلو وہ کاروباری بندہ ہونے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے اتار چڑھائو سے خوب واقف ہے۔ تیسرا پہلو وہ اپنے اندر ایک ادبی اور شاعر کو جوڑے ہوئے ہیں۔ زمانہ تعلیم میں نامور شاعر ناصر کاظمی کے بیٹے باصر کاظمی کے کلاس فیلو رہے اور اسی دور میں شاعری کا رنگ ان کے اندر چڑھا۔ اس کے باوجود وہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کو اپنے اندر زیادہ اتارے ہوئے ہیں۔
ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ کسی شخص کی کردار کشی کرنا دائیں ہاتھ کا کام جبکہ کسی پر خاکہ لکھنا کسی پہاڑ کو گرانے سے کم نہیں۔ بے شک انسان غلطی کا پتلا اور اس سے اگر غلطیاں نہ ہوں تو پھر وہ فرشتہ کہلائے۔ انسانی فطرت ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ لاہوری ٹریڈ باڈیز کے اندر گزشتہ کم از کم تین سال سے لیڈرز کے افق پر جن ناموں نے خود کو منوایا ان میں ایک نام میاں محمد علی میاں کا ہے اور ان کے بارے میری یہ رائے ہے کہ ’’یہ میری کہانی ہے۔ اسے میں خود لکھوں گا‘‘ یعنی محمد علی میاں کی سیاست کے شب و روز کی جب ورق گردانی کرتا ہوں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس شخص نے اپنی کہانی خود لکھی اور اس کہانی کا مین کردار بھی خود منتخب کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور لگاتار ایک اننگز کھیلتے ہوئے اپنا نام محمد علی میاں لکھوا گیا…