Wed, September 16, 2026

یہ آگ نہیں بڑھنی چاہئے

 یہ آگ نہیں بڑھنی چاہئے

دونوں ملکوں کے عوام جنگ کے حق میں نہیں تھے ، جنگ شروع ہونے کے بعد بھی نہیں ہیں ، آج اگر دونوں ملکوں کے سیاسی و فوجی حکمران اچھی شہرت کے حامل کسی عالمی ادارے سے یہ سروے کروا لیں کہ دونوں ملکوں کے عوام جنگ چاہتے ہیں یا امن ؟ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں دونوں ملکوں کے نوے فیصد عوام امن کے حق میں ہوں گے ، پاکستان کے سیاسی و فوجی حکمران تو بغیر کسی سروے کے ہی اپنے عوام کی امن پسندی کے جذبوں کے مطابق چلتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ جنگ سے ہر ممکن حد تک گریز کرتے رہے ، لیکن ہندوستان کے سیاسی و فوجی حکمرانوں نے ایک بار پھر شاید پاکستان سے ذلیل ہونے کا فیصلہ کر لیاہے ، اس معاملے میں اپنے عوام کی ایک فیصد حمایت اْنہیں حاصل نہیںہے ، عوام کیا اْن کی فوج کے اندر اس حوالے سے جو ٹوٹ پھوٹ ہے بھارت کی تباہی کے لیے وہی کافی ہے ، اب بھارت نے جنگ ہم پر مسلط کر دی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے پاکستان کے چوبیس کروڑ عوام کو اپنے ہر قسم کے اختلافات بْھلا کر متحد ہونا پڑے گا اور اپنی ان کمزوریوں پر فوری طور پر قابو پانا پڑے گا جو دشمن ملک کی طاقت کا سبب بن سکتی ہیں ، عالم اسلام نے خواب خرگوش کے مزے بہت لوٹ لئے ، اسلام کے ازلی دشمن ملکوں نے مسلمانوں پر جو ستم ڈھائے جو بربریت کی خصوصاً پچھلے کچھ عرصے میں فلسطین اور غزا میں جو کربلا برپا کی بشمول پاکستان کے عالم اسلام نے اْس کے خلاف وہ کردار ادا نہیں کیا جو اْسے کرنا چاہیے تھا ، کوئی عملی کردار ادا کرنا تو دْور کی بات ہے نام نہاد عالم اسلام نے کوئی ایسا مضبوط رد عمل ہی نہیں دیا جس سے اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن ممالک کو ایسی بربریت کی جرأت نہ ہوتی جس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں مسلمان شہید ہو گئے ، اب معاملہ پاکستان کاہے دنیا جانتی ہے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو پاکستان اس لیے بھی کھٹکتا ہے یہ ایک ایٹمی قوت ہے ، یہ درست ہے اس کے مقابلے میں ہندوستان بھی ایٹمی قوت ہے لیکن پاکستانیوں کے پاس ایٹمی قوت سے بڑھ کر جو قوت ہے وہ اْن کا وہ جذبہ ایمانی ہے شہادت جس کا حصہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنگ سے پناہ مانگی ہے ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’لوگو دشمن سے مقابلے کی آرزو نہ کرو بلکہ اللہ سے پناہ مانگو لیکن اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور خوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعا فرمائی’’اے اللہ کتاب کے نازل کرنے والے ، بادلوں کو چلانے والے ، کافروں کے لشکروں کو شکست دینے والے انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما‘‘ ، عالم اسلام کو معلوم ہونا چاہیے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ اگر شروع ہو گئی اور طویل ہو گئی اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟ مسلمانوں پر جہاں کہیں بربریت ہوئی عالم اسلام کی اس پر مجرمانہ خاموشی انتہائی قابل مذمت ہے ، مگر اب پاکستان اور بھارت کی جنگ میں عالم اسلام کی خاموشی کا نتیجہ خود عالم اسلام کے لیے اچھا نہیں نکلے گا ، چنانچہ مسلمان ملکوں کو فوری طور پر مداخلت کر کے بھارت کے جنگی جنون کا خاتمہ کرنا چاہئے اور اپنے ذاتی و مالی مفادات کو پرے کر کے پاکستان کی عملی طور پر حمایت کرنی چاہئے ، یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے ابھی تک کسی بڑے مسلمان ملک نے بھارت کے جنگی جنون کی کْھل کر مذمت کی نہ پاکستان کی کْھل کر حمایت کی ، ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ جنگ کا عملی آغاز یا باقاعدہ آغاز گزشتہ روز نہیں کیا ، اس کا باقاعدہ آغاز سندھ طاس معاہدے کی منسوخی سے ہی ہو گیا تھا ، دنیا میں کتنے مسلم ممالک ہیں جنہوں نے ہندوستان کے اس عمل کی مذمت کی ؟ اس کے بعد بھی پاکستان نے صبر کیا اور فوری بدلہ لینے کے لیے کوئی ایسا قدم نہیں اْٹھایا جس سے بھارت کو اندازہ ہو جاتا ’’پاکستان کے ساتھ دشمنی اتنی آسان نہیں ہے‘‘ ، سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے بعد پاکستان کی خاموشی کو پاکستان کی شاید کمزوری سمجھ لیا گیا تھا ، اس کے بعد اب اگلا قدم بھارت نے ہماری آبادی پر میزائل داغنے کا اٹھایا ہے جس کا فوری منہ توڑ جواب اْسے دے دیا گیاہے ، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارت کے چھ ڈراؤن طیارے ، برگیڈ ہیڈ کوارٹر اور کئی پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں ، ان کی کئی ہلاکتیں ہو گئیں اور ان کے فوجی پچاس پوسٹیں چھوڑ کر بھاگ گئے ، میں سمجھتا ہوں اس طرح کی کارروائی اگر سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے فوراً بعد پاکستان کی طرف سے کر دی جاتی تو ہندوستان کو شاید یہ جرأت ہی نہ ہوتی وہ پاکستان کی سویلین آبادی کو نشانہ بناتا ، میں مکرر عرض کرنا چاہتا ہوں جنگ کی آگ پھیل گئی اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ، دو ایٹمی قوتوں کے ٹکراؤ کو رکوانے کی ذمہ داری عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اْن ملکوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو امن پسندی کے بڑے دعویدار ہیں ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے بالکل درست فرمایا ہے’’دنیا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی‘‘ مگر اْن کا صرف یہ فرما دینا ہی کافی نہیں ہے، وہ اگر واقعی یہ سمجھتے ہیں’’دنیا پاکستان اور بھارت کی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی‘‘ پھر اْنہیں اس جنگ کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر کوئی عملی اور مؤثر کردار ادا کرنا پڑے گا ، بعض خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کو انتہائی شرمناک قرار دیا ہے، اللہ کرے ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اْس جج کی طرح نہ ہو جو دوران سماعت مسلسل مدعی کے حق میں دئیے جانے والے دلائل کو تسلیم کر رہا ہوتا ہے مگر آخر میں فیصلہ وہ ملزم کے حق میں سنا دیتا ہے ، بھارت نے پاکستان پر جو جنگ مسلط کی ہے اْس میں اچھی بات یہ ہے ایک’’ہجوم‘‘ کو ایک بار پھر ایک’’قوم‘‘ بننے کا شاید موقع مل جائے گا ، پاکستان کے نامور آرتھوپیڈک سرجن اور گْھرکی ہسپتال کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز نے کور کمانڈر لاہور کو ایک خط میں پیشکش کی ہے واہگہ بارڈر کے قریب اْن کا گْھرکی ہسپتال کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پوری تیاری کے ساتھ چوبیس گھنٹے حاضر ہے ، اور اپنی پوری ٹیم کے ساتھ خود بھی وہ حاضر ہیں ، اس وقت ہر پاکستانی کا یہی جذبہ ہے ، ہر پاکستانی’’عامر عزیز‘‘ بن گیاہے۔

ٹیگز: