اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج کے خطے میں اس وقت ایک خطرناک کشمکش جنم لے چکی ہے جس میں بظاہر امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں بالواسطہ دباؤ اور کشیدگی کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس محاذ آرائی کا ظاہر اور پوشیدہ مقصد ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کرنا یا بالآخر اسے زوال سے دوچار کرنا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم مسلسل سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود اب تک یہ مقصد حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اس کے برعکس اس بحران نے ایران کے اندر انتشار پیدا کرنے کے بجائے ایک مختلف نتیجہ پیدا کیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی معاشرے میں جذباتی اور سیاسی اتحاد کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
جغرافیائی سیاست کے سائے میں تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے…کبھی طنز کے طور پر نہیں بلکہ ایک خوفناک منظرنامے کی صورت میں جس میں کردار بدل جاتے ہیں مگر محرکات وہی رہتے ہیں۔ تقریباً چھ دہائیاں قبل پیش آنے والا ایک تاریخی واقعہ اس صورتِ حال سے حیران کن مماثلت رکھتا ہے۔ 8 جون 1967 کو عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان چھ روزہ جنگ کے دوران امریکی بحریہ کا انٹیلی جنس جہاز یو ایس ایس لبرٹی جزیرہ نما سینائی کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا۔ یہ جہاز واضح طور پر نشان زد تھا اور جنگی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا، لیکن اچانک اسرائیلی لڑاکا طیاروں اور ٹارپیڈو کشتیوں نے اس پر شدید حملہ کر دیا۔
یہ حملہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ جب یہ ختم ہوا تو چونتیس امریکی فوجی ہلاک اور ایک سو اکہتر زخمی ہو چکے تھے۔ جہاز پر واضح طور پر لہراتا ہوا امریکی پرچم موجود تھا اور بار بار شناختی سگنل بھی بھیجے گئے، اس کے باوجود حملہ غیر معمولی درستگی کے ساتھ جاری رہا۔ جہاز کا بچ جانا بڑی حد تک اس کے کپتان کمانڈر ولیم ایل میک گوناگل کی غیر معمولی جرات کا نتیجہ تھا۔ حملے کے ابتدائی مرحلے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ جہاز پر اپنے مقام پر ڈٹے رہے اور جہاز کے عملے کو ہدایات دیتے رہے جبکہ تباہ حال جہاز سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کی قیادت نے بالآخر جہاز کو غرق ہونے سے بچا لیا۔
بعد ازاں کمانڈر میک گوناگل کو امریکہ کے سب سے بڑے عسکری اعزاز میڈل آف آنر سے نوازا گیا۔ تاہم یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے بجائے واشنگٹن نیوی یارڈ میں خاموشی سے منعقد کی گئی، جسے وسیع پیمانے پر اس کوشش کے طور پر دیکھا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تناؤ کو کم رکھا جائے اور عوامی سطح پر بحث کو محدود کیا جائے۔ حملے سے بچ جانے والے افراد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ یہ کارروائی دانستہ تھی۔ پیٹی آفیسر ارنی گیلو نے کہا تھا کہ جہاز کی شناخت بالکل واضح تھی، جبکہ ایک اور زندہ بچ جانے والے جو میڈرز نے اس واقعے کو ’’سرد خون قتل ‘‘قرار دیا۔ کئی دہائیوں سے یہ آوازیں سرکاری مؤقف کو چیلنج کرتی آ رہی ہیں جس میں اس حملے کو محض ایک المناک غلطی قرار دیا گیا تھا۔
یو ایس ایس لبرٹی کے اس واقعے اور 2026 میں سامنے آنے والی موجودہ صورتحال کے درمیان مماثلتیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ دونوں مواقع پر ایک ابتدائی پرتشدد واقعہ نے عوامی رائے کو متاثر کرنے اور وسیع تر سٹرٹیجک مقاصد کے لیے فضا ہموار کرنے کا کام کیا۔ 1967 میں اس حملے نے ایک ایسے ممکنہ گواہ کو خاموش کر دیا جو جنگ کے بعض پہلوؤں کو بے نقاب کر سکتا تھا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کے براہِ راست عربوں کے خلاف اس جنگ میں شامل ہونے اور ان سے ٹکرائو کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ موجودہ بحران میں ایران پر کیے گئے حملوں کے الزامات بظاہر ہمسایہ ممالک کو تہران کے خلاف متحرک کرنے اور جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
دوسری مماثلت اطلاعات کے استعمال میں نظر آتی ہے۔ لبرٹی کے واقعے میں‘‘غلط شناخت’’کا مؤقف اس وقت بھی برقرار رکھا گیا جب اس کے برعکس شواہد موجود تھے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام لگانے والا بیانیہ جدید تکنیکی اور تحقیقی جائزوں کے باعث سوالات کی زد میں آ رہا ہے۔ جب معلومات حقیقت کی عکاسی کے بجائے حکمتِ عملی کا ہتھیار بن جائیں تو دفاع اور فریب کے درمیان حدیں خطرناک حد تک دھندلا جاتی ہیں۔
تیسری مماثلت اس خاموشی میں پوشیدہ ہے جو اکثر ایسے واقعات کے بعد چھا جاتی ہے۔ حکومتیں اکثر غیر آرام دہ حقائق کو سفارتی مصلحتوں کے تابع کر دیتی ہیں جبکہ میڈیا کے بیانیے بھی سٹرٹیجک اتحادوں اور سیاسی مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ لبرٹی کے واقعے میں متاثرین کی جانب سے انصاف کی جدوجہد وقت کے ساتھ پس منظر میں چلی گئی کیونکہ مختلف امریکی حکومتیں اس معاملے کو دوبارہ کھولنے سے گریزاں رہیں۔ اسی طرح آج بھی عالمی ادارے ایسے طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں جو موجودہ جغرافیائی سیاسی شراکت داریوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔