Wed, September 16, 2026

طاقت کی سیاست یا امن کا فریب؟

طاقت کی سیاست یا امن کا فریب؟

امریکہ نے 4 جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی، مگر اس کے بعد کی تاریخ محض جمہوریت کے فروغ تک محدود نہیں رہی بلکہ مسلسل عسکری مداخلتوں سے عبارت بن گئی۔ آزادی کے فوراً بعد ہی اس نے توسیع پسندانہ پالیسی اپنائی اور 1846-48 میں میکسیکو کے خلاف جنگ لڑ کر وسیع علاقے حاصل کیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرا، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بھی دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا۔ بیسویں صدی میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں شرکت نے امریکہ کو عالمی قیادت کی صف میں لا کھڑا کیا، لیکن سرد جنگ کے دوران اس کی پالیسیوں نے دنیا کو کئی محاذوں پر تقسیم کر دیا۔ کوریا 1950-53 اور ویتنام 1955-75 کی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں لاکھوں انسان ہلاک ہوئے اور پورے معاشرے تباہی کا شکار ہوئے۔ مگر انسانی تاریخ کا سب سے بھیانک منظر اگست 1945 میں دیکھنے کو ملا جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ ان حملوں میں فوری طور پر تقریباً دو لاکھ افراد جان سے گئے، جبکہ بعد ازاں تابکاری کے اثرات نے مزید نسلوں کو متاثر کیا۔ یہ واقعہ آج بھی طاقت کے بے رحمانہ استعمال کی بدترین مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی امریکہ کی عسکری حکمتِ عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ 1991 کی خلیجی جنگ، 2001 میں افغانستان پر حملہ اور 2003 میں عراق پر چڑھائی یہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو طویل عدم استحکام میں مبتلا رکھا۔ خاص طور پر عراق جنگ، جس کا جواز وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بتایا گیا، بعد میں بے بنیاد ثابت ہوا، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کی پالیسیوں پر شدید تنقید ہوئی۔ اسی تناظر میں جب ہم اسرائیل کو دیکھتے ہیں، جو 1948 میں قائم ہوا، تو ایک مماثلت واضح نظر آتی ہے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد 1948، 1967 اور 1973 کی جنگوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم جیسے علاقے مسلسل تنازع کا شکار رہے۔ غزہ، جو ایک محدود اور گنجان آباد خطہ ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں بارہا اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مرکز بنا رہا ہے۔
2008-9، 2012، 2014، 2021 اور 2023-24 کے ادوار میں ہونے والی کارروائیوں نے غزہ کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا۔ ان حملوں میں دسیوں ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ زخمیوں اور بے گھر افراد کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔ تباہ شدہ گھروں، ملبے میں تبدیل ہسپتالوں اور بنیادی سہولیات سے محروم عوام کی تصاویر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی رہی ہیں۔ اسرائیل ان اقدامات کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ بھی اکثر اپنی عسکری مداخلتوں کو عالمی امن کے لیے ناگزیر بتاتا ہے۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ طاقت کے اس مسلسل استعمال نے نہ صرف خطوں کو غیر مستحکم کیا بلکہ نفرت، انتہا پسندی اور بداعتمادی کو بھی فروغ دیا ہے۔
یہ تمام جنگیں ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہیں ہے: کیا جنگ واقعی مسائل کا حل ہے؟ تاریخ بارہا اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ عسکری برتری وقتی فتح تو دے سکتی ہے، مگر پائیدار امن نہیں لا سکتی۔ ویتنام سے لے کر افغانستان تک اور غزہ سے لے کر عراق تک، ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی گئی ہے تباہی، انسانی المیہ اور ایک ایسا خلا جسے کوئی بھی فتح پُر نہیں کر سکتی۔ اگر امریکہ اور اسرائیل واقعی خود کو عالمی نظام کے ذمہ دار کردار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے بجائے انصاف، مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دینا ہو گی۔ کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ انصاف کرنے والوں کو زندہ رکھتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ جنگوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ نہ صرف خطوں کو بلکہ پوری انسانیت کو اپنے حصار میں لیتا رہے گا۔
1949 میں نیٹو کا قیام بظاہر اجتماعی دفاع اور امن کے قیام کے لیے عمل میں لایا گیا، مگر وقت کے ساتھ اس اتحاد کی نوعیت اور کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران اس کا بنیادی ہدف سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا، لیکن 1991 میں اس کے خاتمے کے بعد بھی نیٹو نہ صرف برقرار رہا بلکہ مسلسل پھیلتا گیا۔ اگر نیٹو واقعی ایک دفاعی اتحاد تھا تو سوال یہ ہے کہ اس کی مشرقی یورپ تک توسیع کیوں جاری رہی؟ ناقدین کے مطابق یہ پھیلاو¿ دراصل عالمی طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی کوشش ہے، جس نے روس کے ساتھ کشیدگی کو مزید بڑھایا۔ یوکرین بحران سمیت حالیہ تنازعات میں بھی نیٹو کا کردار متنازع سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں، افغانستان اور دیگر خطوں میں نیٹو کی عسکری مداخلتوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ یہ اتحاد محض دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست میں ایک فعال طاقت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی امن کا ضامن ہے یا مغربی بالادستی کا ایک آلہ؟ حقیقت یہی ہے کہ نیٹو کی پالیسیوں نے جہاں کچھ خطوں میں استحکام پیدا کیا، مگر حقیت میں امریکہ کی ایک زیلی تنظیم ہی رہا! پہلی بار ہے کہ ایران پر امریکی اسرائیلی حملے میں نیٹو نے ٹرمپ کا اب تک ساتھ نہیں دیا۔

ٹیگز: