Wed, September 16, 2026

بدلتا عالمی نظام اور ہمارے قومی مفادات

بدلتا عالمی نظام اور ہمارے قومی مفادات

دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے، دنیا بدل گئی ہے۔گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی عظیم خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ تین براعظموں پر پھیلی ہوئی عظیم ریاست درجنوں ٹکڑوں میں بکھر گئی۔ یہ پہلی جنگ عظیم کا واقعہ ہے۔ اسی دور میں اعلان باالفور نے ریاست اسرائیل کے قیام کی راہیں ہموار کیں پھر دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ عظمیٰ کا بھرکس نکال دیا۔ جنگ کے بعد برطانیہ کی جگہ امریکہ عالمی منظر پر ابھرا۔ اشتراکی روس بھی اسی دور میں عظیم ریاست بنا۔ گزری صدی نے دو عظیم ریاستوں امریکہ و سوویت یونین کو جنم دیا۔ اسی صدی میں دو عظیم ریاستیں عثمانی و برطانوی عالمی منظر سے غائب ہو گئیں۔ تبدیلی نے کچھ مٹایا اور کچھ بنایا۔ اسی صدی اشتراکی ریاست بھی عظمت کے سنگھاسن سے گم ہو گئی تاہم امریکہ اپنی عظمت رفتہ برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔ چین ایک عظیم معیشت بن چکا ہے۔ اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب وہ امریکی معیشت سے بڑی معیشت بن چکا ہو گا۔ چین ایک حربی و ضربی طاقت بن چکا ہے۔ اس کا مظاہرہ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں نظر آیا تھا۔ چین لاریب ایک عظیم فنی و تکنیکی مشین ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کو پچھاڑ چکا ہے، اس کی حربی و ضربی طاقت بھی عظیم ہے۔ تبدیلی آرہی ہے، عالمی معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔
عالمی نظام، سرمایہ دارانہ نظام حکمرانی اپنا آپ دکھا کر سمٹ رہا ہے۔ ناکامی کا تاثر ابھر رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو جنگیں، بیماریاں، غربت و ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ سائنسی و فنی عظمت اور سہولیات بھی دی ہیں۔ سائنسی و فنی ایجادات اور اختراعات کے ساتھ انسان کی زندگی میں آرام و راحت کا سامان پیدا کیا ہے لیکن تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے باعث انسانی ایجادات و دریافتوں کے فیوض و ثمرات بہت سے انسانوں تک نہیں پہنچ سکے، اس لئے خطہ ارض خوشحالی سے ہمکنار نہیں ہو سکا۔ امریکہ اس عالمی نظام کا پیر و مرشد ہے، کپتان ہے۔ امریکی نظام حکمرانی پر صہیونی چھائے ہوئے ہیں۔ امریکی نظام زر اور صحافت پر صہیونیوں کی گرفت اب کوئی راز نہیں ہے۔ ایسے ہی عناصر کے امریکی نظام پر غلبے کے باعث دنیا پر جنگیں مسلط رہیں۔ دولت کی منصفانہ تقسیم نے غربت کو فروغ دیا۔ دولت مرتکز ہو کر چند ہاتھوں میں آگئی اور عظیم ایجادات اور اختراعات نے دنیا کے لئے فلاح و بہبود کی راہیں وا نہیں کیں پھر 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام نے عالمی امن کو تہہ و بالا کرنے میں مزید اضافہ کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اشتراکی نظام پہلے ہی عالمی سطح پر اپنا آپ دکھانے کے بعد فنا کی گھاٹ اتر چکا ہے۔ امریکہ و اسرائیل دنیا پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ امریکہ میں صہیونی لابی، اسرائیل کے لئے کام کرتی ہے۔ امریکی نظام کو صہیونی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عالم غرب شکنجہ بہبود میں ہے اور یہودی، صہیونی تحریک کے ذریعے اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں۔ ریاست اسرائیل کا قیام اسی صہیونی تحریک کی کامیابی ہے۔ عالمی حکمرانی کے ذریعے دنیا پر گرفت و غلبہ اسی صہیونی تحریک کے عزائم میں شامل ہے، اس کے لئے انہیں چاہے کچھ بھی کرنا پڑے وہ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ دوسری طرف چین ایک عظیم قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ عالمی معیشت میں اس کا اثر و رسوخ واضح ہو چکا ہے۔ ٹرمپ اب ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کہ کسی طرح عالمی تجارت پر امریکی اثر و رسوخ باقی رہے لیکن ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ چین حربی و ضربی شعبے میں بھی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جے ایف تھنڈر کی رافیل پر فتح اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چین آنے والے دنوں میں ایک عالمی قوت بن چکا ہو گا۔
اس کے حلیف رہے ہیں لیکن ہماری امریکہ سے دوستی بہت زیادہ اچھی اور خوشگوار یادیں لئے ہوئے نہیں ہے۔ ہم ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لئے نامزد کرنے کی سفارش بھی کرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ قابل بھروسہ حلیف نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو بالکل ہی قابل بھروسہ نہیں ہے۔ آج وہ ہماری تعریفوں کے ایسے پل باندھ رہا ہے جیسا وہ ماضی قریب میں بھارت اور اس کی مودی قیادت کے باندھتا تھا۔ کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ غزہ امن بورڈ میں ہماری شمولیت خطرات سے خالی نہیں ہے۔ ٹرمپ واضح طور پر اسرائیل کی صیہونی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ عظیم اسرائیل کے قیام کا حامی ہی نہیں بلکہ مددگار بھی ہے۔ ہماری امن بورڈ میں شرکت، ہمیں کسی ایسے کام پر مجبور کر سکتی ہے جو مجموعی طور پر فلسطینیوں کے مفاد میں نہ ہو پھر ہم کیا کریں گے۔ ٹرمپ کی مخالفت مول لینا ہمارے لئے شاید ممکن نہیں ہو گا۔ دوسری طرف چین ایک عظیم طاقت بن چکا ہے۔ ہم اس کے بھی حلیف ہیں۔ سٹریٹیجک پارٹنر ہیں، اس کے ساتھ ہماری دوستی کی روشن اور خوشگوار تاریخ ہے۔ چین پاکستان کا قابل بھروسہ ہی نہیں بلکہ آزمودہ حلیف اور دوست ہے۔ سی پیک منصوبے کے ذریعے ہم چین کے عالمی منصوبوں میں شراکت دار بن چکے ہیں۔ چین پاکستان کی تعمیر و ترقی اور بقا کا حامی ہی نہں بلکہ ضامن بھی ہے۔
دوسری طرف چین امریکہ کا حریف ہے۔ چین کی ترقی، عظمت اور بڑائی امریکہ کے لئے قابل برداشت نہیں ہے اور ہونی بھی نہیں چاہئے کیونکہ جوں جوں چین عالمی نظام میں اپنی جگہ بناتا جائے گا۔ امریکہ کی اہمیت میں کمی واقع ہوتی چلی جائے گی اور یہ کوئی فکری یا نظریاتی بات نہیں ہے بلکہ زمینی حقیقت ہے جسے دنیا کھلی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم چین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے معاملات چاہتے یا نا چاہتے ہوئے بھی چین کے ساتھ جڑتے چلے جا رہے ہیں۔ ہماری معیشت، ہمارا دفاع وضاحت کے ساتھ چین کے ساتھ جڑ چکا ہے لیکن عالمی معاملات میں ہم امریکی حلیف ہیں۔ ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان، ہمارے افسران حتیٰ کہ ہمارے شہری امریکی بننا پسند کرتے ہیں۔ امریکی حلیف ہونا باعث ثواب بھی جانتے ہیں۔ امریکی ویزہ بہت بڑی کامیابی اور سعادت سمجھی جاتی ہے۔ ہماری ثقافت و معاشرت پر بھی امریکی غلبہ نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں فکری و عملی تضادات کی موجودگی میں کیا ہم بدلتے ہوئے حالات میں قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں گے۔

ٹیگز: