اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے 10 جون کو پیش کیے جانے والے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جس میں عوام اور مختلف شعبوں کے لیے متبادل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، مہنگائی کے مارے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی اہم تجویز زیرِ غور ہے، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کو دستاویزی بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، برآمدات میں معاونت کے لیے برآمد کنندگان پر عائد 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس بھی ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دوسری جانب، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سولر پینلز اور ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی (GST) کو 18 فیصد تک بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے کلین انرجی اور ماحول دوست گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام ٹیکس اور ریلیف اقدامات کی حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف (IMF) کی گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بجٹ دستاویز کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔