Wed, September 16, 2026

آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کا امکان، افواج پاکستان کو مکمل تعاون حاصل ہوگا: وزیر خزانہ

آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کا امکان، افواج پاکستان کو مکمل تعاون حاصل ہوگا: وزیر خزانہ

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جب کہ افواجِ پاکستان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا کیونکہ یہ قومی سلامتی کا تقاضا ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فی الحال سول و ملٹری تنخواہوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم اس پر مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت نے آئی ایم ایف بورڈ میں پاکستان کے قرض پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، مگر پاکستان کا کیس مکمل میرٹ پر سنا گیا اور عالمی مالیاتی ادارے کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن پاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکا ہے، اور اب رواں ہفتے ورچوئل مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے تمام مالی و معاشی اہداف کامیابی سے حاصل کیے ہیں، جس سے معیشت میں اعتماد بحال ہوا ہے۔ ان کے مطابق، دنیا پاکستان کی معاشی بہتری کو تسلیم کر رہی ہے اور ملکی معیشت 400 ارب ڈالر کے حجم سے تجاوز کر چکی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ بجٹ کو صرف آمدن و اخراجات کی تفصیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک جامع اقتصادی منصوبہ بنایا جائے گا، جس میں اصلاحات، پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کی سمت واضح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو شفاف بنانے، ایف بی آر میں انسانی مداخلت کم کرنے اور پنشن اصلاحات پر بھی کام کر رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے اور ٹیکس جمع کرانے کا عمل آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ نجی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے سرکاری اداروں کی نجکاری اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں گہرائی سے اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں کمی کی توقع ہے، جس سے مالیاتی دباؤ میں بھی بہتری آئے گی۔

ٹیگز: