امریکی صدر ٹرمپ پریشان، ایرانی استقامت پر حیران، جنگ سے توبہ، ہاتھ اٹھا دئیے گھٹنے ٹیک دئیے، اپنے مشیروں کو بتایا کہ امریکہ ایران پر مزید حملے نہیں کرے گا، یعنی کھلے بندوں اعترافِ شکست، امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی جنگ ختم کرنے کی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور کر لی، ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے 4 ارکان ڈیمو کریٹس سے مل گئے اور بھی اِدھر اُدھر ہوئے ہوں گے۔ صدر کے اختیارات محدود، خلاف ورزی پر مواخذہ، ٹرمپ نے اس ہفتہ ایران سے معاہدے کی خوشخبری بھی سنائی لیکن ایران نے جنگ کو کھیل سمجھنے والے امریکی صدر کو ناقابلِ اعتبار، خائن بلکہ غدار قرار دے دیا۔ وجہ؟ حملے بھی سفارت کاری بھی، ایران نے تنگ آ کر رابطے ختم کر دئیے۔ امریکی صدر نے پھر اوکھلی میں سر دے دیا، معاہدے کی رٹ مگر شرائط کے ساتھ، ایران تحریری طور پر ایٹمی پیشرفت سے دستبرداری، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرے اور ہمیں اپنے افزودہ یورینیم کے ٹھکانوں سے آگاہ کرے، معاہدہ سر آنکھوں پر پرنالہ وہیں گرے گا۔ موساد کو ہدایت کہ موجودہ ایرانی قیادت کو بھی شہید کرے، دھمکیوں کے پیچھے خوف، سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیری جانس کے انکشاف نے خوفزدہ کر دیا کہ ایران نے یورینیم افزودگی کی شرح 3.2 سے بڑھا کر 60 فیصد کر دی۔ کسی وقت بھی ایٹمی دھماکہ کر سکتا ہے، اسی خوف کے مارے ناجائز پوتے نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔ پاگل کو سمجھاﺅ ورنہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی بند، تمہارے بیٹے کو امریکا سے نکال دوں گا سارے اثاثے منجمد کر دوں گا۔ اس نے کم بخت کو سمجھایا مگر پاگل امریکہ میں حزب اللہ اور امریکی حکام میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھنے پر بضد، ایران نے ٹرمپ کے تبدیل شدہ نکات مسترد کر دئیے، مشرقِ وسطیٰ اور عرب ممالک ابھی تک امریکی صدر کی ہوسِ ملک گیری اور گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں رنگ بھرنے کی خواہش میں بُری طرح متاثر ہیں۔
گھر کا احوال پریشان کن، پی ٹی آئی کی ہفتہ وار شرلیاں، الیکٹرانک میڈیا اور ویلاگز میں بانی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی کوششیں، ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی ”سیانے“ کی سیانی منطق، مشاہد حسین سید نے کس اعتماد سے کہا 2026 خان کی رہائی کا سال ہے، 22 نومبر 2024ءکو رہائی ہو چکی ہوتی لیکن نادان دوستوں نے 10 لاکھ عوام سڑکوں پر لانے کا دعویٰ کر کے بات بگاڑ دی، فیس بک پر ہر روز ان کی رہائی کی خبریں اور تصویریں جاری کی جاتی اور کمنٹس مانگے جاتے ہیں، ہر منگل کو علیمہ خان شو میں دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے، گوہر خان نے مقصد میں ناکامی پر نظام سے نکلنے کی دھمکی دے دی، نکل کر کیا کریں گے چھیڑ خوباں سے چلتی رہنی چاہیے، خان جیل میں خیریت سے اور ماشاءاللہ مزید بارہ سال خیریت سے رہیں گے، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خان سے ملاقاتیں نہ ہونے سے پریشان ہیں، صوبہ پولیس کے حوالے، خود ”بیٹھے ہیں رہگزر پر ہم“ گنگناتے ہوئے اڈیالہ کے پولیس ناکے پر دھرنا دئیے رہتے ہیں، خان کو دیکھے کتنا عرصہ بیت گیا، مشتاق دید اب تک ناکام، علیمہ خان نے بجٹ منظوری سے منع کر دیا۔ پہلے خان سے ڈسکس کرو پھر بجٹ پیش کرنا، علیمہ باجی ان دنوں گھر داری میں مصروف رہی ہوں گی جب خان نے اپنے دورِ حکومت میں نواز شریف سے بجٹ اور پارٹی معاملات پر مشاورت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ سزا یافتہ اور نااہل شخص سے مشاورت نہیں کی جا سکتی، سہیل آفریدی 35 سالہ نوجوان کھیلنے کودنے کے دن پارٹی کے پانچ دھڑوں میں پھنس کر رہ گیا، پتا نہیں کس کے مشورے پر 10 جون کو قومی اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کر دیا اوپر والے خان چیپٹر مکمل طور پر لا تعلق ”غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں“۔
آزاد کشمیر میں انتخابات 27 جولائی کو کرانے کے اعلان کے ساتھ ہی گزشتہ سال تشکیل پانے والی نام نہاد عوامی ایکشن کمیٹی کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑی ہوئی، عوام سے کوئی تعلق نہیں بھارتی ایجنڈے کے مطابق وادی کے حالات خراب کرنے کے لیے سرگرم، وفاقی اور مقامی حکومت نے سمجھانے کی لاکھ کوشش کی، سارے مطالبات منظور بجلی 3 یا 4 روپے یونٹ، کمرشل 15 روپے یونٹ دستیاب، آٹا سستا، طلبہ کو 64 کروڑ کے وظائف، مفت علاج کی سہولتیں اسمبلی میں کشمیر کاز سے مخلص لیڈر موجود، حالات پُرسکون، بیکری اور سٹیشنری والوں پر مشتمل عوامی ایکشن کمیٹی کو بدہضمی، روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر، ہنگامہ آرائی کو کچھ نہ ملا تو پاکستان میں موجود کشمیریوں کی 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبہ پر 9 جون کو وادی میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا، آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر فرسٹ شیڈول میں شامل کر دیا، 14 ہزار پولیس اور رینجرز وادی میں پہنچ گئے، مریدکے سانحہ یاد آ گیا، لگتا ہے اب کے بہت مار پڑے گی۔
وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کا اعلان، عوام 10 روز پہلے ہی سے غم سے نڈھال، اربوں کے ٹیکسوں کا امکان، سرکاری ملازمین حکومت کی ذمہ داری نہیں، سال بھر فاقوں پر گزارا کریں اور حکومت کو دعائیں دیں، دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس ان کا کہنا ہے پروا نہیں 25 ہزار ٹیکس دیں گے قیمتیں بڑھا کر 50 ہزار منافع کمائیں گے، تاجر صنعتکار سبھی غیر مطمئن، پٹرول مہنگا لیوی سے اور مہنگا، یہ لیوی لیوی کیا ہے لیوی ٹیکس نام کا ایک پرندہ ہے جس سے عوام کی جان چھوٹنا مشکل ہے۔ آئی ایم ایف کا شکریہ اس نے بجٹ تیاری میں مدد دے کر وزارتِ خزانہ کو کتنے جھنجھٹوں سے بچا لیا، عوام کو ریلیف دینے پر اس کا کہنا تھا ریلیف اور سبسڈی کے لیے پیسے کہاں سے لاو¿ گے ہمارے چنگل سے نکلو پھر ریلیف کے بارے میں سوچنا۔ وزیر اعظم نے تین سال پہلے پوری قوم کو سولر لگانے کی ترغیب دی تھی، لوگوں نے بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے زمینیں زیورات بیچ کر لاکھوں کے سولر پینل لگوا لیے، آئی ایم ایف کو بات پسند نہ آئی اس نے اپنے وزیر خزانہ سے کہہ کر سولر پر بھی 18 فیصد ٹیکس لگا دیا۔ شمسی توانائی پر ٹیکس جب سورج بجھے گا جس دن حشر بپا ہو گا اسی دن ٹیکس بھی ختم ہو گا، سولر پینل لگوانے والے بدستور بلوں سے پریشان، بجٹ سیشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی 28 ویں ترمیم کا شور دب گیا، ختم نہیں ہوا، صدر زرداری نرم بلاول بھٹو زرداری گرم، صوبے این ایف سی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، اتحادیوں میں اختلافات، بلاول ن لیگ والوں پر تیر برسانے کے بعد گلگت سے واپسی پر وزیر اعظم اور حکومتی ذمہ داروں (پی پی حکومت میں اتحادی، ذمہ داروں میں شامل نہیں) سے اختلافی معاملات طے کریں گے اس کے بعد ہی بجٹ پیش ہو گا، قوم دعا کرے دعا بہت سی بلاو¿ں کو ٹال دیتی ہے۔