Wed, September 16, 2026

آئی ایم ایف کی پاکستان کو سخت ٹیکس اصلاحات کی تجاویز، ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی سخت کرنے پر زور

آئی ایم ایف کی پاکستان کو سخت ٹیکس اصلاحات کی تجاویز، ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی سخت کرنے پر زور

اسلام آباد : بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو محصولات میں اضافے کے لیے مؤثر اور سخت ٹیکس اصلاحات پر عملدرآمد کی تجاویز دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ پوائنٹ آف سیل (POS) نظام کے تحت ٹیکس چوری پر موجودہ جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کیا جائے، جبکہ اس جرم پر فوجداری مقدمات قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس حکام کو زیادہ اختیارات دینے اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ٹیکس نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن فی الحال سرکاری اور عسکری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق، آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ سولر پینلز سمیت متعدد اشیاء پر دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے۔ اس کے علاوہ کھاد، زرعی ادویات اور مشینری پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

مزید یہ کہ مجوزہ بجٹ میں زرعی شعبے کے آلات اور دیگر ان پٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ لگژری اشیاء کی فہرست میں توسیع کرکے ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے بڑھانے کی سفارش بھی دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ تجاویز حکومتی محصولات میں اضافہ تو کریں گی، مگر ان سے مہنگائی کی نئی لہر بھی پیدا ہو سکتی ہے، جو عام آدمی کو متاثر کر سکتی ہے۔

 
 

ٹیگز: