کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہماری یادداشتیں اتنی کمزور کیوں ہیں ؟ ہم بدترین واقعات اور سلوک بھی بہت جلد بھول جاتے ہیں ۔اس میں صرف عوام ہی نہیں ہمارے اداروں کا کردار بھی ایسا ہی ہے ۔ ایک حوالے سے تو یہ بہتر انداز فکر ہے کہ ہم ماضی کو بھول کر آگے کی طرف سفر کریں لیکن بعض اوقات ماضی ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے سیاہ واقعات کی جزا سزا کا تعین کیے بغیر کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن شاید ہم جزا سزا میں بھی گڈ اور بیڈ کی تمیز رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایمنسٹی سکیم کی طرح ہر کچھ سال بعد ایک نظر آنے والا اور نہ آنے والا این ۔ آر ۔ او ٗ سیاستدانوں کی طرف اچھالنا پڑتا ہے۔ پاکستان دو متصاد ریاستوں کے درمیان پھنسی ہوئی ریاست ہے :ایک قائد اعظم کی 11 اگست 1947 ء کی پہلی تقریر جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی سے کی اور دوسرا قرارداد مقاصد ٗ افسوسناک تو یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے کسی کے ساتھ مخلص ہو کر آج تک کھڑے نہیں ہوئے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر حکمران اپنے فرسودہ خیالات کو من مرضی کا نیا رنگ دے کر عوام کو اُ س رنگ میں رنگنے کیلئے زور آزمائی شروع کردیتا ہے۔ سوشلزم سے لے کر ریاستِ مدینہ تک ٗ پاکستانی عوام نے ہر فریب کھایا ہے اور حالت یہ ہے کہ ہم آج بھی کشمکش کا شکار ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکمران اشرافیہ کا اگلا قدم کیا ہو گا ؟ گزشتہ تین سال میں پاکستان نے وہ سب کچھ دیکھا ہے جو اس سے پہلے اس ریاست کے باسیوں کی بصارت اور سماعت سے نہیں گزر ا تھا ۔ ایک طوفانِ بدتمیز تھا ٗگزرا اور بظاہر تھم گیا لیکن اپنے پیچھے جو تباہ کاریاں چھوڑ گیا ہے اُس کو درست کرنے میں ابھی بہت وقت لگے گا ۔
پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بھارت کے ساتھ حالتِ جنگ میں پاکستان کے اندر سے بھارتی بیانیے کی حمایت سامنے آئے ۔ علیمہ خان نے جنگ شروع ہوتے ساتھ ہی اُسے ’’نورا کُشتی ‘‘ قرار دے دیا ۔ جنگ کے دوران عمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ کو گرے ہوئے رافیل
طیاروں کا ملبہ اور بھارت میں ہونے والی تباہ کاری کی فوٹیج درکار تھی۔افواج پاکستان بارے نازیبا زبان استعمال کی جا رہی تھی۔ ایران اور اسرائیل کی جنگ میں جیش عمران نے اسرائیلی بیانیے کی حمایت کھل کر کی ٗ ایران پر امریکی حملے میں ٹرمپ کے ساتھ رشتے داری کے ثبوت ڈھونڈتے رہے اور اُسے ایران ٗ اسرائیل اور امریکہ کی ’’ساز بازی جنگ ‘‘قرار دیتے رہے ۔ جنگ پاکستان کی فتح پر ختم ہوئی اور بھارت کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنے کرنا پڑا ۔ ایران نے دنیا کے سامنے اسرائیل کوبرہنہ کرکے رکھ دیا اور دکھا دیا کہ اسرائیل ناقابل ِ تسخیر نہیں ۔ امریکہ بہادر کے دونوں بدمعاشوں ٗ بھارت اور اسرائیل کوامریکی مدد کی ضرورت پڑی اور دونوں نے ٹرمپ سے جنگ رکوانے میں مدد طلب کی جو انہیں مل بھی گئی۔ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی اور اب جنگ کا کوئی خطرہ نہیں پاکستانی وزیر اعظم معیشت کی بہتر ی کیلئے سرگرداں ہیں ٗ پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بحال ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ سینٹرل ایشیا تک جانے والی سڑکیں اس بار حملہ آوروں کے بجائے تجارت کی راہ ہموار کریں گی جس کے روشن امکانات نظر آ رہے ہیں ۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ’’ پہلی دفہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اکھٹے ہیں جن سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہے۔‘‘ یقینا یہ بات سمجھنے میں انتہائی سادہ ہے ۔ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی تو کیا اسرائیل اور بھارتی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرے گی ؟ 9 مئی کے مجرموں کو سزا دیئے بغیر آگے بڑھنے کا کوئی تصور ہی پاکستان کو پھر اُسی مقام پر لے جائے گا جہاں ہر پاکستانی شہری کے ہاتھ میں بجلی ٗ گیس اور پانی کے بل ہوں گے سو انتشاری ٹولہ ٗ پاکستان کی اتحادی صفوں سے یقینا نکال باہر کرنا ہو گا ۔ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے کہ جب عمران نیازی نے وزیر اعظم پاکستان کا حلف اٹھاتے ہوئے تین بار خاتم النبیین کی ادائیگی غلط کی ٗیقینا یہ کسی عہد کی پاسداری تھی لیکن مجھے یقین تھا کہ جو شخص رسول ؐ اللہ کے آخری نبی ہونے کا حلف نہیں دے رہا اُس کے حلف کو مکمل کیسے سمجھا جا سکتا ہے ؟ لیکن اُس وقت کے صدر مرحوم نے اس بات کو اہم نہیں جانا ۔عمران نیازی پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیر اعظم ہے جسے دو قومی نظریے کی بنیاد پربننے والے پاکستان میں رسول ؐ کے خاتم النبیین ہونے کا حلف نہ دینے کے باوجود ملک کا وزیر اعظم بنایا اور پاکستان کے کسی مذہبی سکالر نے اِس کو ایشو بنایا اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل نے اُس وقت اسے اہم جانا ۔ اب جو شخص رسول ؐ کے آخری نبی ہونے کا حلف دیئے بغیر وزیر اعظم بن سکتا ہے اُس نے کیا نہیں کیا ہو گا اور آپ ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ کسی سپریم کورٹ نے بھی اُس پر سو موٹو نہیں لیا حالانکہ اُس وقت کا چیف جسٹس ثاقب نثار معمولی واقعات کا بھی سوموٹو لے لیا کرتا تھا لیکن بعد کے حالات نے یہ بتایا کہ یہ سب تیر ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے تھے مگر اب ہمارے پاس تجربہ کرنے کا دوسرا موقع نہیں ہے ۔ پاکستانی قوم نے اکیسویں صدی میں بھارتی عزائم دیکھ لئے ہیں اور افواج پاکستان نے جس طرح اُس کا منہ توڑ جواب دیا ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا لیکن کیا ہمیں اپنی اور گردو نواح کی جنگوں نے کچھ نہیں سکھایا ؟ ایران میں پکڑی جانے والے جاسوسوں کی لاٹ کے بعد ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ تاریخ سب کو ایسے نادر مواقع فراہم نہیںکرتی ۔ سو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ریاست دشمن افراد کے خلاف ایک مہم فتنہ اسرائیل ملک میں چلانے کی بھی ضرورت ہے ورنہ کچھ بعید نہیں جو چھپے دشمن آج باہر نہیں نکل سکے وہ کبھی نہیں نکل سکیں گے ۔پاکستان کی وفاقی ٗ صوبائی حکومتوں اور سینٹ کی بڑھنے والی تنخواہیں 30 ہزار روپے مہینہ لینے والے کے دل و دماغ میں آپ کیلئے نفرت پیدا کررہی ہے سو خدارا اس خزانے کو لا ولد کا خزانہ سمجھ کر بھوکے ننگے عوام کے سامنے گلچھڑے نہ اڑائیں کہ لوگ کسی ایجنڈے پر اکھٹے نہ بھی ہوں تو اپنے دکھوں کیلئے انارکی کیلئے باہر نکل آتے ہیں ۔ وہ جھوٹے وعدے جو عمران نیازی نے پاکستانی عوام سے کیے تھے اگر آپ سچ کرکے عوام کے سامنے رکھ دیں گے تو پاکستان میں شاید عمران نیازی کی فیملی بھی اُس کی رہائی کا مطالبہ نہیں کرے گی لیکن اگر آپ اُس سے بھی زیادہ گئے گزرے ثابت ہوئے تو پھر عمران نیازی جیل میں ہو یا باہر اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔