تعلیم کے بغیر معاشرے ذہنی اپاہج، معاشی و سماجی ترقی میں دنیا سے پیچھے رہتے ہیں جبکہ ایسے معاشروں کی شعوری سطح بھی کوئی خاص بلند نہیں ہوتی۔پاکستان میں آج ہم جس انتہا پسندی ،فرقہ واریت دہشت گردی کا شکار اور تحمل سے عاری معاشرہ بن چکے ہیں اس کی بھی بنیادی وجہ معیاری تعلیم کا نہ ہو نا ہے ہمارے ہاں حکومتی کھاتوں میں ملک بھر میں لاکھوں سکول موجود ہیں اور وہاں درس و تدریس کا عمل بھی جاری بتایا جاتا ہے لیکن عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں سکولوں سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس پر دنیا بھر میں واویلا مچایا جاتا ہے اور دنیا میں تعلیمی معیار کے حوالے سے ہم پیچھے رہتے نظرآتے ہیں۔ ہمارے اخبارات سے لیکر چینلز پر تعلیم کے فروغ کے دعووں پر مبنی اشتہارات کی بھر مار ہے جبکہ ٹی وی پروگراموں میں تعلیم کے لئے کوئی وقت مقرر ہے اور نہ اخبارات کے صفحات میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوئی کوشش نظر آتی ہے۔ پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ پانچ سے سولہ سال کے عمر تک کے بچوں کی ”مفت اور لازمی“ تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے ۔اب جبکہ تعلیم اور صحت جیسے شعبے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری قرار پاچکے ہیں لیکن چاروں صوبوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے جن اقدامات کا اٹھایا جانا ضروری تھا ہمارے قدم اس جانب اٹھتے دکھائی نہیں دے رہے۔ گو کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں نے مفت اور لازمی تعلیم کا ایکٹ منظور کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود کتنے بچے سکولوں کے باہر زندگی گزار رہے اس سوال پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ اور سکولوں سے باہر بچوں کی زندگیاں کیسے گزرتی ہیں اگر ان کا نظارہ کرنا ہو تو درباروں کے ارد گرد جا کر دیکھا جاسکتا ہے جہاں یہ بچے کس طرح ہوس زر کے پجاریوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی معصومیت کھو کر منشیات اور جرائم میں ملوث کئے جاتے ہیں ۔سڑکوں پر پھرنے اور لاوارث بچوں کی حفاظت پر مامور ادارے پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو اس ضمن میں اچھا کردار ادا کر رہا ہے کہ وہ ایسے بچوں کو اپنی تحویل میں لیکر انہیں ان کے والدین تک بھی پہنچاتا ہے اور بے یارو مدگار بچوں کو بحالی مراکز میں رکھا جاتا ہے۔
ہماری مذہبی و سیاسی جماعتوں کی بھی ترجیح عوام
اور ان کے مسائل نہیں ہےں ایک طبقہ آخرت سنوارنے میں مشغول ہے تو دوسرا دنیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے اعمال پر نظر دوڑانے اپنی کوتاہیوں، غلطیوں اور نااہلیوں کو دور کرنے کی بجائے اسے اغیار کی سازشیں قرار دینے سے بھی فہرست نہیں ایسی سوچ کے حامل معاشرے جہالت پسماندگی غربت اور بے سکونی سے کیسے باہر نکل سکتے ہیں؟ اب یہ ہی دیکھ لیجیے تعلیم کے میدان میں ہماری کار کردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں حالانکہ دستور پاکستان کی رو سے ریاست اس بات کی پابند ہے کہ اپنے ملک کے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کابندو بست ہی نہ کرے بلکہ انہیں سازگار ماحول بھی فراہم کرے، ہم ابھی تک ان وجوہات کا کھوج بھی نہیں لگا سکے جن کی بنا پر بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ہم نے تعلیم کو عام تو کیا کرنا تھا غریب بچوں تک پہنچ سکے اس کے لئے بھی کوئی مثبت کوششیں ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ تعلیم کے فروغ اور ہر بچے کی پہنچ تک پہنچانے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں غیر سرکاری تنظیموں، اداروں اور افراد کا بڑا ہاتھ ہے جو اپنے سرمائے اور وسائل سے پاکستان کے ہر بچے تک تعلیم پہنچانا چاہتے ہیں ۔ دستور کے مطابق مفت تعلیم ہر بچے کا حق ہے جس کے لئے حکومت کو اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں تا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے ۔حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو آسانیاں پیدا کر نے کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرے تا کہ پاکستانی بچوں کو زیادہ سے زیادہ علم کی روشنی مہیا ہو سکے۔
دوسری جانب تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مقریرین مفت تعلیم اور پاکستان میں تعلیم کی صورت حال پر مفصل روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ، ، مقررین جہاں غربت کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب والدین اور ریاست کا طرز عمل بھی زیر بحث آتا ہے کیونکہ مفت اور لازمی تعلیم بہر حال حکومت کی ہی ذمہ داری ہے جسے اسے ادا کرنا چا ہیے۔ ملک میں تعلیمی اداروں کی کمی کا رونا بھی رویا جاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ میٹرک کے انتخابات میںجو طالبعلم پاس ہوتے ہیں ان کے لئے پنجاب بھر کے سرکاری کالجز میں داخلے کی سہولتیں ناکافی ہیں اور مجبوراً لاکھوں طلبا کو پرائیویٹ کالجز میں داخلہ لینا پڑتا ہے لیکن لاکھوں طلبا ایسے بھی ہوتے ہیںجو پرائیویٹ کالجز کی فیسں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے غربت جن کا اوڑھنا بچھونا ہے وہ میٹر ک کے آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے حکومت کو اس ضمن میں فوری توجہ دینے کی ضروت ہے۔ مقررین حکومت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت سرکاری سکولوں اور کالجز کی تعداد میں اضافے کے لئے فوری اقدامات کرے تا کہ پاکستان روشنی کے سفر پر گامزن ہو کر اپنے تعلیمی اہداف حاصل کر سکے،، اگر حکومت نے اس ضمن میں اپنا ریاستی کردار ادا نہ کیا تو تعلیم کی شرح میں اضافے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا اور بچوں کو ہر حال میں سکول میں داخل کرنے جیسی مہمات دم اس لئے توڑ جائیں گی کہ اگر سارے بچے سکولوں میں داخل ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے تو سکولز کی عمارتیں ہی موجود نہیں اس لئے حکومت کو سب سے پہلے سکول اور کالجز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے۔ اس موقع پر پرائیویٹ سکولوں کے نمائندوں نے کہا کہ اس وقت نجی تعلیمی ادارے 48 فیصد طلبا کا بوجھ اٹھا کر حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اس لیے حکومت کو نجی تعلیمی اداروں پر غیر ضروری ٹیکسز ختم اور سہولتیں فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ حکومت کا دست و بازو بن سکیں۔ میڈیا کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اس سے جڑے ہوئے مسائل کو ہائی لائٹ کرنا چاہیے، میڈیا پرسن کو تعلیم اور صحت کی بہتری کے لئے قومی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ کالم نگاروں ، اینکرز، فیچرز رائٹر ، میگزین ایڈیٹر اور رپورٹر کو فیکٹ اینڈ فگر پر مبنی جامع رپورٹ بنا کر دینی چاہیے تا کہ وہ ان رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کالمز ،فیچرز، پروگرام اور خبروں میں ان کا ذکر کر سکیں جس کا مقصد تعلیم بارے آگاہی پھیلانا ہو۔ جن ممالک نے انسانی ترقی کو اپنا نصب العین بنایا ہے ان کی شرح خواندگی خود ہی بہتر ہونا شروع ہو گئی ،ناخواندہ قومیں نہ ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ملک خوشحال ہوسکتے ہیں۔
آخری بات پروفیشنل تعلیم کے حوالے سے بھی ہم بہت پیچھے ہیں اس ضمن میں حکومت کو کوئی جامع پالیسی بنانی چاہیے تا کہ معیاری پروفیشنل اور فنی تعلیم ان بچوں کو مل سکے جو میٹرک اور ایف اے کے بعد آگے نہیں پڑھ سکتے تاکہ یہ بچے معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔