Wed, September 16, 2026

'سینٹرل انڈکشن' نے میرٹ اور میڈیکل کالجز دونوں کو تباہ کر دیا، پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان

'سینٹرل انڈکشن' نے میرٹ اور میڈیکل کالجز دونوں کو تباہ کر دیا، پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان

لاہور : صدر پامی (PAMI) پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے میڈیکل سیکٹر کے لیے "مصنوعی کرائسز" قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک میں نجی میڈیکل کالجز کا وجود ختم ہو جائے گا۔ پی ایم ڈی سی انفراسٹرکچر دیکھ کر کوٹہ الاٹ کرتی ہے، مگر حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث میڈیکل کالجز میں سیٹیں خالی رہ رہی ہیں۔ ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے سوال کیا، "کیا سیٹیں خالی رہنا جرم نہیں؟ دو سال پہلے تک یہ تمام نشستیں پُر ہوتی تھیں۔
    صدر پامی نے کہا کہ 1 لاکھ 32 ہزار امیدواروں میں سے صرف 19 ہزار کو ایڈجسٹ کیا گیا، باقی 1 لاکھ سے زائد بچے کہاں گئے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف ایس سی اور ایم ڈی کیٹ کے دوہرے معیار کے بجائے ایک ہی کریٹیریا پر طالب علم کو جانچا جائے۔  ملک میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی شدید قلت کے باوجود ہر سال 7 ہزار طالب علم بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔ سینٹرل انڈکشن نے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔ پروفیسرڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے واضح کیا کہ نجی کالجز کی زائد فیسوں کا تاثر محض پروپیگنڈا ہے، اصل مسئلہ "کوالٹی سٹینڈرڈ" کے نام پر اداروں کو بلیک میل کرنا اور انتظامی طور پر لاہور سے سرگودھا تک خوار کرنا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا، "حکومت سے سرکاری کالجز نہیں چل رہے اور وہ نجی کالجز کو بھی تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر صحت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ     سینٹرل انڈکشن پالیسی کو فوری تبدیل کیا جائے۔    ہیلتھ ریفارمز کمیٹی پامی کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرے۔    میڈیا میڈیکل کالجز کی زبان اور آنکھ بن کر حقائق سرکار تک پہنچائے۔

ٹیگز: