پاکستان میں سردی کا موسم کوئی نیا موضوع نہیں ہے بلکہ یہ زمین اس موسم کو صدیوں سے جانتی اور اس کی شدتوں کو نبھاتی چلی رہی ہے۔ دسمبر اور جنوری ہمیشہ اپنے ساتھ دھند، کہر، ٹھنڈی ہوائیں اور لمبی راتیں لاتے ہیں تاہم ہر طبقے کے لیے اس کا رویہ یا خوف الگ الگ ہے۔ کہیں لحاف کی گرمی، چولہے پر ابلتی چائے یا سوپ، صبح کی خاموش فضا، مزے مزے کے پکوان اور کہیں بوسیدہ چھتوں اور دیواروں میں آباد غیر محفوظ خاندانوں کے لیے شکایتوں سے بھرپور دن اور راتیں، سب کچھ معمول کا حصہ تھا اور ابھی بھی ہے مگر اب سردی ایک موسم نہیں رہی بلکہ ایک خوف میں بدل چکی ہے جو جسم سے زیادہ ذہن پر حملہ کرتا ہے۔رواں موسمِ سرما جو اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے میں جب جب سوشل میڈیا کھولا مجھے اس میں موسم کی خبر کم، وارننگ زیادہ نظر آئی۔ ہر شخص ماہرِ موسمیات بنا ہوا دکھائی دیا۔ تاریخ کی بدترین سردی، سب سے خطرناک کولڈ ویو، زندگی منجمد ہو جانے کے دعوے، گھروں سے نکلنے پر موت کے اندیشے۔ یہ اطلاع نہیں بلکہ ڈراؤنی کہانیاں تھیں۔ الفاظ میں ذمہ داری نہیں بلکہ سنسنی خیزی چھپی ہوئی تھی۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انہی دنوں محکمہ موسمیات مسلسل وضاحتیں بھی کرتا رہا کہ سردی معمول کے مطابق ہے۔ کہیں کہیں بارش اور برفباری ہو رہی ہے، درجہ حرارت موسمی پیٹرن کے اندر ہے، کسی غیر معمولی آفت کی پیش گوئی نہیں ہے مگر یہ بات شور میں دب گئی اور حسبِ سابق جھوٹ وائرل ہوتا چلا گیا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کب سے خوف کو خبر سمجھنے لگے؟پاکستان میں موسم اب ایک کانٹینٹ انڈسٹری بن چکا ہے۔ یوٹیوب پر سنسنی خیز تھمب نیلز، فیس بک پر جذباتی سرخیاں، واٹس ایپ پر بغیر حوالے کے فارورڈز۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جتنا خوفناک جملہ ہو گا، اتنی ہی زیادہ توجہ ملے گی۔ جتنا قیامت خیز انداز ہو گا، اتنی ہی زیادہ کمائی ہوگی۔ اس دوڑ میں تحقیق غیر ضروری ہو چکی ہے اور ذمہ داری بوجھ بن گئی ہے۔ سچ اب اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا خوف جبکہ اس ڈس انفارمیشن کا سب سے بڑا شکار
عام آدمی ہے۔ وہ شخص جس کے پاس نہ ہیٹر ہے، نہ مناسب گرم کپڑے، نہ متبادل وسائل۔ جب اسے دن رات بتایا جاتا ہے کہ حالات جان لیوا ہیں تو وہ موسم سے نہیں، خبر سے ڈرنے لگتا ہے۔ بزرگ غیر ضروری خوف میں گھروں میں بند ہو جاتے ہیں، مریض اپنی حالت کو ہر وڈیو اور ہر پوسٹ سے جوڑنے لگتے ہیں اور غریب آدمی ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ اب صرف نفسیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک اجتماعی سماجی مسئلہ بن چکا ہے جو خاموشی سے پھیل رہا ہے۔
ہم نے موسم کی خبر اور موسمیاتی تبدیلی کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ، سائنسی اور طویل المدتی بحران ہے۔ اس کے اثرات حقیقی ،خطرناک اور ناقابلِ تردید ہیں۔ مگر جب ہر عام سردی کو قیامت بنا کر پیش کیا جائے تو اصل خطرہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔جب ہر موسم آفت ہو تو کوئی موسم آفت نہیں رہتا۔ یہی ماحولیاتی ڈس انفارمیشن کا سب سے بڑا نقصان ہے جو شعور نہیں بڑھاتی بلکہ کنفیوڑن پیدا کرتی ہے۔ یہ تیاری نہیں سکھاتی بلکہ خوف پھیلاتی ہے۔آج سردی کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا، کل ہیٹ ویو کو یا تو جھٹلایا جائے گا یا اسی طرح سنسنی میں لپیٹا جائے گا۔ پرسوں اسموگ کو بس دھند کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جب کوئی حقیقی بحران آئے گا تو عوام کے پاس نہ اعتماد ہوگا، نہ درست معلومات، نہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نقصان صرف موسم کا نہیں رہتا بلکہ نظام کا ہو جاتا ہے اور ہاں، ایک مکمل سچ یہ بھی ہے کہ ریاست یہاں مکمل طور پر بری نہیں ہو سکتی۔ سرکاری ادارے بولتے ہیں مگر اکثر دیر سے بولتے ہیں۔ کبھی پیچیدہ زبان میں بولتے ہیں، کبھی اتنے محتاط ہوتے ہیں کہ ان کی بات عام آدمی تک پہنچتی ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سچ وقت پر، سادہ انداز میں اور مسلسل نہ بتایا جائے تو خلا پیدا ہوتا ہے اور اس خلا میں ہمیشہ جھوٹ اترتا ہے۔ یہ خاموشی غیر ارادی ہو سکتی ہے مگر اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔
میڈیا بھی اس ذمہ داری سے آزاد نہیں ہے۔ ریٹنگ اور ویوز کی دوڑ نے خبر کو تماشہ بنا دیا ہے۔ اسکرین پر چلتے بڑے بڑے جملے خوف پھیلاتے ہیں مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس حد تک واقعی احتیاط کی ضرورت ہے اور کہاں رک جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا کا کام صرف دکھانا ہے یا سمجھانا بھی؟یہ کالم سردی یا اس کی شدت سے انکار کے لیے نہیں ہے بلکہ میں یہ کالم اندھا یقین کرنے کے خلاف لکھ رہی ہوں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ ہر وڈیو رپورٹ نہیں ہوتی، ہر فارورڈ میسج سچ نہیں ہوتا اور ہر دعویٰ حقیقت نہیں ہوتا۔ موسم کا سامنا گرم کپڑوں سے کیا جا سکتا ہے مگر ڈس انفارمیشن کا مقابلہ صرف شعور سے ہوتا ہے۔پاکستان کو اس وقت سردی سے زیادہ سچ کی ضرورت ہے۔ ایسی معلومات کی جو خوف نہ پھیلائیں بلکہ سمجھ پیدا کریں۔ ایسی آوازوں کی جو سنسنی کے بجائے ذمہ داری کو ترجیح دیں۔ کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ موسم بدل رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا چھوڑ دیا ہے اور جب ایک معاشرہ یہ فرق بھول جائے تو پھر ہر موسم اسے منجمد کر دیتا ہے۔
اگر ہم نے اس رویّے کو نہ بدلا، اگر ہم نے خبر اور خوف میں فرق کرنا نہ سیکھا، اگر ریاست نے بروقت، سادہ اور مسلسل بات کرنے کی ذمہ داری نہ لی اور اگر میڈیا نے سنسنی کو خبر پر ترجیح دینا نہ چھوڑی تو پھر اس کے نتائج کسی ایک موسم تک محدود نہیں رہیں گے۔ پھر ہر سردی، ہر گرمی، ہر بارش اور ہر دھند ہمارے لیے بحران بنتی چلی جائے گی۔ ہم ہر سال کسی نئے خوف کے ساتھ جینا سیکھتے جائیں گے۔ یہ سوال اب صرف موسم کا نہیں رہا، یہ اجتماعی شعور کا سوال ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم معلومات چاہتے ہیں یا افواہیں، آگاہی چاہتے ہیں یا سنسنی، سچ چاہتے ہیں یا وہ جھوٹ جو وقتی طور پر ہمیں چونکا دے مگر طویل مدت میں ہمیں کمزور کر دے۔ کیونکہ موسم اپنا راستہ خود بناتے ہیں مگر معاشرے اپنے فیصلوں سے بنتے اور بگڑتے ہیں اور اگر ہم نے اب بھی سچ کو سننے، سمجھنے اور ماننے کی عادت نہ ڈالی تو پھر ہر آنے والا موسم ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ اصل شدت تو ہمارے رویّوں میں اتر چکی ہے۔