اسلام آباد : پاکستان ایک بار پھر بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے لا رہا ہے، مگر عالمی برادری کی خاموشی تشویشناک ہے۔ یہ خاموشی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان نے کئی مواقع پر بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی، خاص طور پر بلوچستان میں، کے شواہد عالمی اداروں کو دیے۔ 2009 میں شرم الشیخ کانفرنس، 2010 میں وکی لیکس، اور پھر 2015، 2019 اور 2023 میں اقوام متحدہ کو پیش کیے گئے ڈوزیئرز اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت ریاستی سطح پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہے۔
کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعتراف، گلزار امام شمبے اور سرفراز بنگلزئی جیسے افراد کی گواہیاں، اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ بریفنگ میں پیش کیے گئے ثبوت سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت کی ان کارروائیوں پر عالمی برادری کی خاموشی سے لگتا ہے کہ یا تو آنکھیں بند کی جا رہی ہیں، یا جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ دنیا اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچے اور بھارت کو اس کے اقدامات کا جواب دے، تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔