لاہور: پاکستان کے بیشتر علاقے اس وقت خشک سردی کی شدت کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں موسمی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پچھلے ماہ نومبر میں بارشوں کی کمی 72 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جس سے خشک سالی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ موسمی ماڈلز اس بات پر متفق ہیں کہ 18 سے 20 دسمبر 2025 کے دوران ایک مغربی سلسلہ پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے، جس سے ملک بھر میں اچھی بارشوں کا امکان ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ طویل المدتی پیشگوئی ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ "ہم موسمیاتی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں گے۔"
دوسری جانب، بلوچستان میں خشک سالی کی شدت بڑھ گئی ہے، جس پر محکمہ موسمیات نے پری الرٹ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں بارشوں کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور وہاں خشک سالی کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، مئی تا نومبر 2025 تک مغربی اور جنوب مغربی بلوچستان میں بارشوں کی کمی نے خشک دنوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 تک ان متاثرہ علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے اور بارشوں کی کمی کا امکان ہے۔