Wed, September 16, 2026

صدر آصف علی زرداری کا بھارت کے رویے پر اظہارِ تشویش، جنوبی ایشیا میں تعاون کی اہمیت پر زور

صدر آصف علی زرداری کا بھارت کے رویے پر اظہارِ تشویش، جنوبی ایشیا میں تعاون کی اہمیت پر زور

اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کا رویہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، اور اگر ممالک باہمی احترام اور تعاون کے اصولوں پر عمل کریں تو خطہ زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

سارک چارٹر ڈے کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر زرداری نے جنوبی ایشیائی ممالک کو اس اہم دن کی مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان نے سارک کے چوتھے اور بارہویں سربراہ اجلاس کی کامیابی سے میزبانی کی، لیکن 2016 میں بھارت کی غیر حاضری کی وجہ سے 19 واں اجلاس ملتوی ہو گیا تھا۔

صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ گیارہ سالوں سے سارک کا عمل جمود کا شکار ہے، اور بھارت کا رویہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس صورت حال نے خطے کی ترقی اور امن کو غیر ضروری طور پر تعطل کا شکار کر دیا ہے، جس کے باعث سارک کے متبادل نئے علاقائی تعاون کے فریم ورک پر غور بڑھ رہا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ ایران اور چین کی شمولیت سے جنوبی ایشیا میں رابطوں میں مزید اضافہ ہو گا اور پاکستان تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں روابط کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل مشترکہ ہیں، اس لیے ان کا حل بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ صدر زرداری نے یہ واضح کیا کہ باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے خطے میں امن و خوشحالی ممکن ہے۔

ٹیگز: