اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے افسوسناک واقعے کے بعد بھارت کے جارحانہ رویے اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی مسلح افواج کے ساتھ متحد ہے اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک تھے۔ اس موقع پر بھارت کے جارحانہ رویے اور مبینہ جارحیت پر پاکستان کے ممکنہ ردعمل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، جب کہ موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال اور کشیدگی پر بھی بات چیت کی گئی۔
ایوان صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی قیادت کے بغیر کسی تحقیق کے الزامات پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر انسانی اور معاشی نقصانات ہوئے ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کی معاونت اور ان کے تربیتی کیمپوں کا نوٹس لیا جائے۔
صدر آصف علی زرداری نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کے جواب میں پاکستان کے ذمہ دارانہ ردعمل کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرے گا۔
ملاقات کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کبھی بھی اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر اور فوری جواب دے گا۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی رویے سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج ہر نوع کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 26 سیاح جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا جواب دیتے ہوئے تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی اور فضائی حدود سمیت سرحدی آمد و رفت اور تجارت بند کرنے کا عندیہ دیا تھا۔