لاہور : پنجاب کے ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک قوانین کے تحت بھاری جرمانوں کے خلاف آج سے پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی ہے۔ اس ہڑتال کے نتیجے میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بس اڈے بند ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شیرا کوٹ بند روڈ پر کئی بس اڈے اور بکنگ آفس بھی بند ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث اشیاء کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے مارکیٹوں میں دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تاہم، کچھ بس اڈے جزوی طور پر کھلے ہیں، مگر مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ سروسز متاثر ہو چکی ہیں۔
پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹریفک آرڈیننس 2025 واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے آرڈیننس کے ذریعے ٹرانسپورٹرز پر بے حد بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جو ان کے لیے ناقابل قبول ہیں۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ جب تک یہ آرڈیننس واپس نہیں لیا جاتا، پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ، منی مزدا، لوڈرز اور رکشے بھی ہڑتال میں شامل رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیورز پر جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں مجرم بنا دیا گیا ہے، جبکہ پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس 12 ہزار روپے تک بڑھا دی گئی ہے، جو باقی ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
دوسری جانب، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہذب ممالک میں ہڑتالیں نہیں، بلکہ قانون کی حمایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول کے بچوں کی حفاظت پر کسی قسم کی بلیک میلنگ نہیں کی جائے گی اور قانون پر عمل درآمد کے سوا کوئی اور چوائس نہیں۔
مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہو چکا ہے، اور اب دونوں طرف سے مذاکرات کا اگلا دور آج دوپہر 2 بجے متوقع ہے۔