ان دنوںسوشل میڈیا ،اخبارات اور نیوز چینلوں سے لے کر گلی محلوں، چوک چوراہوں، چوپالوں اور ڈرائنگ روموں تک تقریباً ہر جگہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کا بڑے زور شور سے ذکر ہو رہا ہے جس میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوج مخالف بیانیہ بنانے اور پھیلانے پر براہ راست نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس پریس کانفرنس کو لے کرجتنے منہ اتنی باتیں بلکہ جیسے منہ ویسی باتیں۔ ہر کوئی اپنی عقل و شعور اور فہم و ادراک کے مطابق اخباری کالموں، ٹاک شوز، دفتروں اور گلیوں بازاروں میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ ملکی معاملات کے حوالے سے سوچنا اور اپنی ایک الگ رائے رکھنا یقینا ہر شخص کا بنیادی حق ہے حتیٰ کہ مراد سعید، عمران ریاض، شہباز گل، شہزاد اکبر اور عادل راجہ جیسے بیمار ذہنوں اور بھگوڑوں کو بھی بادل نخواستہ یہ حق دیا جا سکتا ہے مگر ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف رائے رکھنا اور پھر اس ملک دشمن رائے سے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرناکسی صورت قابل برداشت نہیں ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک پڑھے لکھے، سمجھدار، عقل مند محب وطن اور ایک بیمار سوچ کے حامل ذہنی مریض کی رائے یکساں اہمیت کی حامل نہیں ہو سکتی۔ مگر پریشان کن بات یہ ہے کہ اپنی جہالت یا ملک دشمن قوتوں کے ایما پر ملکی سلامتی کے اہم اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر کیے جانے والے مذموم اور زہریلے پراپیگنڈے کے زیر اثر ایک مخصوص جماعت اور اُن کے بیانیہ سے متاثر چند بیوقوف اور نااہل یہ چاہتے ہیں کہ وطنِ عزیز کو کلی طور پر اُن کی مرضی و منشا کے مطابق چلایا جائے خواہ اس کا نتیجہ خدانخواستہ کتنا ہی بھیانک اور غلط کیوں نہ نکلے۔ اس حوالے سے میں پہلے بھی اپنے کالموں میں متعدد بار ذکر کر چکا ہوں کہ مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے باقاعدہ ایک نظام ہوتا ہے جو کسی ایک شخص، جتھے، گروہ یا جماعت کی خواہشات کے تابع نہیں ہوتا۔ کوئی شخص، گروہ یا جماعت خواہ کتنی ہی مقبول نہ ہو اس کے لیے ملک کی سلامتی کو دائو پر نہیں لگایا جا سکتا۔ تاریخ سے ایسے بے شمار ’’ہینڈ سم‘‘ اور عوامی مقبولیت کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد ’’لاڈلوں‘‘ کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو اپنے اپنے وقت میں خود کو اپنے ملک کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے مگر آج کوئی اُن کا نام لیوا نہیں ہے۔ ہمیشہ انہی ممالک اور قوموں نے ترقی کی ہے جنہوں نے ملک کے لیے بنائے گئے نظام کی پاسداری اور ملکی اداروں کا احترام کیا ہے۔ اب تو یہ بات روز روشن کی طرح سامنے ہے کہ چند لوگوں نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ’’عمرانی فتنے‘‘ میں ہوا بھری تھی جو اپنی نالائقیوں اور جہالتوں کے سبب بُری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ ناکام اور ملک کی سلامتی کے لیے سکیورٹی رسک ’’پراجیکٹ‘‘ اور اسے لانچ کرنے والے سبھی کردار اب بُری طرح قانون کی گرفت میں ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ دیر آید درست آید اس لیے کہ ہر کام کا ایک وقت اور اس کا مقررہ طریقہ کار ہوتا ہے۔ عمرانی فتنہ اپنی حماقتوں کے سبب جب سے اقتدار سے باہر اور اپنی کارستانیوں کے سبب قانون کے شکنجے میں آیا ہے۔ تب سے یہ شریر ٹولہ ملک دشمن قوتوں کے ایما اور تعاون سے ملک کے سکیورٹی اداروں کے خلاف مسلسل ایک شر انگیز پراپیگنڈہ کر کے عوام اور ان اداروں کے مابین دراڑ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ جس کو بے نقاب کرنے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گذشتہ روز راولپنڈی میں ثبوتوں کے ساتھ ایک دھواں دار پریس کانفرنس کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان کا بیانیہ اب سیاست کے دائرے سے نکل کر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’فوج پر تنقید کرنے والے افراد خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور ان کا مقصد ریاست کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے جو ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ اپنی ذات کا قیدی ایک شخص اور اس کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ایک شخص کی خواہشات
اس حد تک بڑھ چکی ہیں وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں۔ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ اس ذہنی مریض اور بھارت کا مقصد ایک ہے۔ عوام کو افواج پاکستان کیخلاف بھڑکانے کی اجازت نہیں دینگے۔ کسی کا باپ بھی پاک فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا۔ پاکستان میں اب جھوٹ اور فریب کا کاروبار مزید نہیں چلے گا۔ ریاست کی سلامتی کیخلاف بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آپ کچھ لوگوں کو ضرور بیوقوف بنا سکتے ہیں مگر آپ ہر وقت پوری قوم کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات، سیاست اس ملک کے تحفظ، ریاست اور عوام کے جان و مال اور عزت سے بڑی ہے تو وہ غلط سمجھتا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انہوں نے عوام کو بتایا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، کیا ملک ڈیفالٹ کر گیا؟۔ انہوں یہ بھی بتایا تھا کہ فوج لڑ نہیں سکتی صرف سیاست کرتی ہے، تو بھارتی جارحیت کے خلاف فوج لڑی یا نہیں لڑی اور لڑ کر دکھایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا جو کہ ایسی باتیں جو کرتے ہیں ان کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ کتا جب بھونک رہا ہوتا ہے تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کی افواج نے ہمیشہ ملک کے مفادات کی حفاظت کی ہے۔ ان کے کردار کو سمجھنا اور ان کی حمایت کرنا، قومی یکجہتی اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرنا نہ صرف افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کا فرض بھی ہے‘‘۔ تاریخ گواہ ہے کہ بلاشبہ افواج پاکستان نے ملک کی تعمیر و ترقی ،استحکام اور سلامتی کے لیے ہمیشہ ایک لازوال کردار ادا کیا ہے جس کا ایک عالم معترف ہے۔ پاکستان کی افواج نے ہمیشہ ملکی سلامتی کو ترجیح دی ہے۔ افواج پاکستان کے جوانوں کے عزم اور قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن برقرار ہے۔ افواج پاکستان کے خلاف مذموم پراپیگنڈے سے خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی داخلی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس خطرے سے نپٹنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن بھونکنے والے کتوں جن کی بابت نے ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ کہا ہے کہ ’’ کتا جب بھونک رہا ہوتا ہے تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘‘ پوری قوم ایک جان ہوکراپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔