Wed, September 16, 2026

آپریشن ایپک فیوری میں تاریخی کامیابیاں، امریکی وزیر دفاع اور جنرل کی میڈیا سے گفتگو

آپریشن ایپک فیوری میں تاریخی کامیابیاں، امریکی وزیر دفاع اور جنرل کی میڈیا سے گفتگو

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن فوجی مشن انجام دیا، جس کے بعد ایران کو جنگ بندی کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ انہوں نے اس آپریشن “ایپک فیوری” کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے نتائج حاصل کیے جو کسی بھی امریکی صدر کے لیے منفرد ہیں۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ہیگسیتھ نے بتایا کہ اس کارروائی میں ایران کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، ایرانی نیوی اور فضائیہ شدید نقصان سے دوچار ہوئی، اور ایران کے سیکڑوں میزائل نشانے تک پہنچنے سے قبل ناکارہ کر دیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہوئے، جبکہ ایرانی سپریم کونسل اور دفاعی، عسکری اور انٹیلی جنس قیادت پر بھی قاطع ضرب لگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے زمین پر کارروائی کی، مگر کسی اہلکار کو زخمی نہیں ہونا پڑا۔ ہیگسیتھ نے زور دے کر کہا کہ پچھلے امریکی صدور ایران کے خلاف صرف بیانات دیتے رہے، لیکن صدر ٹرمپ نے عملی اقدامات کے ذریعے حقیقی نتائج دکھائے۔ ان کے بقول، ایران نے اب سمجھ لیا ہے کہ امریکہ کے سامنے لڑائی کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کی اہم ہتھیار سازی کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، اور یہ خطے میں امن کے لیے ایک حقیقی موقع پیدا کرتا ہے۔ ہیگسیتھ نے کہا: "صدر ٹرمپ کے علاوہ کوئی اور امریکی صدر ایسا مؤثر معاہدہ نہیں کر سکتا۔ ہم سب اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔"

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی اس 38 روزہ آپریشن کو شاندار کامیابی قرار دیا اور امریکی قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں جان دینے والے 13 امریکی فوجیوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور امریکہ ایران میں موجودہ سیز فائر کا خیرمقدم کرتا ہے۔

یہ آپریشن امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے سب سے بڑے اور فیصلہ کن فوجی اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں عسکری توازن اور امن کے امکانات پر گہرا اثر پڑنے کی توقع ہے۔

ٹیگز: